بجٹ کے بعد سوال ہی سوال: اقلیتوں کے لیے کیا بچا؟
افروز عالم ساحل
ہر سال یکم فروری کو بجٹ کے دن ایک مانوس منظر دہرایا جاتا ہے۔ وزارت اقلیتی امور کے لئے کسی معمولی اضافے کا اعلان ہوتا ہے، سرخیاں بنتی ہیں، اور ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے نعروں کو نئی زندگی مل جاتی ہے۔ اس بار بھی یہی ہوا۔ 3400 کروڑ روپے کے اعلان کے ساتھ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ حکومت اقلیتوں کے تئیں سنجیدہ ہے۔
مگر سوال یہ نہیں کہ اعلان کیا ہوا، سوال یہ ہے کہ اس اعلان کے بعد کیا ہوا؟ اور یہی وہ مقام ہے جہاں سرکاری دعوے بکھرنے لگتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ وزارت اقلیتی امور کا بجٹ برسوں سے ایک مخصوص پیٹرن پر چل رہا ہے: پہلے اعلان، پھر نظر ثانی، اور آخر میں یا تو ناقابل ذکر خرچ یا بالکل خاموشی۔ 2024-25 میں 3183 کروڑ روپے کا اعلان ہوا، جو گھٹ کر 1868 کروڑ رہ گیا، اور خرچ محض 714 کروڑ ہوا۔ 2023-24 میں اعلان 3097 کروڑ کا تھا، مگر خرچ صرف 154 کروڑ۔ اب 2026-27 کے لیے 3400 کروڑ روپے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ اصل کہانی چند مہینوں بعد سامنے آئے گی۔
سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ کٹوتی ہمیشہ انہی اسکیموں میں ہوتی ہے جو اقلیتوں کو تعلیم کے ذریعے خود مختار بنانے کے لیے بنائی گئی تھیں۔ میرٹ-کم-مینز اسکالرشپ، جو پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کا واحد مضبوط سہارا تھی، آج عملی طور پر ختم کی جا رہی ہے۔ مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ، جس نے ہزاروں مسلم نوجوانوں کو ایم فل اور پی ایچ ڈی تک پہنچنے کا حوصلہ دیا، کاغذی طور پر بند ہو چکی ہے، اور زمینی سطح پر اس کی ادائیگیاں بھی غیر یقینی ہو چکی ہیں۔
پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپس کی حالت اس سے مختلف نہیں۔ اعداد و شمار چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ یہ اسکیمیں صرف بجٹ دستاویزات میں زندہ ہیں، حقیقت میں نہیں۔ جب اسکالرشپ کے لیے کروڑوں کا اعلان ہو اور خرچ چند لاکھ یا چند کروڑ تک محدود رہ جائے، تو یہ انتظامی ناکامی نہیں بلکہ پالیسی کا اشارہ ہوتا ہے۔
یہ محض مالی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک سیاسی انتخاب ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان سوال کرتے ہیں، روزگار مانگتے ہیں، اور برابری کا دعویٰ کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اقلیتوں کی تعلیم پر خرچ ہونے والا پیسہ حکومت کو سب سے زیادہ کھٹکتا ہے۔ مدرسوں سے متعلق تعلیمی اسکیموں کا تقریباً صفر ہو جانا اسی ذہنیت کی توسیع ہے۔
مودی حکومت کی پالیسیوں کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ حکومت اقلیتوں کا “اتنا وکاس” کرنا چاہتی ہے کہ انہیں کسی سرکاری اسکیم کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ دعووں کی زبان میں اسے ’سب کا ساتھ‘ کہا جاتا ہے، مگر عملی سیاست میں اس کا مطلب اقلیتوں سے جڑی اسکیموں کا خاموشی سے خاتمہ بنتا جا رہا ہے۔
یہ محض تاثر نہیں، بلکہ پچھلے دس برسوں میں لیے گئے فیصلوں کی ایک لمبی فہرست اس کی گواہی دیتی ہے۔ مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اقلیتوں سے متعلق متعدد اہم اسکیمیں یا تو بند کر دی گئیں یا رفتہ رفتہ اس حد تک کمزور کر دی گئیں کہ ان کا وجود محض کاغذی رہ گیا۔ مولانا آزاد میڈیکل ایڈ اسکیم، جسے ’صحت اسکیم‘ کے طور پر جانا جاتا تھا، مکمل طور پر ختم کر دی گئی۔ نویں جماعت میں داخل ہونے والی اقلیتی لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے شروع کی گئی ’سائیکل یوجنا‘ 2014 ہی میں بند ہو گئی—وہ بھی ایسے وقت میں جب تعلیم میں صنفی عدم مساوات ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔
اسی طرح مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والی کئی اہم تعلیمی اسکیمیں پہلے ختم کی گئیں، اور اب خود یہ فاؤنڈیشن ہی بند ہو چکی ہے۔ یہ سب اس کے باوجود ہوا کہ حکومت نے مختلف مواقع پر اس ادارے کو لے کر بڑے بڑے وعدے اور دعوے کیے تھے۔ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام، ’نئی منزل‘ (جو تعلیم اور روزگار کو جوڑنے کی ایک مربوط کوشش تھی)، USTTAD جیسی روایتی ہنر و فن کی تربیت کی اسکیم، اقلیتی خواتین کی قیادت سازی کا پروگرام، اور ’ہماری دھروہر‘ جیسی ثقافتی ورثے کے تحفظ کی اسکیمیں، سب کو ایک ایک کر کے ختم کر دیا گیا۔
تعلیم کے میدان میں اقلیتی طلبہ کے لیے یو پی ایس سی، ایس ایس سی اور ریاستی پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کی تیاری سے متعلق امدادی اسکیموں کا بند ہونا اس بات کی واضح مثال ہے کہ ریاست کس سمت میں بڑھ رہی ہے۔ نیشنل مائنارٹیز ڈیولپمنٹ اینڈ فنانس کارپوریشن (NMDFC) بھی اب بندش کے دہانے پر کھڑی ہے، اگرچہ اس سال اس کے لیے محض پانچ کروڑ روپے کا علامتی بجٹ رکھا گیا ہے—جسے حقیقی بحالی کہنا مشکل ہے۔
بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے دی جانے والی Interest Subsidy on Educational Loans اسکیم کا حال بھی مختلف نہیں۔ مالی سال 2025-26 میں اس کے لیے 8.16 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، مگر بعد میں اسے نظرِ ثانی کے نام پر گھٹا کر 0.01 کروڑ کر دیا گیا۔ پچھلے برسوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس اسکیم کے تحت عملی طور پر کوئی رقم خرچ ہی نہیں کی گئی۔ اس سال اگرچہ 6.50 کروڑ روپے کا اعلان ہوا ہے، مگر ماضی کے تجربات یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا یہ رقم واقعی مستحقین تک پہنچ پائے گی، یا یہ بھی محض بجٹ دستاویزات تک محدود رہے گی۔
یہ تمام فیصلے مل کر ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں: کیا اقلیتوں کی فلاح و بہبود ریاست کی ترجیح میں اب بھی شامل ہے، یا پھر ’وکاس‘ کا یہ ماڈل دراصل ایک منظم پسپائی کی صورت اختیار کر چکا ہے؟ یہ سوال محض اقلیتوں کا نہیں، بلکہ ایک جمہوری ریاست کے ضمیر کا امتحان ہے، اور اسی امتحان میں حکومت بار بار کٹہرے میں کھڑی نظر آتی ہے۔
غورطلب رہے کہ وزارت اقلیتی امور 2006 میں اس احساس کے تحت قائم کی گئی تھی کہ مسلمان ملک کا سب سے پسماندہ طبقہ ہیں اور ریاست کو اس خلا کو پر کرنا ہوگا۔ مگر آج بجٹ کی کٹوتیاں، اسکیموں کا خاتمہ اور خرچ نہ ہونے والی رقوم یہ سوال کھڑا کرتی ہیں کہ کیا حکومت واقعی اس وزارت کو زندہ رکھنا چاہتی ہے، یا محض اس کا ڈھانچہ باقی رکھ کر ذمہ داری سے بچنا چاہتی ہے۔
کڑوی حقیقت یہ ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اب حاشیے پر نہیں رہی، یہ پالیسی، زبان اور بجٹ میں جھلکنے لگی ہے۔ ایسے میں اقلیتوں کے بجٹ کو محض ایک حسابی مشق کے طور پر دیکھنا خود فریبی ہوگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ بجٹ فلاح کی نیت سے بنائے جا رہے ہیں، یا صرف اس لیے کہ کلیم عاجز کے الفاظ میں—”دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ، تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔۔۔“
