’’مسجد، مدرسہ اور مسلمان نہ ہوں‘‘ — یتی نرسنگھانند کا اشتعال انگیز بیان
روایت نیوز ڈیسک — شدت پسند ہندوتوا پجاری یتی نرسنگھانند نے ایک بار پھر اشتعال انگیز بیان دے کر تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ اس نے کہا کہ ہندوستان کو صرف ہندوؤں کے لیے ملک بنایا جائے اور اس میں ’’ایک بھی مسجد، مدرسہ یا مسلمان‘‘ نہ ہو۔

یہ بیان جمعرات 11 ستمبر کو ایک نشست میں سامنے آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ ویڈیو میں وہ کہتا ہے: ’’عیسائیوں کے پاس سو سے زیادہ ملک ہیں، مسلمانوں کے پاس 57 ہیں، یہودیوں کا بھی ایک ملک ہے۔ ہم سو کروڑ ہندو ہیں، لیکن ہمارا ایک بھی ملک نہیں۔‘‘
نرسنگھانند نے مہاتما گاندھی اور ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو پر الزام لگایا کہ انہی کی قیادت کی وجہ سے ’’اکھنڈ بھارت‘‘ وجود میں نہ آسکا اور ہندو آج بھی اپنی الگ سرزمین سے محروم ہیں۔
ویڈیو میں وہ مزید کہتا ہے: ’’ہم ایک ایسے ملک کی دعا کرتے ہیں جہاں نہ مسجد ہو، نہ مدرسہ اور نہ مسلمان۔ ہم تنگ آ گئے ہیں۔ دنیا قابو سے باہر ہو گئی ہے۔ ماں اور مہادیو ہماری حفاظت کریں اور سناتن دھرم کے دشمنوں کو ختم کریں۔‘‘
پس منظر
نرسنگھانند کا اصل نام دیپک تیاگی ہے۔ عمر 58 برس ہے۔ روس میں تعلیم حاصل کی، برطانیہ میں انجینئر کے طور پر کام کیا اور 2007 میں ہندوستان واپس آ کر ہندو مندر کا پجاری بن گیا۔
اس پر نفرت انگیز تقریروں اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے کئی مقدمات درج ہیں۔ وہ جیل بھی جا چکا ہے لیکن اکثر سزا سے بچ نکلتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اتر پردیش پولیس اس کے ساتھ نرمی برتتی ہے۔
دسمبر 2024 میں اس نے غازی آباد میں ’’دھرم سنسد‘‘ کا انعقاد کیا تھا۔ وہاں 15 منٹ کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ مسلمانوں کے قتلِ عام اور ہندو راشٹر کے قیام کی اپیل کرتا نظر آیا۔
ردعمل
نرسنگھانند کے تازہ بیان نے ملک بھر میں شدید غصہ اور مذمت کو جنم دیا ہے۔ مختلف سماجی و انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا ہے کہ یہ بیانات آئین اور ملک کی وحدت پر براہِ راست حملہ ہیں۔ کئی تنظیموں نے حکومت سے فوری قانونی کارروائی اور اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ کی کاوش قابلِ قدر ہے