وندے ماترم کو لازمی قرار دینا مذہبی آزادی پر حملہ: مولانا ارشد مدنی
نئی دہلی (روایت نیوز ڈیسک)، 12 فروری 2026
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے وندے ماترم کو تمام سرکاری پروگراموں، تعلیمی اداروں اور سرکاری تقریبات میں لازمی قرار دینے کے مرکزی حکومت کے نوٹیفکیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اسے ایک جانبدارانہ اور جبری فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کی طرف سے دی گئی مذہبی آزادی کے خلاف ہے اور ملک کی اقلیتوں پر ایک مخصوص نظریہ مسلط کرنے کی کوشش ہے۔
مولانا مدنی نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی بھی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے کے خلاف کوئی نعرہ یا گیت گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو وندے ماترم گانے پر اعتراض نہیں اگر کوئی دوسرا اسے گاتا ہے، مگر مسلمان اس گیت کو اس لیے نہیں گا سکتے کیونکہ ان کا عقیدہ توحید پر مبنی ہے اور وہ عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ وندے ماترم کے بعض اشعار میں وطن کو دیوی سے تشبیہ دی گئی ہے، جو اسلامی عقیدے سے متصادم ہے۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ ایسے میں کسی مخصوص گیت یا نظریے کو لازمی قرار دینا آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بھی واضح کر چکی ہے کہ کسی شہری کو قومی ترانہ یا کسی دوسرے گیت کو گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، اگر وہ اس کے عقیدے کے خلاف ہو۔
مولانا مدنی نے کہا کہ وطن سے محبت اور اس کی عبادت دو الگ چیزیں ہیں۔ مسلمانوں کی حب الوطنی پر کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ آزادی میں مسلمانوں اور جمعیۃ علماء ہند کے اکابرین کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں اور ملک کی آزادی اور اتحاد کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔
انہوں نے تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1937 میں رابندر ناتھ ٹیگور نے پنڈت جواہر لال نہرو کو مشورہ دیا تھا کہ وندے ماترم کے صرف ابتدائی دو بند کو قومی گیت کے طور پر قبول کیا جائے، کیونکہ بقیہ اشعار توحیدی مذاہب کے عقائد سے مطابقت نہیں رکھتے۔ بعد میں کانگریس ورکنگ کمیٹی نے بھی اسی اصول کو تسلیم کیا تھا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ موجودہ نوٹیفکیشن کے ذریعے پورے گیت کو لازمی قرار دینا ایک نئی اور متنازع کوشش ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ حب الوطنی کے جذبے کے بجائے سیاسی مقاصد کے تحت کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات ملک کے اتحاد اور آئینی اقدار کو کمزور کرتے ہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ مذہبی آزادی آئین کی بنیادی ضمانت ہے اور اسے کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔
