مدرسہ مصباح العلوم سہارنپور پول ۔ فائل فوٹو
سہارنپور، 10 فروری 2026: ضلع سہارنپور کے گاؤں مرزاپور پول میں واقع مدرسہ اسلامیہ مصباح العلوم سے متعلق مقدمے میں گرام عدالت بہٹ نے بندش کے عبوری حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد مدرسہ کی تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ مقدمہ ابھی زیرِ سماعت ہے۔
ریکارڈ کے مطابق 8 دسمبر 2025 کو ضلع اقلیتی بہبود افسر نے مدرسہ بند کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ 17 دسمبر 2025 کو بعض شکایات کے بعد انتظامیہ نے ادارہ سیل کر دیا۔

بعد میں 23 دسمبر 2025 کو ایک نیا حکم جاری ہوا، جس میں کمشنر سہارنپور کی ہدایت پر مدرسہ کھولنے کو کہا گیا تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
2 جنوری 2026 کو اس معاملے میں مستقل حکمِ امتناعی کے لیے مقدمہ دائر کیا گیا۔ سماعت کے دوران عدالت کے سامنے یہ بات آئی کہ 23 دسمبر کا حکم ابتدائی عرضی میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مدعی کو مختلف تاریخوں پر دلائل کے مواقع دیے گئے، مگر ہر بار التوا لیا گیا۔
عدالت نے سول پروسیجر کوڈ کے آرڈر 39 رول 4 کے تحت 2 جنوری 2026 کا عبوری حکم واپس لے لیا۔ عدالت کے مطابق اہم دستاویز کا ذکر نہ کرنا اور کارروائی میں تاخیر فیصلہ میں اثرانداز عوامل تھے۔
اس فیصلے کے بعد مدرسہ کو بند رکھنے کا عدالتی حکم ختم ہو گیا ہے اور ادارہ کھلا رہے گا۔ مقدمے کی آئندہ سماعت میں الزامات اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
مدرسہ انتظامیہ نے بتایا کہ 2025-26 کے لیے نئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ مولانا عبید اللہ کو جنرل سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اہتمام و نظامت کی ذمہ داریاں مولانا احمد اللہ ندوی، مفتی شبیر اور مولانا محمد احمد کے سپرد کی گئی ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام کو منظم کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے اقدامات کیے جائیں گے۔
مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں قانونی عمل کے ذریعے حل نکالنا ضروری ہے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
