Photo courtesy: Anadolu Agency
لندن، (2 جنوری 2026 )
اسپین کے وزیرِ خارجہ خوسے مانوئل البارس نے غزہ میں انسانی حالات کو نہایت سنگین اور تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسپین غزہ میں امن اور مغربی کنارے میں تشدد کے خاتمے کی حمایت جاری رکھے گا۔
جمعے کے روز فلسطینی وزیرِ اعظم محمد مصطفیٰ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران البارس نے واضح کیا کہ اسپین غزہ میں مستقل امن کے قیام اور مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کے خاتمے کے لیے فلسطینی قیادت کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپین فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا تاکہ اس کی مالی حالت مستحکم رہے اور اصلاحاتی منصوبے آگے بڑھ سکیں۔ وزیرِ خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں کی ٹیکس کی رقوم فوری طور پر منتقل کرے، جو طویل عرصے سے روکی جا رہی ہیں۔
فلسطینی وزارتِ خزانہ کے مطابق اسرائیل 2019 سے اب تک تقریباً دو ارب ڈالر کی فلسطینی ٹیکس آمدنی روک چکا ہے۔ وزارت نے اس اقدام کو تمام طے شدہ معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
خوسے مانوئل البارس نے غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع پر بھی سخت تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 2025 مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کے اعتبار سے ایک ریکارڈ سال رہا، جہاں اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت نے بڑی تعداد میں نئی بستیوں اور رہائشی منصوبوں کی منظوری دی۔
اسی ہفتے کے آغاز میں اسرائیل نے شمالی مغربی کنارے میں واقع سانونر بستی کے آؤٹ پوسٹ میں 126 نئے مکانات کی تعمیر کی اجازت دی۔ یہ علاقہ 2005 میں یکطرفہ انخلا کے منصوبے کے تحت خالی کرایا گیا تھا۔
اسپین کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ غزہ میں انسانی بحران حد سے تجاوز کر چکا ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں پر عائد پابندیاں ناقابلِ قبول ہیں اور حالات کو مزید بگاڑ رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کے تمام ادارے، بالخصوص فلسطینی مہاجرین کے لیے کام کرنے والا ادارہ، غزہ اور مغربی کنارے میں آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں انجام دے سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اسپین غزہ کی تعمیرِ نو میں بھی حصہ لے گا تاکہ وہاں کے عوام کو اپنی ہی سرزمین پر ایک باوقار مستقبل مل سکے۔
اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں غزہ میں 71 ہزار سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ اس دوران غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے۔ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی نافذ ہوئی، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
