الہ آباد ہائی کورٹ کا یوپی حکومت سے جواب طلب، معطل شدہ مدارس کو امداد دینے کی پالیسی پر سوال
لکھنؤ، 18 فروری 2026 — الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے اتر پردیش حکومت سے معطل شدہ مدارس کو سرکاری امداد دینے کی پالیسی پر جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے پوچھا ہے کہ جن اداروں کی منظوری معطل ہے، انہیں امداد دینے کے معاملے میں ریاست میں یکساں پالیسی کیوں نہیں ہے۔
چیف جسٹس ارون بھنسالی اور جسٹس جسپریت سنگھ کی بنچ نے یہ حکم ایک مفادِ عامہ کی عرضی (PIL) پر سماعت کے دوران دیا۔ یہ عرضی سماجی کارکن اعجاز احمد کی جانب سے داخل کی گئی تھی۔ عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کچھ ایسے مدارس کو سرکاری امداد دی جا رہی ہے جن کی منظوری معطل ہے، جبکہ دیگر معطل شدہ اداروں کو اس سے محروم رکھا گیا ہے۔
عرضی گزار کے وکیل اشوک پانڈے نے عدالت کو بتایا کہ اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے رجسٹرار نے معطل شدہ مدارس کی امداد روکنے کی سفارش کی تھی۔ تاہم ریاستی حکومت نے اس معاملے میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
اس پر عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے میں اپنی پالیسی واضح کرے اور اگلی سماعت سے پہلے جواب داخل کرے۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت کے لیے 30 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔
یہ معاملہ ریاست میں مدرسہ تعلیم، سرکاری امداد اور قانونی ضابطوں کے نفاذ سے متعلق اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے معطل شدہ مدارس اور وہاں کام کرنے والے اساتذہ اور عملے پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
