بہار میں مسلمانوں پر ماب لنچنگ اور نفرت انگیز حملے
پٹنہ | 17 جنوری 2026
بہار میں نئے سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی مسلمانوں کے خلاف ماب لنچنگ، تشدد اور نفرت انگیز حملوں کے واقعات میں خطرناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں مسلم فٹ پاتھ فروشوں، مزدوروں اور غریب محنت کشوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ زیادہ تر معاملات میں متاثرین کو ’بنگلہ دیشی‘ کہہ کر گالیاں دی گئیں، ہجوم کو بھڑکایا گیا، اور پھر مار پیٹ، لوٹ مار اور قتل جیسے واقعات پیش آئے۔ ان واقعات نے ریاست میں اقلیتی برادری کے تحفظ، پولیس کے کردار اور انتظامیہ کی سنجیدگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ تمام واقعات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب 14 نومبر 2025 کو متنازع انتخابی فتح کے بعد بی جے پی بہار میں اقتدار میں آئی، جبکہ جنتا دل (سیکولر) کے نیتیش کمار بدستور وزیرِ اعلیٰ ہیں۔ قومی اور مقامی میڈیا، بالخصوص زی نیوز، نے ان واقعات کی تفصیل نشر کی ہے، جن میں ایک واضح پیٹرن سامنے آتا ہے کہ غریب مسلمان روزگار کے دوران تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔
کٹیہار: برتن فروش اکمل رحمان پر لاٹھیوں سے حملہ اور لوٹ مار
کٹیہار ضلع کے پوتھیا تھانہ علاقے میں 11 جنوری کو مسلم برتن فروش اکمل رحمان پر حملہ کیا گیا۔ اکمل رحمان، کورہا تھانہ کے تحت سمریا چوک کے رہنے والے ہیں اور روزگار کے لیے سمیلی بلاک کے چکلا گاؤں میں برتن فروخت کرنے گئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق دو مقامی نوجوانوں نے انہیں راستے میں روکا، گالیاں دیں اور ’بنگلہ دیشی‘ ہونے کا الزام لگایا۔
جب برتن خریدنے والی خواتین نے اس رویے پر اعتراض کیا تو حملہ آوروں نے انہیں بھی دھمکایا۔ اس کے بعد اکمل رحمان پر لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا۔ ایک لاٹھی سر پر ماری گئی جس سے وہ بے ہوش ہو گئے۔ حملہ آوروں نے ان کی قمیص کی جیب سے 12 ہزار روپے نکال لیے اور موقع سے فرار ہو گئے۔ زخمی حالت میں اکمل رحمان کو کورہا کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں داخل کرایا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت اس وقت مستحکم ہے۔
واقعے کے بعد پوتھیا تھانہ اور سب ڈویژنل پولیس افسر کے پاس تحریری شکایت درج کرائی گئی۔ پولیس نے گاؤں والوں اور برتن خریدنے والی خواتین سے پوچھ گچھ کے بعد ملزمان کی شناخت چُویا منڈل ولد پٹال منڈل اور چکلا گاؤں کے ایک اور مقامی شخص کے طور پر کی ہے۔ سب ڈویژنل پولیس افسر (صدر-2) رنجن کمار سنگھ نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ لوٹ مار کا معاملہ معلوم ہوتا ہے اور گاؤں والوں کے مطابق ملزمان پہلے بھی فٹ پاتھ فروشوں پر حملے کر چکے ہیں۔ پولیس کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور کارروائی کی جائے گی۔
تاہم اکمل رحمان کے اہلِ خانہ اور رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ یہ محض لوٹ مار کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ ’بنگلہ دیشی‘ کہہ کر تشدد کرنے کا واضح مقصد تھا۔ ان کے مطابق اکمل رحمان روزگار کے لیے گئے تھے، کسی سے جھگڑا کرنے نہیں۔
سہرسا: بسکٹ فروش محمد مجاہد کو گولی مار دی گئی
سہرسا ضلع میں ایک اور سنگین واقعہ پیش آیا، جہاں مسلم بسکٹ فروش محمد مجاہد کو نشانہ بنایا گیا۔ پولیس اور خاندان کے مطابق پہلے ان سے لوٹ مار کی گئی، اس کے بعد انہیں گولی مار دی گئی۔ محمد مجاہد کو نازک حالت میں اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ گولی لگنے سے انہیں شدید زخم آئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
مدھوبنی: محمد قیوم کی موت، خاندان کا ماب لنچنگ کا الزام
مدھوبنی ضلع سے سب سے سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔ ہیتھیوالی گاؤں کے رہنے والے محمد قیوم کی موت ہو گئی۔ یہ واقعہ بھیرَو استھان تھانہ علاقے کے پٹی ٹول گاؤں میں پیش آیا۔ خاندان کے مطابق محمد قیوم دو دوستوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر گٹکھا خریدنے گئے تھے، جہاں دکان دار سے معمولی بحث ہو گئی۔ کچھ ہی دیر میں کئی لوگ جمع ہو گئے اور قیوم پر حملہ کر دیا گیا۔
محمد قیوم کو بری طرح پیٹا گیا۔ پولیس انہیں اسپتال لے گئی، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ سڑک حادثہ تھا، تاہم خاندان نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ قیوم کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات تھے اور یہ ماب لنچنگ کا معاملہ ہے۔ خاندان کو اندیشہ ہے کہ اگر معاملے کو حادثہ قرار دیا گیا تو انصاف مشکل ہو جائے گا۔
خوف اور عدم تحفظ، فٹ پاتھ فروش کام چھوڑنے پر مجبور
ان مسلسل واقعات کے بعد چھوٹے مسلم فٹ پاتھ فروشوں اور مزدوروں میں شدید خوف پایا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ دکاندار آسان ہدف ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس نقدی ہوتی ہے اور کوئی تحفظ نہیں ہوتا۔ کئی فٹ پاتھ فروشوں نے اندھیرے کے بعد کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف واقعات میں ملوث افراد کی تلاش جاری ہے، تاہم اب تک کسی گرفتاری کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعات الگ الگ جرائم نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں مسلمانوں کو شہری کے بجائے مشتبہ سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ریاست میں قانون و انتظام کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کا مختصر مگر سخت موقف
ان واقعات پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے وزیرِ اعلیٰ بہار نیتیش کمار کو خط لکھ کر نوادہ میں محمد اطہر حسین کے قتل، گوپال گنج میں احمد آزاد کو بجلی کے کھمبے سے باندھ کر سرِ عام پیٹنے، مدھوبنی میں محمد مرشد عالم کو ’بنگلہ دیشی‘ کہہ کر اغوا اور تشدد، جھنجھارپور میں محمد قیوم کے قتل، اور مدھے پورہ کے بھیرَوپٹّی گاؤں میں بیوہ مزدور حنا پروین کے اغوا، مبینہ اجتماعی عصمت دری اور قتل کا حوالہ دیتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
