فوٹو: علامتی تصویر / فائل
نئی دہلی، یکم مارچ 2026: کڑکڑڈوما کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے 2020 دہلی فسادات سے متعلق ایک مقدمے میں دیویندر، گوتم اور انمول کو بری کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات معقول شک سے بالاتر ثابت نہیں کر سکا، اور پیش کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج قانونی طور پر قابلِ قبول شہادت نہیں تھی۔
یہ مقدمہ 25 فروری 2020 کو شمال مشرقی دہلی کے سونیا وہار تھانہ علاقے، خصوصاً میلان گارڈن اور اطراف میں پیش آئے واقعات سے متعلق تھا۔ اس دن دہلی کے مختلف علاقوں میں شدید فرقہ وارانہ تشدد، آتش زنی اور املاک کو نقصان پہنچا تھا۔ پولیس کے مطابق تینوں ملزمان ایک ایسے ہجوم کا حصہ تھے جس نے توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی۔
ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پورا مقدمہ ویڈیو فوٹیج پر قائم تھا، جو موجودہ شکل میں قانون کے مطابق قابلِ قبول نہیں۔ عدالت کے مطابق استغاثہ ملزمان کو مبینہ جرائم سے براہِ راست جوڑنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ قبول شہادت پیش نہیں کر سکا۔
استغاثہ نے ملزمان کی موجودگی ثابت کرنے کے لیے پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ سے حاصل شدہ سی سی ٹی وی ریکارڈنگ پیش کی تھی۔ تاہم عدالت نے اسے شہادت کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ جج نے کہا کہ اس مرحلے پر دوبارہ شہادت پیش کرنے کی اجازت دینا قانونی تقاضوں کے خلاف ہوگا۔
فیصلے کے بعد تینوں ملزمان تمام الزامات سے بری ہو گئے۔ دفاعی وکیل کا کہنا تھا کہ فوجداری قانون میں جرم ثابت کرنے کی ذمہ داری استغاثہ پر ہوتی ہے، اور اگر شہادت ناکافی ہو تو ملزم کو شک کا فائدہ دیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ فروری 2020 کے دہلی فسادات میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ مختلف عدالتوں میں اب بھی متعدد مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ بعض میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں، جبکہ کچھ میں ثبوت ناکافی ہونے پر ملزمان کو بری کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ایک بار پھر اس اصول کو دہراتا ہے کہ فوجداری مقدمات میں شہادت کا معیار سخت ہوتا ہے اور ہر کیس کو اس کے شواہد کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔
