فوٹو: نمائندہ/تصوری تصویر : اقلیتی تعلیم اور محدود بجٹ کی علامتی عکاسی
جنید احمد حمدانی
“وکست بھارت” اور “سب کا ساتھ، سب کا وکاس” جیسے نعروں کے ذریعے اقلیتی برادریوں، خصوصاً مسلم کمیونٹی کی تعلیمی، سماجی اور اقتصادی ترقی کا جو بیانیہ پیش کیا جاتا ہے، وہ بظاہر جامع اور ہمہ گیر معلوم ہوتا ہے۔ تاہم جب ان دعوؤں کو اعداد و شمار اور بجٹ کی حقیقتوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک واضح مالیاتی تضاد سامنے آتا ہے۔ اقلیتوں کو بااختیار بنانے کی پالیسیوں کا دائرہ الفاظ میں وسیع نظر آتا ہے، مگر ان کے لیے مختص مالی وسائل محدود اور غیر مستحکم دکھائی دیتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں وزارتِ اقلیتی امور (MoMA) کے مجموعی بجٹ میں اتار چڑھاؤ، مالی سال 2023-24 میں تقریباً 38 فیصد کمی، مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ (MANF) کا خاتمہ، اور تعلیمی فنڈز کے استعمال کی شرح میں نمایاں کمی، یہ سب ایسے عوامل ہیں جو اقلیتی تعلیمی پالیسی کی سمت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یہ صورت حال محض انتظامی کمزوری کا معاملہ نہیں، بلکہ ترجیحات کے تعین سے بھی وابستہ دکھائی دیتی ہے۔ اس مضمون میں وزارتِ اقلیتی امور کے مالیاتی رجحانات، تعلیمی وظائف میں کٹوتیوں اور فنڈز کے محدود استعمال (Underutilization) کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے
اقلیتی بجٹ میں کٹوتیاں، توازن کا بحران اور مالیاتی تضاد
اقلیتی امور کے لیے مختص رقم دیگر عمومی بجٹوں کے مقابلے نہ صرف یہ کہ مجموعی طور پہ کم ہے بلکہ اس میں گذشتہ جند سالوں میں تیزی سے گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ مالی سال 2022 -23 میں، وزارت اقلیتی امور کے لیے مختص کل بجٹ 5020.50 کروڑ تھا، جس کو مالی سال 2023-24 میں 38 فیصد کم کر کے 3097 کروڑ کردیا گیا، اگرچہ رواں مالی سال 2025 – 26 کا بجٹ ہلکے سے اضافے کے ساتھ 3350 کروڑ کردیا گیا ہے، اس کے باوجود یہ گذشتہ سالوں کے مقابلے کافی کم ہے جسے محض تلافی کی ہلکی سی کوشش کے طور پہ دیکھا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، وزارت اقلیتی امور کے لیے موجودہ مختص بجٹ افراط زر (inflation) کی وجہ سے گذشتہ ایک دہائی قبل مختص بجٹ کے مساوی ہوچکاہے۔ اس کے برعکس، مرکزی وزارت تعلیم نے عمومی تعلیم، ہنرمندی، اور روزگار کے لیے مجموعی طور پہ 1.48 لاکھ کروڑ کا بجٹ مختص کرنے پہ روشنی ڈالی ہے، جس کے بالمقابل اقلیتی امور کے لیے مختص بجٹ صرف 3350 کروڑ سے معلوم ہوتا ہے کہ اقلیتی تعلیم کی مخصوص ضروریات کو قومی تعلیمی ترجیحات میں کتنا کم وزن حاصل ہے۔ اگر اقلیتی تعلیم کی مخصوص ضرورتوں کو ان کے تناسب اور پسماندگی کی شرح کے مطابق ہندوستان کی قومی تعلیمی ترجیحات میں شامل نہیں کیا گیا تو ترقی کوششیں محض علامتی بن کے رہ جائیں گی۔
بجٹ کے درست استعمال کا بحران، انتظامی نا اہلی اور بدعنوانیاں
بجٹ کی تخصیص سے زیادہ تشویشناک بات اور اہم مسئلہ اس کے نفاذ، اس سے استفادے اور درست استعمال کا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جتنا بجٹ مختص ہوتا ہے قومی رفاہ اور تعلیمی ضرورتوں میں اس کا آدھا بھی استعمال نہیں ہوتا، مالی سال 2022-23 میں 5020.50 کروڑ میں سے اقلیتی امور کے لیے استعمال شدہ حقیقی رقم صرف 803 کروڑ روپے تھے جو کل بجٹ کا صرف 16 فیصد ہی ہے۔ یہ اعداد و شمار وزارت کی اسکیموں کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں انتظامی نااہلی یا فنڈز سے استفادے کو دانستہ روکنے کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ استفادہ کی شرح میں کمی کا سبب صرف انتظامی کمزوری ہی نہیں بلکہ زمینی سطح پر غبن اور بدعنوانی بھی شامل ہے۔ جھارکھنڈ میں اقلیتی اسکالرشپ گھوٹالہ کا انکشاف اس بات کی تصدیق کرتا ہے، جہاں بینک ملازمین اور اسکول انتظامیہ سمیت دلالوں کا ایک گینگ شامل تھا جو طلباء کے کھاتے کھلوا کے ان کے فنگر پرنٹس اور آدھار کارڈ کا استعمال کر کے لین دین کرتے تھے، جس میں سے طلبہ کو معمولی رقم نقد دے کر اس کا بڑا حصہ خود اپنی جیب میں ڈال لیا کرتے تھے۔ تعلیمی ضرورتوں میں بجٹ سے محدود، غلط یا نہ کے برابر استفادے (underutilization) کا براہ راست اثر میدان میں موجود تعلیمی اسکیموں کی کامیابی اور مستحقین تک فوائد کی منتقلی پر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں قوم کو پسماندگی سے اوپر اٹھانے کوششیں بے سود نظر آتی ہیں۔
وظائف کی پالیسی میں تبدیلی اور کٹوتیاں
حکومت نے وزارت اقلیتی امور کی تعلیمی امداد کے حوالہ سے پالیسیوں میں تبدیلی کی ہے جس کے تحت اسکالرشپ اسکیموں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں ہوئیں ہیں یا انہیں منسوخ کردیا گیا ہے۔ پری میٹرک اسکالرشپ، جس کا مقصد اقلیتی طلباء کی مالی امداد اور انہیں اسکول کی طرف راغب کرنا تھا، اسے سال 2022-23 سے اول تا ہشتم کی جماعتوں کے طلباء کے لیے مکمل طور پر منقطع کردیا گیا ساتھ ہی ہشتم سے اوپر کے طلباء کی اسکالرشپ اسکیم بجٹ میں تدریجی کٹوتی کے بعد یہ رقم مالی سال 2024-25 تک محض 90 کروڑ رہ گئی، جبکہ سال 2022-23 میں اس کا تخمینہ 1425 کروڑ تھا۔ سرکاری مدارس کی جدید کاری اور تعلیمی ترقی کی اسکیموں کے لیے مختص فنڈز کو انتہائی کم کردیا گیا ہے۔ سال 2024-25 میں ابتداء اس مد میں 2 کروڑ کا بجٹ مختص کیا گیا تھا مگر نظر ثانی کے بعد یہ رقم صرف 1 لاکھ کردی گئی اور سال 2025-26 میں اسی بجٹ کو برقرار رکھا گیا۔ اقلیتی برادری کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلباء کے لیے وزارت اقلیتی امور کی جانب سے نافذ کردہ اسکالرشپ مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ (MANF) کو تعلیمی سال 2022-23 میں اس بنا پر معطل کردیا گیا کہ یہ دیگر قومی فیلوشپ اسکیموں جیسے OBC, SC سے متداخل ہے، دیگر اسکیموں کے ہوتے ہوئے اس کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دیگر فیلوشپس کا ہونا MANF کی ضرورت کو ختم نہیں کرتا بلکہ تعلیمی میدان میں مقابلہ بڑھاتا ہے، جس کا براہ راست نقصان ان مسلم طلباء کو ہوتا ہے جو محدود وسائل کے حامل ہیں اور اپنے تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔
خلاصہ
مذکورہ اعداد و شمار اور حقائق سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ مسلمانوں کے تعلیمی میدان میں ریاستی مالیاتی رویہ ایک مجروح عزم ہے، حکومتی سطح پر ترقی اور بااختیار بنانے کے دعوے کھوکھلے اور بے بنیاد ہیں، بجٹ، اسکالرشپ اور دیگر مالی امدادوں میں غیر معمولی کٹوتی، ہیر پھیر، بدعنوانی، اور انتظامی نااہلی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بجٹ سازی اور مالی امداد کا عمل مالیاتی ضرورت پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس سے پالیسی سازوں کی نیک نیتی کا شہرہ مقصود ہے۔ جب تک ریاستی مشینری کا عمل اقلیت کی تعلیمی ضرورتوں کو پورا نہیں کرے گا، مالیاتی تخصیص ہمیشہ چھوٹی رقم ہی رہے گی۔ اقلیت کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لیے ٹھوس مالیاتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسکالرشپ کی تقسیم میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نظام کو سخت نگرانی کے ساتھ نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ اقلیت کی تعلیم میں مالی معاونت کو قومی انسانی وسائل کے ترقیاتی منصوبے کے طور پہ دیکھا جانا چاہیے تاکہ آبادی کے ایک بڑے حصے کی پسماندگی کو دور کر کے قومی ترقی میں کلیدی معاونت ممکن ہو۔
