(روایت کی خصوصی رپورٹ)
دارالعلوم دیوبند کی مجلسِ تعلیمی نے آئندہ تعلیمی سال 1347–1348ھ سے عربی اول، دوم اور سوم میں بیرونی طلبہ کے نئے داخلے بند کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ محض ایک انتظامی اعلان نہیں رہا بلکہ دینی مدارس کے پورے تعلیمی ڈھانچے پر ایک سنجیدہ بحث کا سبب بن گیا ہے۔ فیصلے کے مطابق ان ابتدائی جماعتوں میں اب صرف دارالعلوم کے اساتذہ و ملازمین کے بچے اور مقامی طلبہ (باشندگانِ دیوبند) ہی داخلے کے اہل ہوں گے، وہ بھی مقررہ شرائط کی تکمیل کے بعد، جبکہ تمام جماعتوں میں داخلہ بدستور مقابلے کے امتحان اور اعلیٰ نمبرات کی بنیاد پر ہوگا۔
یہ فیصلہ ایسے پس منظر میں سامنے آیا ہے جب دارالعلوم کے ذمہ داران ایک طویل عرصے سے اہلِ مدارس کو یہ مشورہ دیتے رہے ہیں کہ وہ اپنے یہاں عربی چہارم تک معیاری اور مضبوط تعلیم کا انتظام کریں اور طلبہ کو پوری تیاری کے بعد ہی عربی پنجم یا اس سے اوپر کی جماعتوں کے لیے دیوبند بھیجیں۔ رابطہ مدارس اسلامیہ دارالعلوم دیوبند کے اجلاسِ عاملہ میں بھی متعدد مرتبہ اس نکتے پر گفتگو ہو چکی ہے کہ ابتدائی درجات میں دارالعلوم میں داخلے کی سہولت نے ملک کے مختلف حصوں سے طلبہ کو بہت جلد دیوبند کی طرف متوجہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں قصبات، دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں کے مدارس میں طلبہ کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔ کئی مقامات پر عربی درجات کی جماعتیں چند طلبہ تک محدود ہو چکی ہیں اور مالی وسائل کی قلت نے ان اداروں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
فیصلے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہی وہ صورتحال تھی جس نے اس اقدام کو ناگزیر بنا دیا۔ ان کے مطابق ماضی میں دارالعلوم میں ابتدائی جماعتوں میں عمومی داخلہ نہیں ہوتا تھا، جس کے باعث علاقائی مدارس مضبوط رہتے تھے اور دینی تعلیم کی روشنی مختلف علاقوں میں پھیلی رہتی تھی۔ ان کا استدلال ہے کہ ابتدائی تعلیم اگر مقامی سطح پر ہو تو طلبہ کی بنیاد زیادہ مضبوط بنتی ہے، اساتذہ کو انفرادی توجہ کا موقع ملتا ہے، والدین پر مالی بوجھ کم ہوتا ہے اور دارالعلوم میں آنے والے طلبہ زیادہ سنجیدہ اور باصلاحیت ہوتے ہیں۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ فیصلہ نہ صرف علاقائی مدارس کے لیے زندگی کی رمق ہے بلکہ خود دارالعلوم کے لیے بھی ایک موقع ہے کہ وہ ابتدائی درجوں کے بوجھ سے نکل کر اعلیٰ تعلیم، فضیلت کے بعد کے شعبوں اور تخصصات پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔
تاہم اس فیصلے پر تنقیدی آوازیں بھی پوری شدت کے ساتھ سامنے آئی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف ابتدائی درجات کا نہیں بلکہ دارالعلوم کی فکری اور تربیتی روایت سے طلبہ کے تعلق کا ہے۔ ان کے مطابق جب طلبہ عربی پنجم، ششم یا براہِ راست دورۂ حدیث میں داخل ہوتے ہیں تو وہ دارالعلوم میں صرف چند برس ہی گزار پاتے ہیں، جو اس بات کے لیے کافی نہیں کہ وہ ادارے کے مزاج، اساتذہ کی صحبت اور دیوبندیت کی فکری روایت کو پوری طرح جذب کر سکیں۔ خاص طور پر دورۂ حدیث میں داخل ہونے والے طلبہ کے بارے میں یہ رائے عام ہے کہ وہ پہلے ہی اپنے سابقہ مدارس کے رنگ میں رچے بسے ہوتے ہیں اور ایک سال کے مختصر قیام میں نہ مضبوط نسبت قائم ہو پاتی ہے اور نہ ادارہ جاتی تربیت کا حق ادا ہوتا ہے۔ بعض طلبہ کے بقول، دورہ کا سال اس ہجوم میں گزر جاتا ہے کہ دارالعلوم کی فضا تو محسوس ہوتی ہے، مگر دیوبندیت کا رنگ پوری طرح نہیں چڑھ پاتا۔
اسی تناظر میں کچھ اہلِ علم نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ اگر واقعی دارالعلوم کی روایت اور فکری شناخت کو منتقل کرنا مقصود ہے تو پنجم، ششم اور ہفتم میں داخلوں کی تعداد بڑھائی جائے اور دورۂ حدیث میں داخلہ محدود، متعین اور سخت معیار کے تحت رکھا جائے۔ ان کے نزدیک کم از کم دو سال طالب علم کو دارالعلوم کے ماحول میں رہنے کا موقع ملنا چاہیے تاکہ وہ محض سند کا حامل نہ ہو بلکہ ادارے کی فکر اور تہذیب سے بھی وابستہ ہو سکے۔
اس پوری بحث کے دوران ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آیا ہے، اور وہ ہے علاقائی مدارس کی اپنی ذمہ داری۔ کئی اہلِ مدارس نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ ابتدائی درجات میں تدریس کا معیار اکثر کمزور ہے، اساتذہ کی دلچسپی محدود رہتی ہے اور محض ترجمے پر اکتفا کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں طلبہ کی بنیاد مضبوط نہیں ہو پاتی۔ ان کے مطابق اگر یہ کمزوریاں دور نہ کی گئیں تو دارالعلوم کا یہ فیصلہ اپنے مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گا اور طلبہ کا رجحان پھر کسی نہ کسی صورت بڑے اداروں کی طرف ہی رہے گا۔
یوں دارالعلوم دیوبند کا یہ فیصلہ دینی تعلیم کے پورے نظام کے لیے ایک آئینہ بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک طرف علاقائی مدارس کو مضبوط کرنے اور تعلیمی توازن بحال کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے، تو دوسری طرف دارالعلوم کی فکری شناخت، تربیتی تسلسل اور دیوبندیت کے عملی مفہوم سے جڑے سوالات ہیں۔ یہ بحث واضح کرتی ہے کہ معاملہ محض داخلوں کی بندش یا اجازت سے بڑھ کر دینی تعلیم کی منصوبہ بندی، اساتذہ کے ذوق، ادارہ جاتی بصیرت اور اجتماعی ذمہ داری کا ہے، جس کا فیصلہ صرف اعلانات کے بجائے عملی اقدامات اور وقت کے نتائج کریں گے۔

دار العلوم دیوبند نے چاہئے کہ عربی ششم کو دسویں کے مساوی قرار دے کر اعلان کردیں کہ کم از کم ہفتم میں داخلہ ہوگا۔ اس کے بعد داخلہ نہیں ہوگا۔
اس طرح سے ایک طرف علاقائی مدرسے کا بھی فائدہ ہو جائے گا اور دوسری طرف طلبۂ دار العلوم کم از کم دو سال دار العلوم کی فضا میں رہ سکیں گے۔
اور اسناد کا جو مسئلہ ٹیڑھا ہوتا ہے ، وہ بھی درست ہو جائے گا۔
پھر یہ کہ دارالعلوم دیوبند اپنے ہم مشرب بڑے مدارس جیسے مظاہر، مراد آباد، وقف وغیرہ کو بھی اس کے لئے آمادہ کرے تاکہ یہ بڑے ادارے کی عمومی پالیسی بن جائے
حفظ الرحمٰن حفیظ ابنِ مولانا عبد القوی
مصنف مدارسِ اسلامیہ اور عصری تقاضے