اتر پردیش میں مسجد اور مدرسہ بلڈوزر کی نذر
( روایت نیوز ڈیسک)
اتر پردیش میں اسلامی اداروں اور عبادت گاہوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ضلع سنبھل میں ایک مسجد اور دینی مدرسہ سرکاری بلڈوزروں کے ذریعے منہدم کر دیے گئے۔ اس اقدام نے ایک بار پھر مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسی اور اقلیتی حقوق کی پامالی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تازہ کارروائی ضلع سنبھل کے گاؤں سالم پور سالار، المعروف حضی پور، میں ہوئی جو شہر سنبھل سے تقریباً بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ انتظامیہ نے یہاں قائم مسجد اور مدرسہ کو مکمل طور پر گرا دیا۔ سرکاری حکام کے مطابق یہ کارروائی نفاذِ قانون کے تحت کی گئی۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ کارروائی نہیں بلکہ خطے میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے دباؤ اور مبینہ امتیازی اقدامات کے تسلسل کا حصہ ہے۔
ضلع مجسٹریٹ سنبھل راجندر پینسیا نے دعویٰ کیا کہ مسجد اور مدرسہ گاؤں پنچایت کی زمین پر تعمیر کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق بلڈوزر کارروائی سے پہلے مقامی افراد نے عمارت کا کچھ حصہ خود بھی منہدم کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ خالی کی گئی زمین دلت برادری کے بیس خاندانوں کو دی جائے گی، جبکہ مسجد کے متولیوں پر آٹھ لاکھ اٹھہتر ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
دوسری جانب مدینہ مسجد کے متولی حاجی شمیم نے انتظامیہ کے دعووں کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ زمین چالیس برس سے زائد عرصہ قبل مسلم برادری کو مدرسہ قائم کرنے کے لیے الاٹ کی گئی تھی۔ ان کے مطابق حالیہ کارروائی میں پورا احاطہ، بشمول مدرسہ، مسمار کر دیا گیا، جو ناانصافی اور اسلامی اداروں کو چن چن کر نشانہ بنانے کی واضح مثال ہے۔
بین الاقوامی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کارروائیوں کا تسلسل مسلمانوں میں عدم تحفظ اور امتیاز کے احساس کو مزید گہرا کر سکتا ہے اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مقامی حکام نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ شنکر چوک کے قریب واقع ملک شاہ بابا قبرستان کو بھی ممکنہ مسماری کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ادھر ہندو انتہاپسند تنظیمیں مسلسل انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ ان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ کئی اسلامی ادارے اور عبادت گاہیں قدیم مندروں کی جگہ قائم ہیں۔ اس صورتحال نے اتر پردیش میں اقلیتی حقوق کے بحران کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
