کلیان (مہاراشٹر) میں زیرِ تعمیر مدرسہ پر بلدیہ کی کارروائی، عمارت کا حصہ منہدم
مہاراشٹر کے شہر کلیان (مشرقی) میں بلدیہ نے ایک زیرِ تعمیر مدرسہ کی عمارت کے خلاف انہدامی کارروائی کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام میونسپل اجازت کے بغیر جاری تھا، جس کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔ تاہم اس اقدام کے بعد مقامی سطح پر یہ سوال بھی اٹھنے لگے ہیں کہ کیا اس طرح کی کارروائیاں مخصوص مذہبی اداروں کے خلاف زیادہ سختی کے ساتھ کی جا رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کلیان-ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (KDMC) نے سچک ناکا کان (Suchak Naka Quarry) کے قریب زیرِ تعمیر ایک مدرسہ کی عمارت کے خلاف کارروائی کی۔ بلدیہ کو اطلاع ملی تھی کہ اس مقام پر میونسپل ادارے کی منظوری کے بغیر تعمیر ہو رہی ہے۔ شکایت موصول ہونے کے بعد کے ڈی ایم سی کے وارڈ 4/J کے افسران نے موقع پر جا کر معائنہ کیا۔
یہ معائنہ اسسٹنٹ میونسپل کمشنر سویتا ہیلے کی قیادت میں کیا گیا۔ ان کے ساتھ میونسپل عملہ اور پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔ جانچ کے دوران حکام نے دعویٰ کیا کہ مدرسہ کی عمارت کے لیے ضروری شہری اجازت نامہ حاصل نہیں کیا گیا تھا۔
معائنہ مکمل ہونے کے بعد میونسپل انتظامیہ نے موقع پر ہی انہدامی کارروائی شروع کر دی۔ جے سی بی مشین کی مدد سے عمارت کے ایک حصے کو گرا دیا گیا۔ بلدیہ کے مطابق یہ کارروائی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلدیاتی قوانین کے تحت کی گئی۔
کارروائی کے دوران کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں غیر منظور شدہ تعمیرات کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے اور آئندہ بھی ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
تاہم اس طرح کے واقعات ایک وسیع تر بحث کو بھی جنم دیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ملک کے مختلف حصوں میں مدارس اور دیگر مسلم مذہبی اداروں کے خلاف انہدامی کارروائیوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، لیکن جب ایسے اقدامات زیادہ تر ایک ہی نوعیت کے مذہبی اداروں پر ہوتے دکھائی دیں تو اس سے عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔
کلیان میں مدرسہ کی عمارت کے ایک حصے کو منہدم کرنے کی یہ کارروائی بھی اسی بحث کا حصہ بن گئی ہے۔ قانونی ضابطوں کی پابندی اپنی جگہ ضروری ہے، مگر یہ سوال بھی اہم ہے کہ قانون کا نفاذ ہر جگہ یکساں طور پر ہو اور کسی کمیونٹی کو یہ احساس نہ ہو کہ اس کے مذہبی ادارے خاص طور پر نشانے پر ہیں۔
