1 thought on “ابتدائی جماعتوں میں داخلہ بند: دارالعلوم دیوبند کے فیصلے پر مدارس میں بحث

  1. دار العلوم دیوبند نے چاہئے کہ عربی ششم کو دسویں کے مساوی قرار دے کر اعلان کردیں کہ کم از کم ہفتم میں داخلہ ہوگا۔ اس کے بعد داخلہ نہیں ہوگا۔
    اس طرح سے ایک طرف علاقائی مدرسے کا بھی فائدہ ہو جائے گا اور دوسری طرف طلبۂ دار العلوم کم از کم دو سال دار العلوم کی فضا میں رہ سکیں گے۔
    اور اسناد کا جو مسئلہ ٹیڑھا ہوتا ہے ، وہ بھی درست ہو جائے گا۔

    پھر یہ کہ دارالعلوم دیوبند اپنے ہم مشرب بڑے مدارس جیسے مظاہر، مراد آباد، وقف وغیرہ کو بھی اس کے لئے آمادہ کرے تاکہ یہ بڑے ادارے کی عمومی پالیسی بن جائے

    حفظ الرحمٰن حفیظ ابنِ مولانا عبد القوی
    مصنف مدارسِ اسلامیہ اور عصری تقاضے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *