فوٹو: بشکریہ نتیش کمار کا آفیشل ایکس (ٹوئٹر) ہینڈل
عتیق الزماں عادل
پٹنہ:
وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کی خبروں کے بعد بہار کے اقلیتی طبقے میں فلاحی اسکیموں کے مستقبل اور امن و امان کی صورتحال کو لے کر تشویش بڑھنے لگی ہے۔ مختلف حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ان کے بعد ریاست کی پالیسی اور زمینی حالات کس رخ پر جائیں گے۔
سیتامڑھی کے رہائشی سیماب اختر نے مسلم طلبہ اور مدرسہ اساتذہ کے لیے نتیش کمار کے اقدامات کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد مدرسہ کے استاد تھے اور لالو پرساد کے دور میں انہیں سالانہ چار ہزار روپے ملتے تھے، جب کہ بعد میں یہ رقم بڑھ کر 49 ہزار روپے ماہانہ تک پہنچ گئی۔ ان کے مطابق یہ اضافہ ساتویں پے کمیشن کے نفاذ کے بعد ممکن ہوا۔
انہوں نے کہا کہ نتیش کمار کے دور میں مسلمانوں کے لیے متعدد اسکیمیں شروع ہوئیں اور انہیں اس کا فائدہ ملا۔ ان کے بقول اس عرصے میں کوئی بڑا فرقہ وارانہ فساد بھی نہیں ہوا، جو ریاست کے لیے ایک اہم پہلو تھا۔
راجہ بازار کے محمد گوہر نے بھی اقلیتی طلبہ کے لیے اسکالرشپ، مفت کوچنگ اور قبرستانوں کی باڑ بندی جیسے اقدامات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں امن و امان قائم رکھنے میں نتیش کمار کا کردار نمایاں رہا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کے بعد حالات کیسے رہیں گے، یہ دیکھنا ہوگا۔
جے ڈی یو کی ترجمان انجم آرا نے کہا کہ نتیش کمار کے دور میں بڑے پیمانے پر تشدد کو روک کر امن برقرار رکھا گیا۔ انہوں نے نوادہ کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں چند گھنٹوں کے لیے کرفیو لگا کر حالات قابو میں کر لیے گئے تھے۔
انہوں نے اقلیتی طلبہ کے لیے اسکالرشپ، مطلقہ مسلم خواتین کے لیے مالی امداد، مدرسہ اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ اور قبرستانوں کی باڑ بندی کو اہم اقدامات قرار دیا۔ ان کے مطابق نتیش کمار نے یقین دلایا ہے کہ بہار کے مفادات کا تحفظ جاری رہے گا اور ان کے قائم کردہ معیار کو آگے بڑھایا جائے گا۔
دوسری جانب مبصر اور تجزیہ نگار ثناء صادق تیمی نے اس پیش رفت کو بہار کی سیاست میں ایک بڑے موڑ کے طور پر دیکھا ہے۔ ان کے مطابق اگر نتیش کمار واقعی راجیہ سبھا جاتے ہیں تو ریاستی سیاست کا توازن بدل جائے گا اور بی جے پی کا اثر مزید بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نتیش کمار نے تقریباً دو دہائیوں تک بہار کی قیادت کی اور اس دوران ریاست میں نظم و نسق کو برقرار رکھا۔ تاہم ان کے سیاسی فیصلوں نے بی جے پی کو مضبوط کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بقول حالیہ انتخابات میں بھی کئی حلقوں نے نتیش کمار کی وجہ سے بی جے پی کی حمایت کی۔
تیمی نے کہا کہ اب اگر قیادت میں تبدیلی ہوتی ہے تو یہ سوال بھی اٹھے گا کہ عوامی مینڈیٹ کو کس حد تک برقرار رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق بہار کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں واضح ہوں گے۔
