غیر مجاز مدارس میں قواعد کے خلاف انتہاپسندانہ تعلیم دی جا رہی تھی” اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ
دہرادون: اتراکھنڈ حکومت نے ریاست بھر میں 250 سے زائد مبینہ غیر قانونی مدارس سیل کرنے اور 10 ہزار ایکڑ سے زیادہ سرکاری زمین سے تجاوزات ہٹانے کا دعویٰ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے مطابق یہ کارروائی غیر قانونی اداروں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک وسیع مہم کا حصہ ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا: “دیوبھومی اتراکھنڈ کی اپنی الگ ثقافتی شناخت ہے۔ اس ورثے کے تحفظ اور ریاست کے اصل تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے ہماری حکومت پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ریاست بھر میں مذہبی ڈھانچوں کے نام پر سرکاری زمین پر کیے گئے غیر قانونی قبضے ہٹائے گئے ہیں۔ اس کارروائی کے تحت 10 ہزار ایکڑ سے زائد سرکاری زمین کو تجاوزات سے آزاد کرایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 250 سے زیادہ غیر مجاز مدارس سیل کیے گئے ہیں، جہاں قواعد کے خلاف انتہاپسندانہ تعلیم دی جا رہی تھی۔ ہماری حکومت کا واضح مؤقف ہے کہ دیوبھومی کی ثقافت، سماجی توازن اور امن و امان پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔”
حکومت کے اس دعوے کے برعکس فریقِ دوم یعنی سماجی کارکنوں، وکلاء اور اقلیتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مدارس کی جانچ اور سیلنگ کے لیے کوئی واضح قانون یا ضابطہ موجود نہیں تھا۔ حقِ اطلاعات کے تحت سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق یہ کارروائی محض انتظامی ہدایات کی بنیاد پر کی گئی۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق دسمبر 2024 میں وزیر اعلیٰ کے خط کے بعد غیر رجسٹرڈ مدارس کی جانچ کے احکامات دیے گئے۔ اس عمل کے دوران آٹھ اضلاع میں تقریباً 680 مدارس کی جانچ ہوئی۔ ان میں 270 مدارس غیر رجسٹرڈ پائے گئے، تاہم کسی ایک مدرسے سے بھی غیر قانونی یا مشتبہ سرگرمی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اس کے باوجود دو سو سے زائد مدارس سیل کر دیے گئے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اقلیتی تعلیمی ادارے آئین کے تحت تحفظ یافتہ ہیں اور بغیر کسی واضح قانونی بنیاد کے تالہ بندی آئینی تقاضوں، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں سے متصادم ہے۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں اقلیتی برادری میں بے چینی اور عدم تحفظ کو بڑھا رہی ہیں۔
حکومت ایک طرف ثقافت اور قانون کی بات کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف مدارس کے معاملے میں قانونی بنیاد، شفاف طریقۂ کار اور آئینی حدود پر سوالات بدستور قائم ہیں۔
