چنئی کا مدرسہ امدادیہ: نابینا بچوں کو بھیک سے تعلیم اور خودداری تک لانے کی جدوجہد
چنئی | 9 جنوری 2026
تمل ناڈو کے دارالحکومت چنئی اور اس کے آس پاس کے اضلاع میں، جہاں غربت اور معذوری اکثر بچوں کا مستقبل طے کر دیتی ہے، مدرسہ امدادیہ ایک مختلف مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ ادارہ نابینا مسلم بچوں کو سڑکوں اور بھیک سے نکال کر تعلیم، خود اعتمادی اور خود کفالت کی طرف لے جا رہا ہے۔
مدرسہ امدادیہ کے بانی محمد عثمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے برسوں نابینا بچوں کو اپنے والدین کے ساتھ مندروں اور مسجدوں کے باہر بھیک مانگتے دیکھا۔ ان کے مطابق، “جب غربت اور نابینائی ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو بچوں کے پاس سڑک کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔”
اسی حقیقت نے انہیں 2010 میں مدرسہ امدادیہ قائم کرنے پر مجبور کیا۔ ابتدا چھوٹے پیمانے پر ہوئی، مگر آج یہ ادارہ چنئی اور رانی پیٹ میں دو مراکز چلا رہا ہے۔ اس وقت پچاس نابینا بچے یہاں زیر تعلیم ہیں، جن میں دس لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ مدرسہ نیم رہائشی ہے۔ پانچ ہزار مربع فٹ پر قائم عمارت میں ہاسٹل کی سہولت موجود ہے، جہاں عملہ بچوں کی تعلیم، حفاظت اور روزمرہ ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔
ادارے کا تعلیمی ماڈل دینی اور عصری تعلیم کو یکجا کرتا ہے۔ طلبہ قرآن، حدیث اور دیگر اسلامی کتب بریل میں پڑھتے ہیں، جبکہ اسکول اور کالج کی تعلیم آڈیو ذرائع کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ دیگر معذوریوں کے حامل بچوں کو بھی داخلہ دیا جاتا ہے، البتہ بریل کی تعلیم الگ نظام کے تحت ہوتی ہے۔
مدرسہ امدادیہ ان علاقوں سے آنے والے بچوں کے لیے خاص طور پر اہم ہے جہاں سرکاری خصوصی اسکول یا تو موجود نہیں یا صرف کاغذوں میں ہیں۔ کئی والدین معذوری سرٹیفکیٹ، وظائف اور معاون ٹیکنالوجی سے ناواقف ہوتے ہیں۔ ایسے میں نابینائی ایک سماجی مسئلہ بن جاتی ہے، جو نسل در نسل غربت کو جنم دیتی ہے۔
اشرف خان اسی نظام کی کامیاب مثال ہیں۔ وہ پیدائشی نابینا ہیں اور ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ رانی پیٹ کے قریب میل وشارم کے ایک چھوٹے مدرسے میں بریل سیکھنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آج وہ چنئی کے ایک نجی کالج میں تمل زبان کے استاد ہیں اور ماہانہ تقریباً پچاس ہزار روپے کماتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تعلیم نہ ملتی تو زندگی کا رخ کچھ اور ہوتا۔
محمد عثمان کے مطابق، ادارے کی اصل کامیابی یہ ہے کہ کئی خاندان اب اپنے بچوں کی تعلیم کے ذریعے خود کفیل ہو چکے ہیں۔ “یہ مدد وقتی نہیں، مستقل تبدیلی ہے،” وہ کہتے ہیں۔
مدرسہ امدادیہ بریل قرآن اور دیگر دینی و تعلیمی کتابیں بھی شائع کرتا ہے، جو بھارت اور بیرون ملک مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ بریل قرآن کے ایک نسخے پر تقریباً تین ہزار پانچ سو روپے خرچ آتا ہے، مگر یہ نسخے بلا معاوضہ تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ادارے کے مطابق، یہاں پڑھنے والے تمام طلبہ حافظ قرآن بنتے ہیں اور بارہویں جماعت کے ساتھ ڈگری کی تعلیم بھی مکمل کرتے ہیں۔
کئی طلبہ نے بی ایڈ کیا، کچھ نے کمپیوٹر کی تربیت حاصل کی، جبکہ بعض نے ہنر مندی کے کام سیکھے۔ ملک بھر میں تقریباً پانچ سو نابینا بچے اسی طرز کے مدارس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
لڑکیوں کی کم تعداد اب بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ تحفظ، آمد و رفت اور شادی کے خدشات کے باعث کئی خاندان نابینا لڑکیوں کو تعلیم سے دور رکھتے ہیں۔ محمد عثمان کے مطابق، “زیادہ تر خاندان تعلیم کے خلاف نہیں ہوتے، مگر خوف زدہ ہوتے ہیں۔ سوچ بدلنے میں وقت لگتا ہے۔”
معذوری کے حقوق پر کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ نابینا بچوں کے لیے تعلیم تک رسائی بھارت میں اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، خاص طور پر غریب اور دیہی علاقوں میں۔ اگر بروقت مدد نہ ملے تو پورا خاندان بھیک یا غیر رسمی مزدوری کے دائرے میں پھنس جاتا ہے۔
مدرسہ امدادیہ اسی دائرے کو توڑنے کی کوشش ہے۔ یہاں تعلیم کو رحم یا خیرات نہیں بلکہ حق سمجھا جاتا ہے۔ محمد عثمان کا خواب ہے کہ ہر ضلع میں نابینا بچوں کے لیے ایک اسکول ہو اور ہر گاؤں میں ایک تعلیمی مرکز۔
ان کا کہنا ہے، “دوسری برادریاں تعلیم میں سرمایہ لگاتی ہیں، ہمیں بھی یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔”
مدرسہ امدادیہ کی کہانی اس بات کی گواہی ہے کہ درست نیت اور مستقل محنت سے خاموش مگر پائیدار تبدیلی ممکن ہے۔
