اتر پردیش میں بورڈ امتحان سے قبل 18 مدارس کی منظوری معطل
لکھنؤ | 15 جنوری 2026:
اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن کونسل نے ریاست کے مختلف اضلاع میں واقع 18 مدارس کی منظوری معطل کر دی ہے۔ یہ فیصلہ بورڈ امتحانات سے چند ہفتے پہلے سامنے آیا ہے، جس سے ایک ہزار سے زائد طلبہ اور درجنوں اساتذہ براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ فیصلے کے فوراً بعد اساتذہ کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں، جس پر مسلم خاندانوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
کونسل کے اس اقدام سے سب سے بڑا مسئلہ اساتذہ کا معاشی بحران ہے۔ کئی اساتذہ کا کہنا ہے کہ تنخواہ ہی ان کی واحد آمدنی ہے۔ اچانک ادائیگی بند ہونے سے گھریلو اخراجات چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ دوسری طرف طلبہ امتحانی سال کے آخری مرحلے میں غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔ کاتب، مولوی اور عالم کے بورڈ امتحانات فروری 2026 میں متوقع ہیں۔
مدرسہ ایجوکیشن کونسل نے تاہم طلبہ کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے۔ کونسل کی رجسٹرار انجنا سیروہی کے مطابق منظوری کی معطلی کا مطلب مدرسہ کی شناخت کی منسوخی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک کسی مدرسہ کی شناخت مکمل طور پر ختم نہیں کی جاتی، وہاں زیرِ تعلیم طلبہ معمول کے مطابق امتحان میں شریک ہوں گے۔ ان کے مطابق معطلی کا اثر صرف اساتذہ کی تنخواہوں پر پڑتا ہے، تدریسی عمل اور امتحانات جاری رہیں گے۔ بورڈ نے امتحانی شیڈول جلد جاری کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔
اس کے باوجود اساتذہ اور والدین مطمئن نہیں۔ مشرقی اتر پردیش کے ایک مدرسہ کے استاد نے بتایا کہ وہ مسلسل تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں اور طلبہ کو امتحان کے لیے تیار کر رہے ہیں، مگر بغیر کسی پیشگی اطلاع کے تنخواہیں بند کر دی گئیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ عزتِ نفس کا مسئلہ بھی ہے۔
مدرسہ بورڈ کا کہنا ہے کہ فی الحال حکومت کی سطح پر تنخواہوں کی ادائیگی روکی گئی ہے، تاہم اگر معاملہ حل ہو جاتا ہے اور مدارس کی شناخت بحال ہو جاتی ہے تو ادائیگیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں ہی چار مزید مدارس کی منظوری معطل کی گئی ہے، جس سے خوف اور بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔ مسلم ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات ان طلبہ کے مستقبل کو نقصان پہنچاتے ہیں جو پہلے ہی سماجی اور معاشی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
جن مدارس کی منظوری معطل کی گئی ہے، ان میں پریاگ راج، ایودھیا، سدھارتھ نگر، مہاراج گنج، وارانسی، علی گڑھ، کشی نگر اور لکھنؤ سمیت مختلف اضلاع کے مدارس شامل ہیں۔
ادھر کئی مدارس کی انتظامی کمیٹیوں نے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک مدرسہ کے منتظم کے مطابق مدارس غریب مسلم بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں، اس لیے بغیر واضح وجوہات کے منظوری معطل کرنا اور تنخواہیں روکنا ناانصافی ہے۔
یہ معاملہ ایک بار پھر اتر پردیش میں مسلم تعلیمی اداروں کی نازک صورتِ حال کو نمایاں کرتا ہے اور مسلم طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔
