Photo: Dainik Bhaskar (English)
غالب شمس
مدھیہ پردیش کے کٹنی ریلوے اسٹیشن پر گزشتہ ہفتے کی دیر رات ہونے والی تلاشی نے ایک بار پھر ملک میں اقلیتی تعلیمی نظام، پسماندہ علاقوں کی سماجی و معاشی مجبوریوں اور حکومتی اداروں کے رویوں پر بحث کا ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ پٹنہ سے پونے جانے والی ایکسپریس کے مختلف کوچز میں سوار بہار کے ضلع ارریہ سے تعلق رکھنے والے 167 مسلم طلبہ کو جس طرح حراست میں لیا گیا، اسے ایک طرف تو میڈیا اور سرکاری عملے نے دانستہ طور پر ‘انسانی اسمگلنگ’ جیسے سنگین شبہات کے گرد گھمایا اور اسے ایک مشکوک رنگ دینے کی بھرپور کوشش کی، لیکن دوسری طرف یہ ان غریب خاندانوں کی تعلیمی جدوجہد کی ایک دردناک داستان ہے جو اپنے نونہالوں کے روشن مستقبل کی خاطر انہیں ہزاروں میل دور بھیجنے پر مجبور ہیں۔
واقعہ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ آر پی ایف اور جی آر پی نے ایک خفیہ اطلاع کی بنیاد پر پلیٹ فارم نمبر 5 پر ٹرین کو گھیر لیا اور کوچ نمبر S1 سے S7 تک تلاشی لی۔ ان بچوں کے ساتھ موجود صدام نامی شخص، جس نے خود کو مہاراشٹر کے لاتور میں واقع ایک مدرسے کا استاد بتایا، کا دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ دس برسوں سے ان بچوں کو تعلیم کے لیے لے جا رہا ہے۔ اگرچہ میڈیا نے اسے ‘ریسکیو آپریشن’ کے طور پر پیش کیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انتظامیہ کے پاس اس کارروائی کے جواز کے طور پر صرف یہ نکتہ تھا کہ بچوں کے پاس سرکاری اجازت نامے اور مکمل دستاویزی ثبوت موجود نہیں تھے۔ اسی دستاویزی خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے معاملے کو ‘مشتبہ’ بنا دیا گیا اور بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن ٹیم کی کونسلنگ میں بھیج کر اہل خانہ سے تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا۔
اس معاملے نے جہاں ایک طرف انتظامیہ کے متعصبانہ رویے اور میڈیا کے سنسنی خیز بیانیے پر سوال اٹھائے ہیں، وہیں خود مسلم معاشرے کے اندر بھی ایک سنجیدہ اور تلخ بحث کو جنم دیا ہے۔ ہر سال شوال کے مہینے میں، جب مدارس کے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے، بہار اور بنگال سے بچوں کی بڑی تعداد جنوبی اور مغربی ریاستوں کا رخ کرتی ہے اور اکثر و بیشتر انہیں اسی طرح کے کربناک مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جب بہار اور بالخصوص سیمانچل کے علاقے میں خود بڑے اور معیاری مدارس موجود ہیں، تو ان معصوم بچوں کو دور دراز کے سفر کی صعوبتوں میں ڈالنے کی منطق کیا ہے؟ کیا یہ بھیجنے والوں کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت اور قانونی پہلوؤں پر پوری طرح غور کریں؟ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا قانونی بازپرس کے لیے ضروری دستاویزات کی عدم موجودگی نہ صرف بچوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہے بلکہ مخالف عناصر اور میڈیا کو بھی مدرسہ نظام پر انگلی اٹھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے شدید ردعمل دیکھا گیا۔ جہاں ایک حلقہ اسے ‘سنگھی ذہنیت’ اور بلاوجہ کی ہراسانی قرار دے کر طلبہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے، وہیں کچھ سنجیدہ فکر صارفین اسے داخلی نظم و ضبط کی کمی سے جوڑ رہے ہیں۔ ایک صارف نے یہ اہم نکتہ اٹھایا کہ اگر یوپی اور بہار کے طلبہ دوسرے صوبوں میں نہ جائیں تو وہاں کے تعلیمی ادارے خالی نظر آئیں گے، کیونکہ پورا ملک ہی افرادی قوت کے لیے ان علاقوں کا محتاج ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر مقامی سطح پر روزگار اور معیاری تعلیم کے مساوی مواقع میسر ہوتے تو ہمارے معصوم بچے یوں ٹرینوں میں مشکوک حالات میں حراست میں نہ لیے جاتے۔
یہ واقعہ ایک گہرے نظامی بحران کا عکس ہے۔ یہ سچ ہے کہ میڈیا اور انتظامیہ نے معاملے کو اسمگلنگ کا رنگ دے کر گمراہ کن بیانیہ بنانے کی کوشش کی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سرکاری اجازت ناموں اور دستاویزات کی عدم موجودگی نے انہیں یہ موقع فراہم کیا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تحقیقات کے نام پر تعلیم کے حق کو متاثر نہ کرے اور انسانی ہمدردی کا رویہ اپنائے، لیکن اس کے ساتھ ہی مدارس کے ذمہ داران اور والدین پر بھی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جذباتی ردعمل کے بجائے حقیقت پسندی سے کام لیں۔ بچوں کو طویل سفر پر روانہ کرنے سے قبل قانونی تقاضوں کی تکمیل اور بچوں کی حفاظت کا جامع لائحہ عمل تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی طالب علم کا تعلیمی سفر ‘شک’ اور ‘سیاست’ کے پلیٹ فارموں پر ادھورا نہ چھوٹے۔
