مدارس پر کارروائی جاری
لکھنؤ:
اتر پردیش میں مدارس کے خلاف حکومتی کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ وقتاً فوقتاً حکومت کے فیصلوں اور اقدامات سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ مدارس سرکاری پالیسی کے نشانے پر ہیں۔ تازہ معاملہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
پیر کو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں منعقدہ اتر پردیش کابینہ اجلاس میں ایک بڑا فیصلہ لیا گیا۔ کابینہ نے اتر پردیش مدرسہ (اساتذہ و دیگر ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی) بل 2016 کو باضابطہ طور پر واپس لینے کی منظوری دے دی۔ یہ بل 2016 میں سماج وادی پارٹی حکومت کے دوران ریاستی اسمبلی سے منظور ہوا تھا۔
بل کی واپسی کے بعد ریاست بھر میں مدارس کے اساتذہ اور ملازمین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ اہلِ مدارس کا کہنا ہے کہ یہ بل ان کے لیے ایک قانونی تحفظ تھا۔ اسے واپس لے کر حکومت نے انہیں غیر یقینی اور عدم تحفظ کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہ بل اکھلیش یادو کی قیادت والی حکومت کے دور میں منظور ہوا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد امداد یافتہ مدارس کے اساتذہ اور عملے کو تنخواہوں کی بروقت اور منظم ادائیگی کا قانونی حق دینا تھا۔ بل میں ایسی دفعات بھی شامل تھیں جن کے تحت مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کے خلاف براہِ راست پولیس کارروائی، ایف آئی آر درج کرنے یا تفتیش کی اجازت نہیں تھی۔
ریاستی اقلیتی فلاح کے وزیر اوم پرکاش راج بھر نے بھاسکر کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ بل 2016 میں آئینی دفعات کو نظرانداز کرکے منظور کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ قانون آئین میں درج مساوات کے اصول کے خلاف تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت مدرسہ اساتذہ اور ملازمین کے خلاف نہ مقدمہ درج کیا جا سکتا تھا اور نہ ہی کوئی جانچ ممکن تھی۔
راج بھر کے مطابق اسی بنیاد پر اس وقت کے گورنر رام نائک نے بل پر اعتراض کیا تھا۔ انہوں نے بل پر دستخط کرنے کے بجائے اسے صدرِ جمہوریہ کے پاس بھیج دیا تھا۔ بعد میں صدرِ جمہوریہ نے آئینی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بل ریاستی حکومت کو واپس کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق مرکزی حکومت نے اس کے بعد اتر پردیش حکومت کو ہدایت دی تھی کہ آئین کے مطابق نیا قانون لایا جائے۔ تاہم اعتراضات دور کر کے بل دوبارہ منظوری کے لیے بھیجنے کے بجائے یوگی حکومت نے اسے مکمل طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا۔
بل کی منسوخی کے بعد اب پولیس کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کے خلاف براہِ راست کارروائی کی جا سکے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ فی الحال مدارس کے اساتذہ کی تنخواہیں کسی قانون کے تحت نہیں بلکہ محض سرکاری حکم نامے، یعنی جی او، کے ذریعے ادا کی جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت جب چاہے نیا حکم نامہ جاری کر کے تنخواہوں کی ادائیگی روک سکتی ہے۔
مدرسہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر تنخواہ تقسیم بل نافذ ہو جاتا تو تنخواہیں روکنے یا ختم کرنے کے لیے باقاعدہ قانون سازی ضروری ہوتی۔ اب اس قانونی تحفظ کے ختم ہونے سے اساتذہ اور ملازمین کا معاشی تحفظ خطرے میں پڑ گیا ہے۔
آل انڈیا ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ کے نائب صدر مولانا طارق شمسی نے فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی نیت مدارس کو کمزور کرنے اور ان کی گرانٹس روکنے کی ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ اسی سمت میں ایک اور قدم ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس کے مستقبل میں سنگین منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ اتر پردیش کے جنرل سیکریٹری دیوان صاحب زمان خاں نے کہا کہ تنخواہ تقسیم ایکٹ 1971 غیر سرکاری امداد یافتہ سیکنڈری اسکولوں پر لاگو ہے۔ اس ایکٹ کے تحت تنخواہ وقت پر ادا نہ ہونے کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف سزا کا بھی انتظام ہے۔ اسی وجہ سے اسکولوں میں تنخواہوں کی ادائیگی وقت پر ہوتی ہے۔ مدارس کو اس تحفظ سے محروم رکھنا سراسر ناانصافی ہے۔
اہلِ مدارس کا کہنا ہے کہ یوگی حکومت مدارس کے خلاف ہے، اور اس کا اظہار مختلف فیصلوں کے ذریعے بار بار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ بل مدارس کے لیے راحت کا سبب تھا، مگر اسے محض اس لیے واپس لے لیا گیا کہ یہ سماج وادی پارٹی حکومت کے دور میں منظور ہوا تھا۔ بل کی واپسی سے مدرسین کی پریشانیاں بڑھنا طے ہے۔
کابینہ اجلاس میں اس فیصلے کے ساتھ ضمنی بجٹ سمیت 24 دیگر تجاویز بھی منظور کی گئیں، لیکن مدارس سے متعلق تنخواہ تقسیم بل کی واپسی کو سب سے زیادہ متنازع اور دور رس اثرات کا حامل فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
