سنبھل میں مدرسے پر بلڈوزر کارروائی، کئی مکانات بھی نشانے پر
سنبھل (روایت نیوز ڈیسک)
اتر پردیش میں مساجد اور مدارس کے خلاف جاری کارروائیوں کے سلسلے میں ضلع سنبھل کے قصبہ نرولی میں ایک مدرسے کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا گیا۔ انتظامیہ نے اس اقدام کو مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی قرار دیا ہے، جبکہ مقامی نمائندوں نے اس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔
یہ کارروائی جمعرات کو نگر پنچایت نرولی کے بنجاری کوان علاقے میں کی گئی، جہاں تقریباً 285 مربع میٹر اراضی پر قائم دارالعلوم مدرسہ کو منہدم کر دیا گیا۔ انہدامی کارروائی سے پہلے علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا تھا اور مدرسے سے متعلق افراد نے احتیاطاً عمارت خالی کر دی تھی۔
انتظامیہ کے مطابق یہ زمین ریونیو ریکارڈ میں پلاٹ نمبر 1635 اور 1636 کے تحت درج ہے اور اسے کھاد کے گڑھوں اور عوامی راستے کی اراضی بتایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسی زمین پر 8 سے 10 مکانات بھی تعمیر کیے گئے تھے، جنہیں غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اور ان کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔
کارروائی کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ ایس ڈی ایم چندوسی آشوتوش تیواری، نائب تحصیلدار ستیندر چاہر اور سی او منوج کمار سنگھ موقع پر موجود تھے۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پانچ تھانوں کی پولیس فورس اور پی اے سی کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ پورا علاقہ پولیس کی نگرانی میں رہا۔
ڈپٹی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آشوتوش تیواری نے بتایا کہ یہ کارروائی دفعہ 67 کے تحت کی گئی، جو سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضے کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ افراد کو دو بار نوٹس جاری کیے گئے تھے اور کافی وقت دیا گیا تھا، مگر تعمیرات نہیں ہٹائی گئیں، جس کے بعد بلڈوزر کارروائی کی گئی۔
دوسری جانب نرولی نگر پنچایت کے چیئرمین بٹن ملک نے انتظامیہ کے دعوے پر اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس کارروائی کے بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع یا نوٹس نہیں ملا۔ انہوں نے مدرسے کو ایک مذہبی اور تعلیمی مقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقریباً 300 گز پر مشتمل تھا اور مقامی بچوں کی دینی تعلیم کا مرکز تھا۔
کارروائی کے بعد علاقے میں بے چینی اور خوف کا ماحول پایا جا رہا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی اس کارروائی نے نہ صرف مدرسے بلکہ اردگرد کے رہائشی مکانات کو بھی نشانے پر لے لیا ہے، جس سے کئی خاندان غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ریاست میں مذہبی مقامات، خصوصاً مدارس اور مساجد کے خلاف انہدامی کارروائیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور مختلف حلقوں کی جانب سے ان اقدامات کے قانونی اور سماجی پہلوؤں پر بحث جاری ہے۔
