مسجد، مولوی اور مسلک: کشمیر میں پولیس کی ڈیٹا مہم اور مسلمانوں پر بڑھتا ہوا شک
سری نگر: روایت ڈاٹ کام
ہندوستان میں اب یہ ایک معمول بنتا جا رہا ہے کہ کسی بھی دہشت گردانہ واقعے کے بعد سب سے پہلے مسلمان شک کے دائرے میں آتے ہیں۔ مسجد، مدرسہ اور مولوی فوری طور پر سوالیہ نشان بنا دیے جاتے ہیں۔ تفتیش بعد میں ہوتی ہے، مگر ذہن پہلے بنا لیا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر میں مساجد اور مذہبی اداروں کے خلاف شروع کی گئی حالیہ پولیس کارروائی اسی رویے کی ایک واضح مثال ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے وادیٔ کشمیر میں مساجد، دیگر مسلم عبادت گاہوں اور مدارس سے متعلق بڑے پیمانے پر ڈیٹا جمع کرنے کی مہم شروع کی ہے۔ اس کے ساتھ ان اداروں سے وابستہ افراد کی تفصیلات بھی طلب کی جا رہی ہیں۔ یہ کارروائی سری نگر سمیت پوری وادی میں جاری ہے۔
پولیس مساجد اور ان سے وابستہ ائمہ، مؤذن، خطباء، مدرسین، مسجد انتظامیہ کے اراکین اور بیت المال سے منسلک افراد کی مکمل معلومات مانگ رہی ہے۔ مسجد انتظامیہ کے مطابق اس مقصد کے لیے چار صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی فارم دیا گیا ہے۔
فارم کے پہلے صفحے میں مسجد یا مدرسے سے متعلق ادارہ جاتی تفصیلات پوچھی گئی ہیں۔ اس میں ایک واضح خانہ مسلک یا فرقہ درج کرنے کے لیے رکھا گیا ہے، جہاں یہ لکھنا ضروری ہے کہ متعلقہ مسجد یا مدرسہ بریلوی ہے، حنفی ہے، دیوبندی ہے یا اہلِ حدیث۔
اسی صفحے میں مسجد کی گنجائش، منزلوں کی تعداد، تعمیر پر آنے والی لاگت، فنڈ کے ذرائع، ماہانہ بجٹ، بینک اکاؤنٹس، انتظامی ڈھانچہ اور زمین کی قانونی حیثیت بھی پوچھی گئی ہے۔
فارم کے باقی تین صفحات ان افراد سے متعلق ہیں جو ان مذہبی مقامات سے وابستہ ہیں۔ ہر امام، مؤذن، خطیب، مدرس، کمیٹی رکن اور بیت المال نمائندے سے ذاتی، مالی اور ڈیجیٹل معلومات طلب کی گئی ہیں۔
ان میں تاریخِ پیدائش، تعلیمی قابلیت، موبائل نمبر، ای میل، آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی، پاسپورٹ اور سفری تفصیلات، بینک اکاؤنٹس، اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈ، پین نمبر، موبائل فون اور آئی ایم ای آئی نمبر، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ماہانہ آمدنی و اخراجات، جائیداد اور مکمل خاندانی معلومات شامل ہیں۔ فارم میں یہ سوال بھی درج ہے کہ آیا متعلقہ فرد کبھی عسکریت، کسی فوجداری مقدمے یا کسی تخریبی سرگرمی سے وابستہ رہا ہے یا نہیں۔
پولیس حکام نے پس منظر میں بتایا ہے کہ اس مہم کو گزشتہ سال نومبر میں سامنے آنے والے ایک مبینہ ’وائٹ کالر‘ دہشت گرد ماڈیول کی تفتیش سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس معاملے کی مشترکہ تفتیش جموں و کشمیر، اتر پردیش اور ہریانہ پولیس نے کی تھی۔ پولیس کے مطابق اس کارروائی میں نو افراد گرفتار ہوئے، جن میں تین ڈاکٹر شامل تھے، اور بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ کچھ ملزمان مدارس یا آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے انتہاپسندی کی طرف مائل ہوئے تھے، اور بعض ائمہ کا کردار بھی جانچ کے دائرے میں آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مذہبی اداروں اور ان سے وابستہ افراد کا ڈیٹا جمع کرنے کا مقصد مالی لین دین کو سمجھنا، ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی کرنا اور مساجد یا مدارس کے مبینہ غلط استعمال کو روکنا ہے۔ بعض حکام کے مطابق وادی کے کچھ علاقوں میں غیر صوفی اور سخت گیر تعبیرات کے بڑھتے رجحان کے پیش نظر مسلکی شناخت کو بھی سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
اسی دوران جموں میں پولیس نے مذہبی علما کے ساتھ ایک میٹنگ بھی کی۔ علما سے کہا گیا کہ وہ والدین اور طلبہ کو انتہاپسند نظریات سے دور رہنے کی تلقین کریں۔ انہیں آنے والے یومِ جمہوریہ کو “جوش اور قومی جذبے” کے ساتھ منانے کی ہدایت دی گئی۔ پولیس نے سوشل میڈیا کے محتاط استعمال، افواہوں سے بچنے اور مدارس میں آئینی اقدار کے فروغ پر بھی زور دیا۔ طلبہ، اساتذہ اور عملے کی مکمل تصدیق کو ضروری قرار دیا گیا۔
لیکن انہی اقدامات کے بیچ کشمیر کی سرکردہ مذہبی تنظیم متحدہ مجلسِ علما نے اس پوری کارروائی پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ ایک غیر معمولی اور مداخلت آمیز ڈیٹا مہم ہے، جس سے مساجد، ائمہ، خطباء اور عام مسلمانوں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ مساجد عبادت، رہنمائی اور سماجی خدمت کے مراکز ہیں۔ ان کے اندرونی مذہبی معاملات کو اس طرح کی نگرانی اور باریک جانچ کے دائرے میں لانا مذہبی آزادی، رازداری اور آئینی حقوق کے خلاف ہے۔
خاص طور پر مسلک اور فرقے کو سرکاری فارم میں درج کروانے کو تنظیم نے سنگین معاملہ قرار دیا ہے۔
تنظیم کے مطابق چونکہ یہ پوری مشق صرف جموں و کشمیر کی مسلم برادری تک محدود ہے، اس لیے اس کے مقاصد پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ ایسے اقدامات اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں اور مذہبی افراد میں خوف پیدا کرتے ہیں۔
دوسری طرف بعض علما کا کہنا ہے کہ تصدیق کا عمل پہلے سے جاری ہے اور وہ پولیس کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں۔ مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس بار مساجد، مولوی اور اب مسلک تینوں ایک ساتھ ریاستی جانچ کے دائرے میں آ گئے ہیں۔
کشمیر کی یہ کارروائی سکیورٹی اقدام کے ساتھ ساتھ اس بیانیے کی تازہ کڑی ہے جس میں ہر بڑے واقعے کے بعد مسلمان اجتماعی طور پر مشکوک ٹھہرا دیے جاتے ہیں۔
