اتر پردیش مدرسہ کونسل نے تین مدارس کی منظوری معطل کر دی
تاریخ: 12 جنوری 2026۔
لکھنؤ / اعظم گڑھ — اتر پردیش میں مدارس کے خلاف سرکاری کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ نے ریاست کے تین مدارس کی منظوری معطل کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد مسلم تعلیمی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سخت اور غیر متوازن محسوس ہوتے ہیں اور ان میں طلبہ کے مستقبل کا خاطر خواہ خیال نہیں رکھا گیا۔
جن اداروں کی منظوری معطل کی گئی ہے، ان میں اعظم گڑھ کے مبارک پور کا مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم، سنت کبیر نگر کے خلیل آباد کی کلیۃ البنات الرضویہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی اور لکھنؤ کے براچند گنج، مڑیاںو، شاہی مسجد میں واقع مدرسہ حنفیہ ضیاء القرآن شامل ہیں۔
مدرسہ ایجوکیشن کونسل کی رجسٹرار انجنا سیروہی کے مطابق یہ فیصلے جانچ اور سماعت کے بعد کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مدرسہ سروس رولز کی خلاف ورزی، مالی نظم و ضبط میں ناکامی اور بعض معاملات میں غیر تسلی بخش جوابات کی بنیاد پر منظوری معطل کی گئی۔
سب سے زیادہ بحث 78 سال پرانے پر ہو رہی ہے، جسے 28 ستمبر 1948 کو مستقل منظوری حاصل ہوئی تھی اور جو طویل عرصے تک عربی و اسلامی تعلیم کا اہم مرکز رہا ہے۔ کونسل نے اس مدرسے کی عالیہ سطح کی مستقل منظوری معطل کرنے کے لیے حکم نامہ نمبر 2462، مورخہ 9 جنوری 2026 جاری کیا ہے۔ سرکاری حکم کے مطابق یہ فیصلہ دستیاب سرکاری دستاویزات، محکمانہ جانچ، درج ایف آئی آرز اور اے ٹی ایس کی رپورٹ کے مطالعے کے بعد کیا گیا۔
حکم میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران مدرسے کے مالی اور انتظامی معاملات میں ایسی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی جو ضوابط کے مطابق قابلِ اعتراض ہیں۔ ان بے ضابطگیوں کا تعلق مالی امور، سروس قواعد اور منظوری کی شرائط سے بتایا گیا ہے، جنہیں اتر پردیش غیر سرکاری عربی و فارسی مدارس منظوری، انتظام و خدمات ضابطہ 2016 کے تحت جانچا گیا۔
کونسل کے مطابق مدرسے کے ایک اسسٹنٹ استاد شمس الہدیٰ خان نے 2007 میں برطانوی شہریت حاصل کی اور بیرونِ ملک مقیم رہے، اس کے باوجود تنخواہ، پنشن، پروویڈنٹ فنڈ اور دیگر واجبات لیتے رہے۔ الزام ہے کہ طویل غیر حاضری کو بغیر تنخواہ یا طبی رخصت کے طور پر دکھا کر ادائیگیاں جاری رکھی گئیں، جس سے سرکاری خزانے کو مالی نقصان پہنچا۔
اسی معاملے میں مدرسے کے منیجر سرفراز احمد، پرنسپل محمد احمد مصباحی اور ایک دیگر فرد نظام الدین کے نام بھی شامل ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان کے خلاف تھانہ مبارکپور، ضلع اعظم گڑھ میں ایف آئی آر نمبر 0240/2025 (مورخہ 9 جون 2025) درج ہے اور معاملہ فی الحال تفتیش کے مرحلے میں ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے پیش کی گئی وضاحت ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق تسلی بخش نہیں پائی گئی، جس کے بعد عالیہ سطح کی منظوری معطل کرنے کا عبوری فیصلہ کیا گیا۔ حکم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ اقدام انتظامی اور عارضی نوعیت کا ہے اور آئندہ کارروائی تفتیشی نتائج اور قانونی جانچ کے بعد طے کی جائے گی۔
لکھنؤ کے مدرسہ حنفیہ ضیاء القرآن کی منظوری بھی فوری طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ کونسل کے مطابق مدرسہ منظور شدہ مقام پر نہیں چل رہا تھا۔ جس عمارت میں مدرسے کے چلنے کا دعویٰ کیا گیا، وہ بنیادی تعلیم محکمہ سے منظور شدہ پرائمری یا جونیئر ہائی اسکول کی ہے اور مدرسے کے اختیار میں نہیں۔ زمین اور عمارت سے متعلق مقدمہ بھی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ معائنہ رپورٹ میں کمروں کے سائز، ہوا اور روشنی، حفاظتی انتظامات اور ترتیب سے متعلق سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی، جبکہ ملکیت سے متعلق دستاویزات بھی پیش نہیں کی گئیں۔ کونسل کے مطابق متعدد بار سماعت کا موقع دیا گیا، مگر جوابات ضوابط کے مطابق نہیں تھے۔
اس سے قبل سنت کبیر نگر کے خلیل آباد میں واقع کلیۃ البنات الرضویہ مدرسے کی منظوری بھی اسی نوعیت کی وجوہات پر معطل کی جا چکی ہے۔ مدرسہ اشرفیہ اور دیگر اداروں کی انتظامیہ نے الزامات کو یک طرفہ قرار دیا ہے۔ ایک سینئر استاد کا کہنا ہے کہ دہائیوں سے غریب مسلم بچوں کی خدمت کرنے والے ادارے کو ایک متنازع سروس معاملے پر نشانہ بنانا ناانصافی ہے۔
مبارک پور کے والدین بھی فکرمند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نجی اسکولوں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے اور منظوری کی معطلی سے بچوں کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔ مدرسہ حنفیہ ضیاء القرآن کے پرنسپل نے بھی کونسل کے نتائج سے اختلاف کیا۔ ان کے مطابق زمین کا معاملہ عدالت میں ہے اور اسی بنیاد پر مزید وقت مانگا گیا تھا، مگر فوری معطلی سے طلبہ اور عملہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم تعلیمی اداروں کو دوسروں کے مقابلے زیادہ سختی سے جانچا جا رہا ہے۔
دینی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اتر پردیش میں مدارس کے خلاف جانچ، معطلی اور تفتیشی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق نگرانی ضروری ہو سکتی ہے، مگر مسلسل سخت اقدامات سے دباؤ کی فضا بنتی جا رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر طلبہ پر پڑ رہا ہے۔ فی الحال مدرسہ ایجوکیشن کونسل اور تفتیشی ایجنسیاں معاملے کی مختلف جہتوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ آئندہ دنوں میں تفتیش اور عدالتی کارروائی اس بات کا تعین کرے گی کہ یہ اقدامات محض ضابطہ جاتی نگرانی ہیں یا مدارس کے لیے مزید سختیوں کا آغاز۔
