اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ نفرت انگیز تقاریر میں سرفہرست، تازہ بیان بھی مسلم مخالف
دہرادون / نئی دہلی:
اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ایک بار پھر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سخت اور اشتعال انگیز زبان استعمال کرتے ہوئے مذہب کی تبدیلی، فسادات، ’’لو جہاد‘‘، ’’لینڈ جہاد‘‘ اور ’’تھوک جہاد‘‘ جیسے الفاظ دہرائے ہیں۔ ان کے یہ تازہ بیانات ہریدوار میں دیو سنسکرتی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام پرچم کشائی کی ایک تقریب کے دوران سامنے آئے۔
یہ بیانات ایسے وقت دیے گئے ہیں جب انڈیا ہیٹ لیب اور سنٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کی حالیہ سالانہ رپورٹ میں پشکر سنگھ دھامی کو سال 2025 کے دوران سب سے زیادہ نفرت انگیز تقاریر کرنے والا رہنما قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دھامی کی مجموعی طور پر 71 نفرت انگیز تقاریر ریکارڈ کی گئی ہیں، جو ملک میں سب سے زیادہ ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران نفرت انگیز تقاریر کرنے والے دس سرفہرست افراد میں سے چھ سیاست دان تھے۔ اس فہرست میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، بی جے پی رہنما اشونی اُپادھیائے، مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے اور تلنگانہ کے رکن اسمبلی ٹی راجا سنگھ کے نام بھی شامل ہیں۔ تاہم تعداد کے اعتبار سے دھامی سب سے آگے رہے۔
ہریدوار کی تقریب سے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے ’’تقسیم پیدا کرنے والی ذہنیت‘‘ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس ہزار ایکڑ سے زائد سرکاری زمین کو مبینہ تجاوزات سے آزاد کرایا گیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوے اکثر انتظامی کارروائیوں کو جائز ٹھہرانے کے لیے کیے جاتے ہیں، جن کا ہدف زیادہ تر مسلم آبادی بنتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کو ختم کرنے، نصاب پر پابندیاں عائد کرنے اور تقریباً 250 مدارس کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دے کر بند کرنے کے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات مبینہ علیحدگی پسند رجحانات کو روکنے کے لیے ضروری تھے۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کے بیانات دینی تعلیم کو مشکوک بنا کر پوری مسلم برادری کو شک کے دائرے میں کھڑا کرتے ہیں۔
اسی خطاب میں دھامی نے ’’آپریشن کالنیَمی‘‘ کا حوالہ بھی دیا اور اسے ایسے افراد اور گروہوں کے خلاف مہم قرار دیا جو مبینہ طور پر سناتن سنسکرتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اصطلاحات اقلیتوں کے خلاف مستقل شبہ اور نفرت کو فروغ دیتی ہیں اور ہجومی ذہنیت کو تقویت دیتی ہیں۔
نفرت انگیز تقاریر پر کام کرنے والی تنظیموں اور شہری آزادیوں کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات آئینی اقدار اور سماجی ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق نفرت پھیلانے والی تقاریر پر ازخود نوٹس لیا جائے اور مؤثر قانونی کارروائی کی جائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ محض وقتی سیاست کا مظہر ہے۔ وقت بدلتا ہے اور طاقت کے نشے میں دیے گئے بیانات ہی کسی رہنما کی اصل پہچان بن جاتے ہیں۔ اگر حکمرانی کے میدان میں کوئی ٹھوس کام ہوتا تو یاد اسی بنیاد پر رکھا جاتا، لیکن نفرت کے سہارے بنائی گئی شناخت خود اپنے انجام کی گواہی بن جاتی ہے۔
