دارالعلوم دیوبند کا نصاب: اس میں خاص کیا ہے؟
اقدس عارف
گزشتہ کئی صدیوں میں برصغیر کی تاریخ میں دارالعلوم دیوبند افقِ عالم پر علم و عمل، کردار و مزاحمت کی سب سے بڑی تحریک بن کر ابھرا ہے، جس کے باہمت فضلاء ہر میدان میں اپنی لیاقتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب رہے ہیں۔ آج دنیا بھر میں متنوع تنظیموں اور بے شمار اداروں کا دارالعلوم دیوبند سے مادری تعلق ہے۔
تحریکِ دارالعلوم دیوبند کا بنیادی مقصد دینِ اسلام کی حفاظت و اشاعت کے ساتھ ساتھ ایسے باشعور افراد کی تیاری تھا جو علمِ دین سے آراستہ ہوں، اپنے وطن سے محبت رکھتے ہوں، اور حالات کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے تعمیری کردار ادا کر سکیں
اسی کے مدنظر اربابِ دارالعلوم نے ایسا متوازن نصاب مرتب کیا جو قرآن و حدیث کے علوم پر مبنی ہے، تاہم ہر دور میں ایسی کتب شاملِ نصاب رہی ہیں جو سیر و تاریخ، ملک کی سیاست و قیادت، نظم و نسق، شہریت و مدنیت اور عام ضروری معلومات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ دارالعلوم کا نصاب پڑھنے والا طالب علم بتدریج قرآنی علوم سے واقف ہوتا ہے، احادیثِ مبارکہ کے ذخیرے میں مہارت حاصل کرتا ہے، اور ساتھ ہی ملک و ملت سے متعلق عمومی معلومات سے بھی ناواقف نہیں رہتا۔ وہ معاشرے میں ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے زندگی گزارتا ہے اور مختلف سماجی میدانوں میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل بنتا ہے۔
آج دارالعلوم دیوبند کے ہزاروں فضلاء ملک اور بیرونِ ملک مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ مساجد و مدارس میں دینی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں اور صحافت جیسے میدانوں میں بھی سرگرم ہیں، اور دارالعلوم دیوبند سے اپنی وابستگی کو باعثِ افتخار سمجھتے ہیں۔ مشہور صحافی جان بٹ کا کہنا ہے: میں دارالعلوم دیوبند کا فارغ ہوں، اور میں نے صحافت مدرسے ہی میں سیکھی۔
اس کے باوجود بعض حلقوں کی جانب سے دارالعلوم دیوبند کے نصاب پر فرسودگی کا اعتراض کیا جاتا رہا ہے، اور اس ادارے سے وابستہ افراد پر قدامت پسندی یا تنگ نظری کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ ایسے اعتراضات عموماً دارالعلوم کے نصاب سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اگر سنجیدگی کے ساتھ اس نصاب کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس میں بتدریج علومِ عقلیہ و نقلیہ کے ساتھ ساتھ تاریخِ اسلام، تاریخِ ہند، جغرافیہ، صنعت و حرفت اور شہریت و مدنیت پر مشتمل کتابیں داخلِ نصاب ہیں۔
دارالعلوم دیوبند میں طالب علم ابتدائی درجے میں داخل ہوتا ہے تو قرآنِ کریم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کو بالترتیب اردو، ہندی، انگریزی، حساب و کتاب اور سائنس و جغرافیہ میں مکمل مہارت پیدا کر دی جاتی ہے۔ لہٰذا اس ابتدائی نصاب میں طالب علم کو اردو کے متعدد رسالے اور ہندی میں بھاشا کرن کے پانچ حصے باقاعدہ سبقاً سبقاً پڑھائے جاتے ہیں۔ جغرافیہ میں سرل ایٹلس یعنی اصطلاحاتِ جغرافیہ، سماجک ادھیَن کے تین حصے، اور ہمارا سماج، سائنس میں آؤ کر کے سیکھیں داخلِ نصاب ہوتی ہیں، اور انگریزی کی متعدد کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ عربی تعلیم میں داخل ہونے سے قبل طالب علم ان تمام علوم میں بڑی حد تک گرفت حاصل کر لیتا ہے۔
درسِ نظامی کے پہلے اور دوسرے سال طالب علم عربی گرامر اور علومِ عقلیہ کی بنیادی کتابیں پڑھتا ہے۔ چنانچہ ان دو سالوں میں علمِ تجوید، صرف و نحو، ادب، منطق، سیرت اور فقہ کی ابتدائی کتابیں داخلِ نصاب ہیں۔ پہلے سال میں علمِ نحو میں سید شریف جرجانی کی نحو میر اور شرح مائۃ عامل، علمِ صرف میں میزان الصرف اور منشعب پڑھائی جاتی ہے۔ تمرینِ عربی ادب کے لیے مولانا نور عالم خلیل امینی کی تصنیف کردہ مفتاح العربیہ کے دو حصے اور مولانا وحید الزمان کیرانوی کی القراءۃ الواضحہ کا پہلا حصہ داخلِ نصاب ہے، نیز مفتی شفیع عثمانی کی سیرتِ خاتم الانبیاء اور علمِ تجوید کی کتاب بھی پڑھائی جاتی ہے۔ اردو خط و املا کا گھنٹہ بھی ہوتا ہے۔
سالِ دوم میں ہدایۃ النحو اور علمِ صرف میں علم الصیغہ، اس کے بعد فصول اکبری پڑھائی جاتی ہے۔ عربی ادب کے لیے القراءۃ الواضحہ (دوم) اور نفحۃ الادب ہوتی ہے۔ علمِ منطق میں اپنے فن کی منفرد اردو کتاب آسان منطق اور المرقاۃ (عربی) پڑھائی جاتی ہے۔ اسی سال سے علمِ فقہ کا آغاز بھی ہو جاتا ہے، اور فقہ میں نور الایضاح اور مختصر القدوری کا کچھ حصہ پڑھایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں علمِ تجوید میں حضرت تھانویؒ کی جمال القرآن بھی داخلِ نصاب ہے۔
تیسرے سال سے طالب علم علومِ آلیہ کی اعلیٰ کتابوں کے ساتھ ساتھ ترجمۂ قرآنِ کریم نحوی و صرفی تحقیق کے ساتھ سبقاً سبقاً پڑھتا ہے۔ اس سال علمِ نحو کی جامع کتاب کافیہ (ابن حاجب) پڑھائی جاتی ہے۔ عربی ادب میں القراءۃ الواضحہ (سوم) اور مولانا اعزاز صاحب امروہوی کی نفحۃ العرب داخلِ نصاب ہے۔ علمِ منطق میں شرح تہذیب (عبداللہ یزدی) اور علمِ فقہ کی مشہور کتاب مختصر القدوری مکمل پڑھائی جاتی ہے۔ اسی سال سے علمِ حدیث کی کتاب بھی شاملِ نصاب ہے، تاہم تاریخ میں خلافتِ راشدہ کا امتحان لازمی رہتا ہے۔
عربی چہارم میں قرآنِ کریم کے ترجمے کا سلسلہ، حدیث و فقہ کی کتب کے علاوہ تاریخِ اسلام، تاریخِ ہند، جغرافیہ اور علمِ مدنیت پر مشتمل کتب شاملِ نصاب ہیں۔ چنانچہ ترجمۂ قرآنِ کریم سورۂ یوسف سے سورۂ ق تک پڑھایا جاتا ہے، اور علمِ حدیث میں مولانا منظور نعمانی کی الفیۃ الحدیث پڑھائی جاتی ہے۔ علمِ فقہ میں شرح وقایہ (دو جلدیں) زیرِ درس ہوتی ہیں، اور فنِ منطق میں قطبی پڑھائی جاتی ہے۔ اس سال تک علمِ بلاغت اور اصولِ فقہ کا آغاز بھی ہو جاتا ہے، لہٰذا فنِ بلاغت میں ابتدائی کتاب دروس البلاغہ اور اصولِ فقہ میں تسہیل الاصول اور اصول الشاشی پڑھائی جاتی ہے۔ تاریخِ اسلام میں تاریخِ ملت: خلافتِ بنو امیہ بھی نصاب کا حصہ ہے۔ علاوہ ازیں اسی سال علومِ عصریہ میں تاریخ، جغرافیہ اور علمِ مدنیت کی کتابیں بھی پڑھائی جاتی ہیں جو مستقل درس اور نصاب کا حصہ ہیں۔
عربی پنجم علومِ آلیہ کا آخری سال مانا جاتا ہے، اور اب طالب علم ترجمۂ قرآنِ کریم مکمل کر لیتا ہے، جس کا آغاز عربی سوم کے سال سے لغت، نحوی ترکیب اور قرآنی علوم کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس سال فقہ کی مشہور کتاب ہدایہ (شیخ ابو الحسن مرغینانی) کی پہلی جلد درس میں داخل ہو جاتی ہے، جس کی دوسری جلد عربی ششم میں اور ہدایہ آخرین ساتویں سال پڑھائی جاتی ہے۔ علمِ بلاغت کی مفصل کتاب مختصر المعانی پڑھائی جاتی ہے۔ اس سال علمِ کلام میں امام طحاویؒ کی عقیدۃ الطحاوی پڑھائی جاتی ہے، جبکہ تاریخ کی کتاب سلاطینِ ہند بھی داخلِ نصاب ہے۔
عربی ششم میں تفسیر کی جامع کتاب جلالین شریف پڑھائی جاتی ہے۔ علامہ جلال الدین محلی اور علامہ جلال الدین سیوطیؒ کی یہ کتاب اختصار اور جامعیت میں بے نظیر ہے، جبکہ اصولِ تفسیر میں امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی مایہ ناز تصنیف الفوز الکبیر بھی ساتھ میں پڑھائی جاتی ہے۔ اصولِ فقہ میں حسامی پڑھائی جاتی ہے، اور عربی ادب میں دیوانِ متنی کے منتخب قصائد شاملِ نصاب ہوتے ہیں۔ اس سال فلسفہ کی کتابیں بھی ہوتی ہیں؛ پہلے مبادیات کے لیے مفتی سعید صاحب پالنپوریؒ کی مبادی الفلسفہ اور اس کے بعد میبذی پڑھائی جاتی ہے، اور سیرت کی مشہور کتاب اصح السیر کا امتحان بھی لازمی ہوتا ہے۔
درسِ نظامی کا ساتواں سال موقوف علیہ کہلاتا ہے۔ اس سال حدیث، اصولِ حدیث، عقائد، علمِ میراث اور فقہ کی بڑی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ چنانچہ حدیث کی معروف کتاب مشکوٰۃ المصابیح (شیخ محمد بن عبداللہ خطیب تبریزی) اور اصولِ حدیث میں علامہ ابن حجر عسقلانیؒ کی معروف کتاب شرح نخبۃ الفکر شاملِ نصاب ہے۔ علاوہ ازیں علامہ سعد الدین تفتازانیؒ کی مقبول کتاب شرح العقائد النسفیہ اور علم الفرائض میں سراجی پڑھائی جاتی ہے۔ یوں یہ سال دورۂ حدیث شریف کے لیے موقوف علیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
درسِ نظامی کے آخری سال میں حدیث کی وہ چھ کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جنہیں صحاحِ ستہ کہا جاتا ہے۔ اس میں حدیث پر فنی گفتگو ہوتی ہے، ائمۂ اربعہ کے مذاہب کے دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔ طالب علم مختلف کتبِ حدیث پڑھ کر اس فن میں مکمل مہارت حاصل کرتا ہے، اور رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے دین و دنیا کے ہزاروں گوشوں کو جانتا ہے۔
یہ دارالعلوم دیوبند کا عمومی نصاب ہے جو ہر فاضل کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں کسی بھی علم و فن میں مہارتِ تامہ حاصل کرنے کے لیے تکمیلات اور تخصصات کے شعبے قائم کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے ان علوم سے متعلق مرجع کتب پڑھائی جاتی ہیں، جن میں تجوید و قراءت، تفسیر، تخصص فی الحدیث، تکمیلِ افتا، عربی ادب، ڈپلومہ ان انگلش، ڈپلومہ ان کمپیوٹر، ڈپلومہ برائے انشاء و صحافت، اور دیگر شعبہ جات شامل ہیں۔
دارالعلوم دیوبند کا فاضل ان تمام علوم و فنون سے آراستہ ہوتا ہے، اور مختلف شعبہ جات میں اپنی خدمات انجام دیتا ہے۔ یہاں ہر فاضل معاشرے میں متمدن زندگی گزارتا ہے، اور شہریت و مدنیت کے اصولوں سے واقفیت رکھتا ہے، نیز ملک کے قوانین اور سیاست میں سمجھ بوجھ رکھتا ہے۔
