125 سالہ مدرسہ رحمانیہ سوپول کا بہار مدرسہ بورڈ سے الحاق ختم کرنے کا فیصلہ، اختلافات گہرے
دربھنگہ (روایت نیوز ڈیسک)، 11 فروری 2026 بہار کے ضلع دربھنگہ میں واقع تقریباً 125 سالہ قدیم دینی درسگاہ مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول کی مجلسِ شوریٰ، عاملہ اور ٹرسٹیز کے مشترکہ اجلاس میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے الحاق ختم کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ مدرسہ میں مکمل طور پر درسِ نظامی کے روایتی نصاب کے مطابق تعلیمی نظام نافذ کیا جائے گا اور اس سلسلے میں باضابطہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
یہ اجلاس 11 فروری 2026 کو منعقد ہوا، جس میں دو سو سے زائد علماء، اساتذہ، سماجی، تعلیمی اور عوامی شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں پیش کی گئی تجاویز میں کہا گیا کہ مدرسہ بورڈ سے الحاق کے بعد تعلیمی نظام میں کچھ کمزوریاں پیدا ہوئیں اور ادارے کی اصل دینی شناخت متاثر ہوئی۔ متعدد اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ مدرسہ کا قیام دینی تعلیم اور اشاعتِ علم کے لیے ہوا تھا، اس لیے اس کی اصل تعلیمی روح کو برقرار رکھنے کے لیے درسِ نظامی کا مکمل نفاذ ضروری ہے۔
اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ ماضی کے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ جب اقلیتی تعلیمی ادارے مکمل طور پر سرکاری نظام کے تابع ہو جاتے ہیں تو ان کی تعلیمی سمت اور خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔ اسی بنیاد پر مجلسِ شوریٰ نے الحاق ختم کرنے کی تجویز کو متفقہ طور پر منظور کیا۔ مدرسہ کے قائم مقام مہتمم مولانا محمد شہاب الدین ندوی ازہری نے ادارے کی تعلیمی سرگرمیوں پر تفصیلی رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ جدید تقاضوں کے مطابق ’’دارالحکمت‘‘ کے نام سے ایک نیا تعلیمی شعبہ قائم کیا گیا ہے، جس میں طلبہ عربی اور انگریزی زبان کی مہارت حاصل کر رہے ہیں۔
تاہم اس فیصلے کے ساتھ ہی مدرسہ کے اندر اختلافات بھی واضح ہو کر سامنے آئے ہیں۔ مقامی ذرائع اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مدرسہ انتظامیہ اور ذمہ داران عرصے سے دو گروپوں میں منقسم ہیں۔ ایک گروہ الحاق ختم کرنے کے فیصلے کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ دوسرا گروہ اس کے ممکنہ نقصانات کے حوالے سے سنجیدہ خدشات ظاہر کر رہا ہے۔
الحاق برقرار رکھنے کے حامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر مدرسہ کا بہار مدرسہ بورڈ سے الحاق ختم ہو گیا تو طلبہ کی اسناد کی سرکاری حیثیت ختم ہو جائے گی، جس سے ان کے اعلیٰ تعلیم اور سرکاری ملازمت کے مواقع متاثر ہوں گے۔ اس کے علاوہ مدرسہ کو ملنے والی سرکاری امداد، اساتذہ کی تنخواہیں اور طلبہ کی اسکالرشپس بھی بند ہو سکتی ہیں۔ والدین کا اعتماد متاثر ہونے اور نئے داخلوں میں کمی آنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مدرسہ رحمانیہ سوپول کو 1992 میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے الحاق حاصل ہوا تھا، جس کے بعد یہاں کے طلبہ کو سرکاری طور پر تسلیم شدہ اسناد ملتی رہی ہیں۔ مدرسہ نے گزشتہ کئی دہائیوں میں بڑی تعداد میں علماء، حفاظ اور دینی کارکن تیار کیے ہیں، جو مختلف علاقوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مقامی سطح پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مدرسہ کے اندرونی اختلافات اور عہدوں کی کشمکش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مدرسہ کے دو الگ انتظامی دھڑے موجود ہیں اور دونوں اپنے اپنے فیصلوں اور دعووں کے ساتھ سرگرم ہیں۔ اساتذہ بھی مختلف گروپوں میں تقسیم ہیں اور دونوں فریق اپنے اپنے موقف کو درست قرار دے رہے ہیں۔
تعلیمی ماہرین اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ الحاق ختم کرنے کا فیصلہ ایک بڑا اور دور رس اثرات رکھنے والا قدم ہے، جس کا براہ راست اثر طلبہ کے مستقبل، تعلیمی معیار اور ادارے کی مجموعی حیثیت پر پڑ سکتا ہے۔ بعض افراد نے ماضی کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الحاق ختم کرنے کے بعد تعلیمی معیار میں فوری بہتری کی ضمانت نہیں ہوتی، بلکہ بعض مواقع پر طلبہ کو اسناد اور ملازمت کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
فی الحال مدرسہ کی مجلسِ شوریٰ نے الحاق ختم کرنے کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، مگر اس فیصلے پر اختلاف اور خدشات کے باعث ادارے کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے۔ مقامی حلقوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ کوئی بھی فیصلہ طلبہ کے مفاد، تعلیمی استحکام اور ادارے کے طویل المدتی مستقبل کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔
