تصویر بشکریہ: ایکس ہینڈل @NiteshNRane (نتیش رانے)
ممبئی، 25 فروری 2026 : مالیگاؤں کے سرکاری دفتر میں نماز ادا کیے جانے پر مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے نے مدارس کو “دہشت گردی کے مراکز” قرار دیتے ہوئے انہیں بند کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر سماجوادی پارٹی کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے بیان کو اشتعال انگیز قرار دے کر مسترد کر دیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مالیگاؤں لوک سنگھرش سمیتی کے صدر لقمان کمال کی قیادت میں مقامی افراد برقی محکمہ کے دفتر میں احتجاج کر رہے تھے۔ عصر کی نماز کا وقت ہونے پر بعض مظاہرین نے وہیں باجماعت نماز ادا کی۔ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
مہاراشٹر کے وزیر برائے بندرگاہ ترقی نتیش رانے نے کہا،
“یہ ہندو راشٹر ہے۔ یہاں کسی کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ کیا یہ لوگ مالیگاؤں کی ترقی کے لیے منتخب ہوئے ہیں یا جہاد کے لیے؟ اتنی مساجد ہونے کے باوجود دفتر میں نماز کیوں ادا کی گئی؟ ہم کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔”
رانے نے مدارس کے بارے میں بھی الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس “دہشت گرد تیار کرنے کے مراکز” ہیں۔ انہوں نے ساونت واڑی کی ایک مبینہ ویڈیو کا حوالہ دیا جس میں ایک مولوی کو طالب علم کو مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ رانے نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سے ریاست کے مدارس بند کرنے کی اپیل کریں گے۔
سیاسی مبصرین اور تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی ایک یا دو واقعات کی بنیاد پر پورے مدرسہ نظام کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی ادارے میں بدانتظامی یا بدسلوکی کا واقعہ سامنے آئے تو اس کی انفرادی اور قانونی سطح پر جانچ ہونی چاہیے، نہ کہ پورے تعلیمی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے۔
سماجوادی پارٹی کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے بھی رانے کے الزامات کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مدارس میں دہشت گردی کی کوئی سرگرمی نہیں ہوتی۔ انہوں نے حکومت کو دعوت دی کہ مدارس میں سی سی ٹی وی نصب کرے یا کھلا معائنہ کرائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی غیر قانونی سرگرمی ثابت نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نماز اپنے مقررہ وقت پر کہیں بھی ادا کی جا سکتی ہے اور اسے سیاسی مسئلہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
قانونی ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ آئین ہند کی دفعہ 25 ہر شہری کو مذہبی آزادی کا حق دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہبی اداروں کے بارے میں عمومی الزامات سماجی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ریاست میں بجٹ اجلاس جاری ہے۔ امکان ہے کہ یہ معاملہ اسمبلی میں بھی زیر بحث آئے گا۔
