مدرسہ مصباح العلوم کی تالہ بندی: کمزور الزامات، سرکاری جلد بازی اور اپنوں کی لڑائی
(خصوصی رپورٹ) اقدس عارف
سہارنپور کے گاؤں مرزا پور پول میں واقع مدرسہ اسلامیہ مصباح العلوم سیل ہوگیا ، بظاہر یہ ایک انتظامی کارروائی ہے، مگر درحقیقت یہ معاملہ کئی پرتوں پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں سرکاری دعوے بھی ہیں، برسوں پرانے داخلی اختلافات بھی، اور وہ کمزوریاں بھی جنہوں نے ایک تعلیمی ادارے کو اس انجام تک پہنچایا۔
ضلع اقلیتی بہبود افسر، سہارنپور نے 8 دسمبر 2025 کو مکتوب نمبر 798/ا۔س۔/060ش۔/2025-26 کے ذریعے حلقہ افسر بیہٹ کو لکھا کہ مدرسہ غیر قانونی طور پر چل رہا ہے اور غیر قانونی فنڈنگ کے ذریعے چندہ اور کرایہ وصول کیا جا رہا ہے، اس لیے اسے فوری طور پر بند کرایا جائے۔ اس خط کی بنیاد ایک مقامی شکایت بنی، جو 4 دسمبر 2025 کو دی گئی تھی اور جس پر کمشنر، سہارنپور منڈل نے اسی دن جانچ کی ہدایت جاری کر دی۔
سرکاری فائلوں کے مطابق معاملہ آئی جی آر ایس شکایت نمبر 20013225015034 سے آگے بڑھا، جو 18 ستمبر 2025 کو ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے اقلیتی بہبود افسر کے دفتر کو موصول ہوئی۔ اس کے بعد ستمبر کے مہینے میں کئی بار نوٹس جاری ہوئے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مدرسہ کی موجودہ ذمہ داری سنبھالنے والوں سے تحریری موقف اور ثبوت مانگے گئے، آخری موقع بھی دیا گیا، مگر کوئی تسلی بخش جواب سامنے نہیں آیا۔
جانچ کے بعد جو رپورٹ تیار ہوئی، اس میں کہا گیا کہ انتظامی کمیٹی کی مدت ختم ہو چکی ہے، اس کے باوجود چندہ وصول ہو رہا تھا۔ چندے کی رسیدوں کا آڈٹ نہیں ہوا۔ بیک وقت دو کمیٹیاں بنا کر فنڈ جمع کیے گئے۔ مدرسہ کے احاطے میں دکانیں تعمیر کر کے کرایہ وصول کیا گیا۔ ایک پرانے حکم کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ریکارڈ میں ایسا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ ادارہ خالص تعلیمی مقصد کے لیے چل رہا ہے۔
یہ سب نکات اپنی جگہ، مگر یہاں ایک بنیادی سوال خود بخود سامنے آتا ہے۔ اگر صورتحال واقعی اتنی سنگین تھی تو یہ ادارہ برسوں تک کیسے چلتا رہا؟ اور اگر معاملہ نیا نہیں تھا تو اچانک سیل کرنے جیسا سخت قدم کیوں اٹھایا گیا؟ قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ یہ کارروائی کسی عدالتی حکم کے تحت نہیں ہوئی، بلکہ مکمل طور پر انتظامی رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی۔ نہ کسی آزاد آڈٹ کا ذکر ملتا ہے، نہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ بندش سے پہلے اصلاح یا نگرانی جیسے متبادل راستوں پر سنجیدگی سے غور کیا گیا ہو۔
ادھر مدرسہ کی جانب سے ایک الگ تصویر پیش کی جاتی ہے۔ ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ادارہ 1983 سے رجسٹرڈ ہے اور پرانی سوسائٹی کے بعض ارکان آج بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق پچھلے کئی برسوں سے مقامی سطح پر اختلافات چل رہے ہیں، اور انہی اختلافات کے تحت ایک متوازی کمیٹی بنائی گئی، جس کے بعد شکایات کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مدرسہ کو گرلز اسکول میں تبدیل کرنے کی کوششیں بھی پسِ پردہ جاری رہیں۔
مدرسہ سیل ہونے سے پہلے یہاں تقریباً 175 طلبہ زیرِ تعلیم تھے، جن میں مقامی بھی تھے اور باہر سے آنے والے بھی۔ حفظ و ناظرہ کے ساتھ پانچویں جماعت تک کی تعلیم دی جا رہی تھی۔ تالہ بندی کے بعد سب سے پہلا اور براہِ راست نقصان انہی طلبہ کو ہوا، جن کی تعلیم ایک جھٹکے میں رک گئی۔ مدرسہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ علماء کی ایک مشترکہ کمیٹی بنا کر ادارے کی بحالی چاہتے ہیں، تاکہ تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکے۔
مقامی سطح پر بات کی جائے تو تصویر مزید الجھ جاتی ہے۔ گاؤں کے لوگوں کے مطابق مدرسہ گزشتہ تقریباً بیس برسوں سے آپسی کھینچا تانی کا شکار رہا ہے۔ دو الگ الگ گروپ بنے رہے۔ صلح کی کوششیں بھی ہوئیں، مگر نتیجہ صفر رہا۔ ان کے مطابق نہ نظم شفاف رہا، نہ حساب کتاب واضح، اور یہی وہ خلا تھا جہاں سے سرکاری مداخلت کا راستہ نکلا۔
مدرسہ مصباح العلوم کا معاملہ دراصل ایک وسیع تر مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اتر پردیش میں ایسے کئی مدارس ہیں جو اندرونی رنجشوں، کمزور انتظام اور شخصی اجارہ داری کا شکار ہیں۔ جب اداروں کے اندر اختلافات حل نہیں ہوتے، تو حکومت کو مداخلت کا موقع ملتا ہے۔ اس کے بعد کارروائی چاہے کتنی ہی کمزور بنیادوں پر کیوں نہ ہو، انجام اکثر تالہ بندی کی صورت میں نکلتا ہے۔
یہاں اصل نقصان حکومت کا نہیں ہوتا۔ قیمت تعلیم ادا کرتی ہے، طلبہ ادا کرتے ہیں، اور وہ ادارے جو برسوں کی محنت سے کھڑے ہوتے ہیں، چند فیصلوں میں بکھر جاتے ہیں۔ مدرسہ اسلامیہ مصباح العلوم کا سیل ہونا اسی تلخ حقیقت کی ایک اور مثال ہے۔ جہاں کمزور الزامات، انتظامی جلد بازی اور اپنوں کی لڑائی مل کر ایک تعلیمی اثاثے کو داؤ پر لگا دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ قصوروار کون ہے، سوال یہ ہے کہ اس قیمت کو آخر کب تک تعلیم اور قوم ہی ادا کرتی رہے گی؟
