ہری دوار/دہرادون: ( غالب شمس )
اتراکھنڈ میں مدارس پر حکومتی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ بھگوانپور کے بندرجوڑ علاقے میں مدرسہ مظہر العلوم کو انتظامیہ نے سیل کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد ریاست بھر میں سیل کیے گئے مدارس کی مجموعی تعداد 215 ہو گئی ہے۔

تحصیلدار دیارام پولیس اور کننگو لکھراج گپتا کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ انہوں نے مدرسہ کے منتظمین سے الحاقی دستاویزات طلب کیے جو فراہم نہ کیے جا سکے۔ اسی بنیاد پر مدرسہ کو فوراً بند کر دیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ جمعرات کو مدرسہ کے ذمہ دار اور دوسرے فریق کے درمیان جھگڑے میں چار افراد زخمی ہوئے تھے۔
باہمی تنازع اور انتظامیہ کی مداخلت
مقامی ذرائع کے مطابق، مظہر العلوم میں اصل مسئلہ گاؤں کی کمیٹی کے تنازع سے جڑا ہوا ہے۔ کمیٹی کی تشکیل اور اس میں شامل افراد کو لے کر اختلافات اتنے بڑھے کہ جھگڑے اور خون خرابے تک کی نوبت آگئی۔ بعد میں مخالف گروہ نے خود انتظامیہ سے کہہ کر مدرسہ بند کرایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا کوئی تعلق حکومتی سیلنگ مہم سے براہِ راست نہیں تھا۔ انتظامیہ نے صرف گاؤں والوں کی شکایت کو بنیاد بنایا۔ حالانکہ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمات کے بعد افسران مدارس کو سیل کرنے سے گریز کر رہے تھے، کیونکہ عدالت کے سامنے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مدارس کو بند کرنے کے لیے کوئی باقاعدہ قانونی دفعہ یا ضابطہ موجود نہیں ہے۔
اتراکھنڈ میں مدارس کی مجموعی صورتحال
جنوری 2025 سے اب تک ریاست میں 200 سے زائد مدارس بند کیے جا چکے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کے مطابق یہ تعداد 214 تک پہنچ گئی تھی، جبکہ اب بھگوانپور کا واقعہ شامل کرنے کے بعد یہ تعداد 215 ہو گئی ہے۔ ان میں سے تقریباً 30 مدارس عدالت یا مذاکرات کے بعد دوبارہ کھولے گئے۔
وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کئی بار کہا ہے کہ یہ ادارے ’’غیر رجسٹرڈ‘‘ ہیں اور مدرسہ بورڈ کے ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے بیانات میں مسلمانوں پر ’’مدرسہ جہاد‘‘ اور ’’تعلیم جہاد‘‘ کے الزامات بھی عائد کیے ہیں اور فنڈنگ کی جانچ کے احکامات دیے ہیں۔
