اندھیری، ممبئی: مسجد و مدرسہ کا تنازع پھر زیرِ بحث، ٹرسٹیز نے عدالت کے تحت حل پر زور دے دیا
ممبئی (خصوصی رپورٹ):
اندھیری ویسٹ، ایم آئی ڈی سی میں واقع مدرسہ و مسجد غوثیہ اہلِ سنت سے جڑا تنازع ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ 2009 سے بمبئی ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت اس معاملے میں اب مسجد و مدرسہ کے ٹرسٹیز نے بات چیت کے ذریعے حل کی کوششیں تیز کر دی ہیں، تاہم انہوں نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ کسی بھی سمجھوتے کی حتمی توثیق عدالت ہی کرے گی۔
ٹرسٹیز کے مطابق مسجد اور مدرسے کے مستقبل پر داخلی سطح پر کئی نشستیں ہو چکی ہیں۔ ان نشستوں میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بلڈر سے کسی بھی ممکنہ مفاہمت کو عدالت کے سامنے رکھنا ضروری ہوگا، کیونکہ مقدمہ برسوں سے عدالتی کارروائی میں ہے۔
اس وقت نماز ایک عارضی ہال میں ادا کی جا رہی ہے، جو بلڈر کی جانب سے فراہم کیا گیا ہے۔ ٹرسٹیز کا کہنا ہے کہ یہ انتظام مستقل نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ مسجد کی باقاعدہ اور محفوظ تعمیر کا ہے، جو طویل عرصے سے التوا میں ہے۔
ٹرسٹیز نے واضح کیا ہے کہ اگر بلڈر نئی مسجد تعمیر کرے، نماز کے لیے کشادہ جگہ فراہم کرے اور ساتھ والی نئی عمارت میں تین اضافی فلیٹس دے، تو وہ مفاہمت پر غور کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق پرانے معاہدے میں صرف دو فلیٹس کی بات تھی، جو موجودہ حالات کے مطابق ناکافی ہے۔
مدرسہ و مسجد رضویہ غوثیہ اہلِ سنت کی انتظامی کمیٹی سے وابستہ اقبال مینیار نے کہا کہ تاخیر نے مقامی مسلم آبادی کو شدید متاثر کیا ہے۔
“ہم پندرہ برس سے ایک مناسب مسجد کے منتظر ہیں۔ اگر ہمارے مطالبات تسلیم کیے جاتے ہیں تو ہم نیا معاہدہ کرنے کو تیار ہیں، مگر فیصلہ عدالت کے بغیر ممکن نہیں،” انہوں نے کہا۔
اقبال مینیار نے الزام لگایا کہ بلڈر نے حالیہ دنوں میں اس مقام پر تعمیر کی کوشش کی، جہاں پہلے مسجد کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ان کے مطابق 17 دسمبر کو جگہ صاف کرنے اور تعمیر کے آغاز کی علامتی رسم کی کوشش کی گئی، جس پر ٹرسٹیز اور مقامی لوگوں نے شدید احتجاج کیا۔
“عوامی مخالفت کے بعد بلڈر کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ آج بھی مسجد کی پرانی بنیاد وہیں موجود ہے،” انہوں نے بتایا۔
ٹرسٹیز نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد کا تحفظ، اس کی مکمل ازسرِ نو تعمیر اور نمازیوں کے لیے بہتر اور محفوظ جگہ ان کے بنیادی مطالبات ہیں۔ اگر بلڈر ان شرائط کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو پھر اس تنازع کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔
ادھر مقامی مسلمانوں نے ٹرسٹیز کے مؤقف کو درست قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاملہ محض زمین یا فلیٹس کا نہیں، بلکہ ایک عبادت گاہ کے وقار، سلامتی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا ہے۔
