Source: Minority Welfare, Goverment Of Uttarakhand
ارسلان امین
اتراکھنڈ حکومت نے ریاستی مدرسہ بورڈ کو ختم کر کے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جسے محض تعلیمی اصلاح کے دائرے میں محدود کرنا مشکل ہے۔ پشکر سنگھ دھامی کی قیادت میں بی جے پی حکومت نے مدرسہ بورڈ کی جگہ اتراکھنڈ اسٹیٹ مائناریٹی ایجوکیشن اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے، جو یکم جولائی 2026 سے مکمل طور پر کام شروع کرے گی۔ گورنر کی منظوری کے بعد اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم تعلیمی برابری، جدید نصاب اور یکساں معیار کے قیام کے لیے ضروری تھا۔ سرکاری موقف کے مطابق مدارس اور دیگر اقلیتی تعلیمی اداروں کو ریاست کے مرکزی تعلیمی نظام سے جوڑا جائے گا، تاکہ طلبہ کو جدید مضامین، آگے کی تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔ اسی کے تحت اب تمام اقلیتی تعلیمی اداروں کو اتراکھنڈ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن سے منظوری حاصل کرنا ہوگی اور وہ الگ تعلیمی نظام کے تحت کام نہیں کریں گے۔
لیکن اس فیصلے نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ مدرسہ بورڈ کو ختم کرنے کا بل گزشتہ اسمبلی اجلاس میں منظور کیا گیا تھا، جس کے بعد گورنر کی منظوری سے نئی اتھارٹی تشکیل دی گئی۔ اس اتھارٹی کو نہ صرف نگرانی بلکہ نصاب، تعلیم کی نوعیت اور اداروں کی سمت طے کرنے کے اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مدارس کی وہ خودمختاری، جو آئین اقلیتوں کو دیتا ہے، اب براہِ راست ریاستی کنٹرول کے دائرے میں آ جائے گی۔
اقلیتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مسئلہ جدید تعلیم یا نصاب میں بہتری کا نہیں، بلکہ اختیار اور خودمختاری کا ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت واقعی اصلاح چاہتی تو مدارس کے موجودہ ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے سہولتیں فراہم کی جا سکتی تھیں، نہ کہ پورے نظام کو ختم کر کے ایک نئی اتھارٹی مسلط کی جاتی۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا حق دیتا ہے، اور یہ فیصلہ اسی حق پر قدغن لگاتا ہے۔
حکومت کی دلیل ہے کہ مدارس کے طلبہ اب صرف دینی تعلیم تک محدود نہیں رہیں گے اور سائنس، ریاضی، سماجی علوم اور کمپیوٹر سائنس جیسے مضامین کو ترجیح دی جائے گی۔ بظاہر یہ بات ترقی اور جدیدیت کے حق میں محسوس ہوتی ہے، مگر ناقدین کا سوال یہ ہے کہ کیا مذہبی شناخت اور تعلیمی خودمختاری کی قیمت پر یہ جدیدیت قابلِ قبول ہے؟
یہ فیصلہ کسی ایک ریاست تک محدود نہیں۔ آسام، اتر پردیش اور اب اتراکھنڈ میں مسلمانوں سے جڑے تعلیمی اور مذہبی اداروں پر ریاستی مداخلت کا ایک واضح سلسلہ نظر آتا ہے۔ کہیں مدارس بند کیے جا رہے ہیں، کہیں سروے اور سیلنگ کی کارروائیاں ہو رہی ہیں، اور کہیں نصاب اور نظم و نسق پر براہِ راست کنٹرول قائم کیا جا رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلم مخالف فیصلوں میں ریاستوں کے درمیان ایک غیر اعلانیہ مسابقت چل رہی ہے۔
یہاں بی جے پی کی سیاست کا ایک بنیادی تضاد بھی سامنے آتا ہے۔ ایک طرف مسلمانوں کو سیاست اور سماج کے حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش کی جاتی ہے، دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ یہی سیاست مسلمانوں کے ذکر کے بغیر چل ہی نہیں سکتی۔ جس دن مسلمانوں کو سیاسی بیانیے سے نکال دیا گیا، اسی دن نفرت کی وہ سیاست بھی کمزور پڑ جائے گی جس پر بھگوا سیاست کھڑی ہے۔ ناقدین کے مطابق بی جے پی کو مسلمانوں کی ضرورت شمولیت کے لیے نہیں، بلکہ مخالفت کے لیے ہے۔
اتراکھنڈ میں مدرسہ بورڈ کا خاتمہ اسی بڑے سیاسی بیانیے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ نئی اتھارٹی کام کرے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے اثرات اقلیتی اعتماد، آئینی حقوق اور سماجی ہم آہنگی پر کیا پڑیں گے۔ حکومت اسے اصلاح کا نام دے رہی ہے، مگر اقلیتی حلقوں میں اسے شناخت، خودمختاری اور حقوق پر ایک اور ضرب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم مخالف فیصلوں کی اس دوڑ میں کون سی ریاست کہاں تک جاتی ہے، اور کب تک آئینی حقوق کو اصلاحات کے نام پر محدود کیا جاتا رہے گا۔ وقت ہی بتائے گا کہ یہ فیصلہ واقعی تعلیمی بہتری لاتا ہے یا معاشرے میں خلیج کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
