مورینا رپورٹ: مدارس میں ہندو بچوں کی تعلیم پر سوال کیوں؟
بھوپال:
مدھیہ پردیش کے ضلع مورینا میں مدارس سے متعلق ایک سرکاری رپورٹ سامنے آنے کے بعد تعلیم، تہذیب اور ریاستی نظام پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مورینا ضلع کے 27 مدارس میں 556 سے زائد ہندو بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ انکشاف (این ایچ آر سی) کی جانب سے کی گئی ایک جانچ کے بعد سامنے آیا، جو مدارس کے خلاف موصول شکایات کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی۔
محکمۂ عوامی تعلیم کی جانب سے این ایچ آر سی کو دی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مورینا کے متعدد مدارس میں غیر مسلم طلبہ کی بڑی تعداد تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ رپورٹ عام ہونے کے بعد این ایچ آر سی کے رکن نے اس پر سخت ردِعمل ظاہر کیا۔
پریانک کانونگو نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ صورتِ حال ریاستی محکمۂ تعلیم کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کے مطابق حقِ تعلیم قانون (آر ٹی ای) کے تحت ہر رہائشی علاقے کے ایک یا تین کلو میٹر کے دائرے میں اسکول قائم کیے گئے ہیں، اس کے باوجود بچوں کا مدارس میں پڑھنا کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب حکومت کی جانب سے “اسکول چلو” جیسی مہمات چلائی جاتی ہیں تو یہ بچے تعلیمی نظام کی نظر سے کیسے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے لیے پالیسیاں بنانے والی غیر سرکاری تنظیمیں بھی محدود سوچ کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔
کانونگو نے اپنے بیان میں یہ بھی لکھا کہ مورینا ایسے اسکولوں کے لیے جانا جاتا ہے جہاں سے فوجی تیار ہوتے ہیں، نہ کہ مولوی۔ ان کے مطابق عوام میں بیداری مہم چلائی جانی چاہیے تاکہ بچوں کا داخلہ سرکاری یا دیگر اسکولوں میں کرایا جا سکے۔
اس پورے معاملے پر وزیر اعلیٰ نے بھی ردِعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جن مدارس میں غیر مسلم بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اور جہاں مسلم بچوں کو بھی وہیں پڑھنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، وہاں سرکاری گرانٹس بند کی جانی چاہئیں۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق محکمۂ تعلیم کی جانب سے اس سلسلے میں اب تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
مدارس اور گنگا جمنی تہذیب:
تاریخی طور پر مدارس برصغیر میں گنگا جمنی تہذیب کے مضبوط ستون رہے ہیں۔ یہ ادارے صرف مذہبی تعلیم تک محدود نہیں رہے، بلکہ یہاں مختلف مذاہب اور طبقوں کے افراد نے علم حاصل کیا۔ مدارس سے تعلیم پانے والوں میں باہمی احترام، مصالحت، مساوات اور اخوت کی قدریں نمایاں طور پر دیکھی گئی ہیں۔
تعلیمی ماہرین اور سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ مدارس میں غیر مسلم بچوں کی تعلیم کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی کئی مدارس نے سماج کے ہر طبقے کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ ان کے مطابق مدارس کو شک کی نگاہ سے دیکھنا نہ صرف تاریخی حقائق سے انحراف ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے تصور کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ریاستی تعلیمی نظام بچوں تک مؤثر انداز میں کیوں نہیں پہنچ پا رہا، نہ کہ یہ کہ وہ بچے کہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب سماج کو باہمی اعتماد اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے، تعلیم جیسے حساس معاملے کو محض انتظامی یا سیاسی زاویے سے دیکھنا مسئلے کا حل نہیں۔
ماہرین کے مطابق، مدارس سمیت تمام تعلیمی اداروں کو سماجی یکجہتی کے فروغ کا ذریعہ سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ شکوک و شبہات کی بنیاد۔ یہی رویہ گنگا جمنی تہذیب کی روح اور ہندوستان کے تکثیری سماج کے مزاج سے ہم آہنگ ہے۔
