اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی ایکٹ کے خلاف اہلِ مدارس کا ہائی کورٹ سے رجوع
( روایت ڈاٹ کام)
اتراکھنڈ میں موجودہ ریاستی حکومت کی جانب سے مدرسہ بورڈ کو ختم کر کے اس کے متوازی اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی ایکٹ نافذ کیے جانے کے خلاف شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ اقلیتی تعلیمی اداروں سے وابستہ ذمہ داران نے اس ایکٹ کو آئینِ ہند کی اُن بنیادی دفعات کے منافی قرار دیا ہے جن کے تحت اقلیتوں کو اپنے دین، تعلیم، تہذیب اور تمدن کے تحفظ اور بقا کی آئینی ضمانت حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ضمانت کسی رعایت کا نام نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ جمہوری حق ہے۔
اہلِ مدارس کے مطابق اس ایکٹ کے ذریعے مدارس کی خودمختاری اور دستوری آزادی کو قانونی شکنجے میں کسنے کی کوشش کی گئی ہے اور مدارس کی شناخت کو بتدریج ختم کرنے کا راستہ ہموار ہو رہا ہے۔ ریاست میں اب تک 217 مدارس بند کیے جا چکے ہیں، جس کے بعد ان خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ انہی حالات کے پیشِ نظر مدارسِ اسلامیہ کے وجود، تشخص اور تحفظ کے لیے اس ایکٹ کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اجتماعی فیصلہ کیا گیا۔
اسی مقصد کے تحت صوبے بھر کے اہلِ مدارس نے باہمی اتفاق اور تعاون سے “تحفظِ مدارس اتراکھنڈ” کے عنوان سے قانونی جدوجہد کو منظم شکل دی۔ مقدمے کی پیروی کے لیے سپریم کورٹ کے سینئر اور تجربہ کار وکلاء کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، جن میں ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد (سینئر ایڈوکیٹ، سپریم کورٹ)، ایڈوکیٹ طلحہ عبدالرحمن، ایڈوکیٹ فیضان خان اور ایڈوکیٹ عمران علی خان شامل ہیں۔
پٹیشن ایڈوکیٹ طلحہ عبدالرحمن اور ایڈوکیٹ فیضان خان، دونوں آن ریکارڈ ایڈوکیٹس سپریم کورٹ، نے تیار کی ہے، جبکہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں دلائل ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد بطور سینئر ایڈوکیٹ پیش کریں گے۔ پٹیشن ہائی کورٹ میں باقاعدہ طور پر داخل کی جا چکی ہے اور سماعت 6 جنوری 2026، بروز منگل مقرر ہے۔
اس مقدمے میں قاری سید مبشر، مہتمم مدرسہ قادریہ احیاء العلوم، سکروڈہ، قاری محمد صادق، ناظم مدرسہ ارشاد العلوم، ڈھنڈہیرہ، مولانا محمد ہارون، صدر ضلع ہریدوار جمعیۃ العلماء اتراکھنڈ، اور پروفیسر ودود اختر، نائب سیکریٹری جمعیۃ العلماء اتراکھنڈ بطور مدعی شامل ہیں۔
ایکٹ کی کمزوریاں اور اعتراضات:
اہلِ مدارس کے مطابق اس ایکٹ میں کئی بنیادی خامیاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام مدارس کو ازسرِ نو رجسٹریشن کا پابند بنانا اور نئی اتھارٹی کے تحت لانا آزاد دینی اداروں کی حیثیت کو مجروح کرتا ہے۔ نصاب کی منظوری کو ریاستی بورڈ سے مشروط کرنا مدارس کی صدیوں پرانی نصابی خودمختاری پر براہِ راست قدغن ہے، جبکہ بعض دفعات میں استعمال کی گئی مبہم اصطلاحات—جیسے اغراض و مقاصد کی تشریح، مذہبی جبر اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی—عملی نفاذ میں من مانی کارروائیوں کا راستہ کھول سکتی ہیں۔ مزید یہ کہ مکاتب جیسے بنیادی دینی مراکز کے بارے میں واضح رہنمائی نہ ہونا خدشات کو اور بڑھاتا ہے۔ مدعیان کے مطابق انہی قانونی اور عملی نقائص کی بنیاد پر اس ایکٹ کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔
مدعیان اور سرپرستوں کا کہنا ہے کہ یہ قانونی مقدمہ دراصل مدارس کی شناخت اور بقا کی جنگ ہے، جسے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے پوری مضبوطی کے ساتھ لڑا جائے گا۔
