حضرت مولانا طاہر مظاہری : حیات و خدمات کے تابندہ نقوش
اقدس عارف
گزشتہ دو صدیوں میں ضلع سہارنپور کو تعلیم و تعلم اور دینی تربیت کے باب میں ایک مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اس عرصے میں یہاں سے متعدد علمی و تعلیمی تحریکیں اٹھیں، جنہوں نے ملک اور بیرونِ ملک علمی فضا پر اثر ڈالا۔ اس خطے کا ماضی علما، صوفیا اور علمی شخصیات کی طویل روایت سے جڑا ہوا ہے، اور آج بھی یہاں کے مدارس اور اہلِ علم اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
ضلع سہارنپور کے ایک دور افتادہ گاؤں ‘باقر پور’ سے تعلق رکھنے والے حضرت مولانا محمد طاہر صاحب مظاہری سہارنپور کے ایک مایہ ناز محدث، تجربہ کار مدرس اور مقبول شیخِ طریقت ہیں، قدرت نے انہیں علمی ذوق، تدریسی صلاحیت اور تحقیق سے شغف عطا کیا ہے۔ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مدرسہ فیض ہدایت رحیمی، رائے پور میں تدریس سے وابستہ ہیں، جہاں درسِ نظامی کی بیشتر کتابیں ان کے زیرِ درس رہ چکی ہیں۔
انہوں نے تیس برس حدیث کی معروف کتاب “مشکوٰۃ شریف” کا درس دیا، ان کا درس مشکوۃ بے حد مقبول ہوا، جبکہ پچھلے کئی سالوں سے “بخاری شریف” کا درس دے رہے ہیں، آج ملک کے مختلف حصوں میں ان کے شاگرد دینی و تعلیمی خدمات میں مصروف ہیں، اور متعدد مدارس ان کی سرپرستی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
خاندانی پسِ منظر:
مولانا کا تعلق ضلع سہارنپور کے گاؤں باقر پور سے ہے۔ یہ گاؤں ماضی میں تعلیمی اور تہذیبی اعتبار سے پسماندہ سمجھا جاتا تھا۔ ان کے والدین اور خاندان کے بیشتر افراد ناخواندہ تھے، بلکہ پورے گاؤں میں کوئی باقاعدہ عالمِ دین موجود نہ تھا۔ پیشے کے لحاظ سے یہاں کے لوگ زیادہ تر کھیتی باڑی اور مویشی پروری سے وابستہ تھے، اور مولانا کا خاندان بھی اسی پیشے سے جڑا ہوا تھا۔
پیدائش اور ابتدائی تعلیم:
1370ھ مطابق 12 مئی 1951ء کو جناب چودھری شریف مرحوم کے یہاں مولانا کی پیدائش ہوئی اور نام محمد طاہر رکھا گیا۔ بچپن میں وہ جسمانی طور پر کمزور تھے اور کئی سنگین بیماریوں سے بھی دوچار رہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب گھر والوں کو ان کی زندگی کی امید کم دکھائی دینے لگی، مگر بعد کے برسوں میں صحت بہتر ہوتی گئی۔
ابتدائی تعلیم انہوں نے گاؤں کی مسجد میں حاصل کی۔ نورانی قاعدہ گاؤں کے مکتب میں میاں منصور علی پٹھلوکری مرحوم سے پڑھا۔ استاد کے انتقال کے بعد ناظرہ قرآن کی تکمیل حافظ زندہ حسن کے پاس کی۔ فطری ذہانت کا یہ عالم تھا کہ صرف گیارہ برس کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا۔ حفظ کے اساتذہ میں حافظ فتح محمد جمال پوری اور حافظ شبیر صاحب شامل ہیں۔
گاؤں کی روایت کے مطابق یہاں تعلیم مکمل سمجھی جاتی تھی، اس لیے کچھ عرصہ مولانا نے تعلیم ترک کر کے والد کے ساتھ کھیتی باڑی میں ہاتھ بٹایا۔ دو برس اسی طرح گزر گئے۔
عربی تعلیم کا آغاز
قرآن کی تکمیل کے دو برس بعد تعلیم کا کوئی واضح منصوبہ نہیں تھا، مگر حالات نے نیا رخ اختیار کیا۔ قریبی مدرسہ انوار القرآن نعمت پور سے دو اساتذہ امتحان کے لیے آئے۔ مولانا کا بھی امتحان لیا گیا۔ انہوں نے ہر سوال کا اطمینان بخش جواب دیا، جس سے ممتحن خاصے متاثر ہوئے۔ اسی موقع پر گھر والوں کو مزید تعلیم کے لیے آمادہ کیا گیا اور یوں ان کے تعلیمی سفر کی نئی راہ ہموار ہوئی۔
درسِ نظامی کی تعلیم:
28 شوال 1385ھ مطابق 19 فروری 1965ء کو مولانا کا داخلہ مدرسہ انوار القرآن نعمت پور، ضلع سہارنپور میں کرایا گیا۔ فارسی سے عربی چہارم تک کی تعلیم یہیں حاصل کی۔ محنت، یکسوئی اور مستقل مزاجی ان کی نمایاں صفات تھیں۔ ہر جماعت میں اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی اور اساتذہ کا اعتماد حاصل کیا۔
یہاں ان کے اساتذہ میں حضرت مولانا عبد الستار بوڈیوی، مولانا نظیر مظفرآبادی، مولانا محمد احمد نوگانوی اور منشی عبد الغفور صاحبان قابل ذکر ہیں۔
مظاہر علوم سہارنپور:
نعمت پور میں عربی چہارم تک تعلیم کے بعد، شوال 1389ھ مطابق 1969ء میں مولانا نے مظاہر علوم سہارنپور میں داخلہ لیا۔ عربی پنجم سے دورۂ حدیث تک کی تعلیم یہیں مکمل کی۔ دورانِ تعلیم اساتذہ کی صحبت سے بھرپور فائدہ اٹھایا، جس کا اثر ان کے علم اور مزاج میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔
مظاہر علوم سہارنپور میں انہوں نے جلیل القدر اساتذہ سے تعلیم حاصل کی، مختصر المعانی حضرت شیخ محمد یونس جونپوری اور مولانا سلمان صاحب (سابق ناظم: مظاہر علوم) سے، جلالین شریف حضرت مفتی عبد القیوم صاحب رائے پوری سے اور مشکوٰۃ شریف حضرت مفتی یحیی صاحب سے پڑھی، دورہ حدیث شریف میں حضرت شیخ محمد یونس صاحب جونپوری، مولانا سید محمد عاقل صاحب سہارنپوری اور مفتی مظفر صاحب جیسے عباقرہ ان کے اساتذہ شامل تھے۔
تدریسی خدمات:
حضرت مفتی عبد العزیز صاحب رائے پوری ( سابق ناظم: مظاہر علوم سہارنپور) نے دورۂ حدیث کے سال ان کے امتحان کی کاپی چیک کی، اور ان کی علمی صلاحیت و لیاقت اور خوش نویسی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، ان سے ملاقات کے بعد مفتی صاحب کی جوہر شناس نگاہ نے ‘مدرسہ فیض ہدایت رائے پور’ کے لیے ان کا انتخاب فرما دیا، چنانچہ 1392ھ مطابق 1972ء کو مدرسہ فیض ہدایت رحیمی رائے پور میں بحیثیت استاذ، بہ مشاہرہ ستر روپیے ان کا تقرر ہوا، مدرسے میں ابتدائی کتابوں کے اسباق اور بعض دفتری امور ان سے متعلق ہوئے، اس وقت سے لیکر آج تک اسی مدرسے میں علمی و تدریسی خدمات میں مصروفِ عمل ہیں، ان 55/ برسوں میں آپ نے تدریس کے علاوہ مدرسے کی دوسری اہم خدمات آپ کے ذمہ میں رہی ہیں۔
بخاری شریف کا درس:
55 برس کی اس طویل مدت میں علومِ عالیہ و آلیہ کی اکثر کتابیں ان کے زیرِ درس رہیں، ‘تیسر المبتدی’ سے لیکر شرح جامی تک درسِ نظامی کے سارے علوم و فنون کی مشہور کتابیں پڑھائیں ہیں، کافیہ اور شرح جامی کا سبق ایک مدت تک آپ کے متعلق رہا، اور سالہا سال تفسیر جلالین شریف پڑھاتے رہے ہیں، 1407ھ میں مشکوٰۃ شریف کا ان سے متعلق ہوا، اور مسلسل تیس سال تک اس کتاب کا درس دیتے رہے، اس دوران درسِ مشکوٰۃ نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی، جس کا شہرہ دور دور تک پھیل گیا، حتی کہ مظاہر علوم کے کبار اساتذہ طلبہ کو یہاں مشکوٰۃ شریف پڑھنے کے لیے بھیجا کرتے تھے، طلبہ شوق کے پروں سے اڑ کر ان کے حلقۂ درس میں شرکت کے لیے رائے پور کا رخ کیا کرتے تھے۔
2015ء میں جب مدرسے میں دورۂ حدیث کا آغاز ہوا، تو بخاری شریف کے درس کا فال نیک انہی کے نام نکلا، اور تاحال بخاری جلد اول آپ پڑھاتے ہیں، کچھ سال تو دونوں جلدیں اور مسلم شریف بھی آپ ہی کے زیرِ درس رہی۔
درس کا انداز
ان کا درس تحقیق اور وضاحت کا امتزاج ہوتا ہے۔ عبارت کے ہر جز پر توجہ دی جاتی ہے، اشکالات کی نشان دہی اور ان کے جوابات پیش کیے جاتے ہیں۔ حدیث کی تشریح میں متن، مفہوم، پس منظر اور فقہی نکات سبھی پہلوؤں کو سمیٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لہجہ سادہ، آواز متوازن اور گفتگو میں روانی ہوتی ہے، جس کے باعث طلبہ پوری توجہ کے ساتھ درس میں شریک رہتے ہیں، ہر ادنی طالب علم کی رعایت کرتے ہوئے مفصل کلام کے عادی ہیں۔
ان کے درس حدیث میں بیک وقت احادیث کریمہ کی مکمل و ضاحت ہوتی ہے، احادیث کے ضمن میں آنے والے مسائل کی مکمل تشریح اور مختلف فیہ مسائل میں ائمہ کے اقوال دلائل کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں، ضرورت کے وقت رواۃ کے حالات اور حدیث پر محدثانہ جرح و تعدیل بھی فرماتے ہیں، علاوہ ازیں حدیث کا لفظی ترجمہ اور کلمات کی مکمل تحقیق بیان کرنے کو وہ ضروری سمجھتے ہیں، الغرض طالب علم کو کسی طرح کی کوئی تشنگی باقی نہیں رہتی۔
مبادیاتِ حدیث
مشکوٰۃ شریف کے درس سے قبل وہ مبادیاتِ حدیث پر مختصر مگر جامع گفتگو کرتے تھے۔ یہ نوٹس دراصل ان کے مطالعے اور اساتذہ سے حاصل کردہ نکات کا خلاصہ تھے۔ وقت کے ساتھ یہ نوٹس طلبہ میں خاصے مقبول ہو گئے۔ 2015ء میں مولوی محمد فرمان صاحب نے انہیں کتابی شکل دی، جو طلبہ اور اساتذہ کے درمیان پسند کی گئی۔
مشہور تلامذہ:
نصف صدی سے زائد عرصے سے مولانا مسندِ تدریس کو زینت بخشے ہوئے ہیں، اس دوران انہوں نے درسِ نظامی کے تمام علوم و فنون کی اکثر کتابوں کا درس دیا ہے، اس عرصے میں ہزاروں تلامذہ نے ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا، آج ہزاروں کی تعداد میں ان کے شاگرد دینی خدمات اور علمی مصروفیات میں منہمک ہیں، اگر یہ کہا جائے تو بالکل مبالغہ نہ ہوگا کہ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں ان کے روحانی فرزندان ہندوستان بھر میں دینی علمی خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کے مشہور تلامذہ میں حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب (مہتمم: مدرسہ فیض ہدایت رحیمی رائے پور) مولانا شمعون صاحب، مفتی نفیس صاحب رائے پوری، مفتی انصار صاحب (اساتذہ: مدرسہ فیض ہدایت رائے پور) مولانا محمد عمران صاحب ( استاذ تفسیر: مدرسہ فیضان رحیمی مرزاپور پول) مولانا نسیم صاحب پاڈلی، مولانا الطاف صاحب کھجناوری، مولانا طیب صاحب عماد پوری، مولانا زاہد صاحب ترفوی اور مولانا بلال رحیمی مجھاروی صاحب وغیرہم جیسے قابل قدر حضرات شامل ہیں۔
انتظامی ذمہ داریاں:
تدریس کے ساتھ ساتھ مدرسے کے انتظامی امور میں بھی ان کا کردار رہا۔ ان کی دیانت اور نظم و ضبط کو دیکھتے ہوئے انہیں نائب مہتمم اور ناظمِ مالیات کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے وہ آج تک سنبھالے ہوئے ہیں۔
اداروں کی سرپرستی:
علمائے رائے پور کا ایک اہم کارنامہ مکاتب ومدارس کا قیام رہا ہے، مغربی یوپی، اتراکھنڈ، ہریانہ، پنجاب اور ہماچل پردیش میں دار العلوم دیوبند کی تحریک یعنی قیامِ مدارس انہیں بزرگوں کے ہاتھوں عمل میں آئی ہے، جن میں قطب الاقطاب حضرت مولانا شاہ عبد الرحیم صاحب رائے پوری، مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری، مفتی عبد القیوم رائے پوری اور مفتی عبد العزیز رائے پوری رحمہم اللّٰہ تعالیٰ کے اسماء قابلِ ستائش ہیں، یہاں کے اکثر مدارس انہیں بزرگوں کے نام سے موسوم ہیں، اور یہ مدارس انہیں کی سرپرستی ونگرانی میں چلا کرتے تھے۔ مفتی عبد العزیز صاحب رائے پوری نے اس کام کو مزید وسعت دی تھی، حضرت مفتی صاحب کے بعد یہ ذمہ داری جن لوگوں کے حصے میں آئی ان میں حضرت مولانا سر فہرست ہیں، فی الوقت درجنوں مدرسوں اور تعلیمی اداروں کو ان کی سرپرستی حاصل ہے، جن میں مدرسہ فیضان رحیمی مرزاپور پول، مدرسہ قادریہ مسر والا، زینت العلوم نارائن گڈھ (ہریانہ) جامعہ رحیمیہ دودھ گڈھ وغیرہ کو ان کی سرپرستی یا صدارت میں ہیں، اس کے علاوہ مدرسہ عزیز القرآن چانڈی گھیر، مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ باقر پور (سہارنپور) کے مولانا مہتمم ہیں، ان اداروں کے انتظام و انصرام اور تعلیمی و تربیتی سرگرمیاں انہی کے مشورہ یا اجازت سے ہوتی ہیں۔
بیعت و خلافت
طالب علمی کے زمانے سے ہی اساتذہ کی صحبت اور ان کی مجالس سے انہیں خاص لگاؤ رہا۔ دورۂ حدیث کے زمانے میں مولانا شیخ زکریاؒ سے بیعت کا تعلق قائم ہوا، تاہم بڑھتی عمر اور ضعف کے باعث زیادہ استفادہ ممکن نہ ہو سکا۔ بعد ازاں سن 1403ھ میں صوفی فتح محمد دہلوی، خلیفہ مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری سے اجازت حاصل ہوئی۔ مولانا شیخ محمد یونس جونپوری سے تعلق طویل عرصے تک قائم رہا، اور 1996ء میں انہوں نے خلافت کی اجازت عطا کی۔
مکارم و محاسن:
اللہ تعالیٰ نے ان کو علم وعمل کے ساتھ ساتھ تقوی و طہارت، زہد و ورع، اخلاق حمیدہ اور اوصاف حسنہ کی دولت سے مالامال کیا ہے، انہوں نے اپنے اساتذہ سے نہ صرف علم و ادب لیا بلکہ ان کی تمام صفات کو اخذ کیا، آپ نہایت نیک طینت خصال شخصیت کے حامل ہیں، مولانا تواضع و انکساری، حلم و بردباری، بے نفسی عاجزی و دیگر اعلی اخلاق جیسی صفات سے متصف ہیں، ان صفات میں وہ اکابر و اسلاف کے بہترین نمونہ ہیں۔
اخلاق و عادات:
آپ انتہائی نیک خو طبیعت کے مالک ہیں، شرافت آپ کی فطرت میں داخل ہے، آپ نا موزوں حالات میں بھی خوش باش رہنے کا ہنر جانتے ہیں، طبیعت کے خلاف رویوں سے کبھی ترش رو نہیں ہوتے ہیں، اسی لیے لوگ آپ کے پاس وقت بے وقت آتے جاتے رہتے ہیں، اور بلا خوف اپنی ضروریات کا اظہار کرتے ہیں۔ دن بھر تدریسی مصروفیات کے باوجود لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے، ان کا دروازہ ہمہ وقت کھلا رہتا ہے، جو جب چاہتا ہے آجاتا ہے نہ تو آپ ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں نہ ناک بھوں چڑھاتے ہیں، بسا اوقات سخت دوپہر میں آرام کے وقت لوگ آتے ہیں، آپ ان سے بھی ملاقات کرلیتے ہیں۔
زائد از ضرورت باتوں سے وہ ہمیشہ گریز کرتے ہیں، ان کی مجلس میں وقار اور سنجیدگی چھائی رہتی ہے، طنز و مزاح اور بے تکی باتوں سے ان کی مجلس پاک ہوتی ہے، وقت آنے پر ہر کسی کے کام آتے ہیں، طلبہ اور اساتذہ کے حق میں بڑے خیر خواہ ہیں، کسی کی سفارش کرنے اور لائق طلبہ کو میدان عمل فراہم کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتے، کسی کی طرف سے دل میں کبھی کوئی بات نہیں رکھتے، چہ جائے کہ کسی سے انتقام لینے کا سوچیں، مولانا ہمیشہ کہتے ہیں: بھائی میری کوشش تو یہ ہوتی ہے کسی بھی مسلمان کو میری طرف سے کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچنے پائے۔
علمی آلات کا ادب
مولانا کا جو وصف اسلاف کی یاد تازہ کراتا ہے وہ ان کے کتاب و قلم اور دیگر علمی آلات کا غایت ادب ہے، جس کو دیکھ کر آدمی ادب کے باب میں اسلاف و اکابر کے واقعات کی زندہ تصویر دیکھتا ہے، ہمیشہ با وضو درس و تدریس اور مطالعہ کا اہتمام کرتے ہیں، دو زانو ہو کر حدیث پڑھاتے ہیں، تعجب ہے کہ وہ دو گھنٹہ سبق پڑھائیں یا چار گھنٹہ وہ دو زانو ہی بیٹھے رہتے ہیں، گھٹنہ بدلتے ہیں نہ ٹیک لگاتے ہیں، بس وہ کتاب کی عبارتوں میں کھو جاتے ہیں۔
اپنے اساتذہ کا نام لیتے وقت عجیب کیفیت طاری ہو جاتی یے، کیف و سرور میں ان کا تذکرہ کرتے ہیں، احترام کا یہ عالم ہے کہ اپنے مادر علمی مظاہر علوم سہارنپور کے احاطہ میں کبھی سواری پر سوار ہوکر داخل نہیں ہوئے، ایک مرتبہ بے دھیانی میں ایسا ہوا تو بڑا احساس کیا۔
علمی مصروفیات:
مولانا کو زمانہ طالب علمی ہی سے کتابوں سے غایت درجہ وابستگی رہی ہے، آج بھی مزاج یہ ہے کہ علمی شغف کے سوا کچھ نظر نہیں آتا، کتابوں کو اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا ہے، اس پیرانہ سالی میں بھی نصف شب تک مطالعے میں منہمک رہتے ہیں، جبکہ دن بھر تدریسی اور اصلاحی مجالس رہتی ہے، اور مدرسہ کے دوسرے امور دیکھتے ہیں۔
جب مطالعہ کرتے ہیں تو وہ دنیا وما فیہا سے بے خبر ہو جاتے ہیں، اگر حضرت مطالعہ میں مشغول ہوں تو ان کے اکثر متعلقین آکر خاموشی سے بیٹھ جاتے ہیں، بسا اوقات آنے والا ان کے سامنے بیٹھ کر چلا جاتا ہے اور ان کو خبر بھی نہیں ہوتی، اور ایسا تو اکثر ہوتا ہے کہ کوئی ان کے سامنے بیٹھا رہتا ہے، اور مولانا کو بہت دیر بعد اس کی حرکتوں کی وجہ سے خبر ہوتی ہے، مطالعہ کا یہ استغراق ہم ایسے طالبوں کے لیے قابل رشک ہے۔
ذاتی تاثرات
اپنے بچپن اور لاشعوری کے زمانے میں ارد گرد کے ماحول میں جن اکابر کا تذکرہ سننے کا موقع ملا ان میں حضرت مولانا کا اسم گرامی بھی تھا، عربی دوم کے سال جب میرے والد قاری عارف صاحب کا انتقال ہوا اس وقت میرے سر پر دست شفقت رکھنے والے حضرات میں مولانا بھی تھے، انہوں نے جس شفقت و محبت اور ہمدردی کا اظہار فرمایا وہ میرے ذہن میں منقش ہوگیا، اس نازک وقت میں ان کے کلماتِ تعزیت دل میں گھر کر گیے تھے۔
لاک ڈاؤن کے دوسرے سال حضرت کی خدمت میں جانے کا خوب موقع میسر آیا، حضرت کے درس میں شریک ہوا، آپ کی آواز میں ایک خاص قسم کی کشش اور اپنائیت محسوس کی، یہ آواز میری روح کی تسکین کا سامان ہوگئی، غور کرنے سے معلوم ہوا کہ آپ کی آواز والد صاحب کے استاد و شیخ حضرت مولانا عبد الستار صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے عین مشابہ ہے، جس میں حضرت قاری طیب صاحب علیہ الرحمہ کے لہجے کی جھلک نظر آتی ہے۔
مجھے ان سے باقاعدہ تعلیم کا موقع تو نہ مل سکا، مگر بخاری شریف کے کئی اسباق میں بیٹھنے اور مشکوٰۃ شریف کی آخری حدیث پڑھنے کی سعادت ملی۔ جب بھی ملاقات ہوتی ہے یا درس میں شرکت کا موقع ملتا ہے، ایک خاص طرح کا سکون اور رہنمائی محسوس ہوتی ہے۔
رسمی تعلیم سے فراغت کے بعد جب مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اپنا تعارف کرایا، انہوں نے مجھ کو جانے کیوں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا، اور مجھے با ذوق طالب علم سمجھا، اور انہوں نے تمام تر کوشش اس میں صرف کردی کہ اس کو صحیح راہ فراہم کی جائے، خورد نوازی کے اس ولولے کو دیکھ کر میں ان کی شخصیت کا گرویدہ ہوگیا، یہ صفت آج کل ہمارے بڑوں میں مفقود ہوتی جارہی ہے، جو علمی انحطاط کا سبب بن رہی ہے، اکابر کہا کرتے ہیں کہ کوئی ماں کے پیٹ سے لائق بن کر نہیں نکلتا، اگر صحیح راہ پر ڈال دیا جائے تو گرتے پڑتے اپنا مقام پا لیتا ہے۔ حضرت کو اپنی صورت حال بتلائی تو بہت درد انگیز لہجے میں فرمایا: بھائی ابھی آپ نئے فارغ ہوکر آئے ہیں، جب میدان عمل میں جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ دور علم کی کساد بازاری کا دور ہے، یہاں صرف علم کی بنیاد پر کوئی کسی کو نہیں پوچھتا، نہ کوئی کسی کو علم کی بنیاد پر جگہ دیتا ہے، بلکہ آپ کو اس سے بھی تلخ تجربات کا سامنے کرنا پڑے گا، مولانا جس دل برداشتگی کے ساتھ فرما رہے تھے اس درد کو بیان کرنے کے لیے غالب کا یہ شعر مستعار لیتے ہیں۔
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
حضرت کے اس وقت کے رویے نے میرا حوصلہ بڑھایا، اور مضمحل جذبات میں نئی امنگ پیدا کی، غایت شفقت و محبت کا برتاؤ فرمایا، ورنہ کہاں آپ کی عبقری شخصیت اور کہاں مجھ جیسا طالب علم۔
حضرت ہمارے درمیان سرمایہ افتخار ہیں، ہم لوگوں کو ان کی مجالس سے علمی و عملی اور روحانی استفادہ کرنا چاہیے، بزرگوں کی زیارت سے دل و دماغ کو فرحت ملتی ہے، ان کی مجالس سے روح کو غذا فراہم ہوتی ہے۔ ع
دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
اکثر ہم گزرے ہوئے لوگوں کو یاد کر کے افسوس کرتے ہیں، مگر جو شخصیات ہمارے درمیان موجود ہوتی ہیں، ان سے فائدہ اٹھانے میں کوتاہی برتتے ہیں۔
مولانا ایک ماہرِ فن اور تجربہ کار استاد ہیں اور عمر کے اس مرحلے میں جہاں آدمی اپنے سالہا سال کی محنت میں سینکڑوں علمی موتیوں کو چن کر خاص کرلیتا ہے، نایاب نکات جمع کرلیتا ہے، دقیق مسائل کی گتھیاں چند لفظوں میں سلجھا دیتا ہے، اور چند جملوں میں طویل بحثوں کا خلاصہ پیش کرد دیتا ہے، حضرت کے درس میں ایسے اصول وضوابط اور نکات کی بہتات ہوتی ہے، بلکہ ان کی پوری درسی تقریر لکھنے کے قابل ہوتی ہے، کوئی باہمت سلیقے مند فاضل اٹھے، اور آپ کی درسی تقریر آپ کے افادات اور نایاب موتیوں کو مرتب کرکے آنے والی نسلوں کے لیے ذخیرہ فراہم کرے۔ دعا گو ہوں کہ اللّٰہ حضرت مولانا کا سایہ تادیر سلامت رکھے ۔
