موجودہ حالات میں مدرسہ و مکتب چلانے کے قانونی اصول
غالب شمس
ایک مدرسہ یا مکتب چلانے کے لیے قانونی طور پر کن کن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، اس بارے میں اکثر ابہام پایا جاتا ہے۔ اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تحریر مرتب کی جا رہی ہے تاکہ مدارس و مکاتب سے وابستہ حضرات کے لیے تمام اہم نکات ایک جگہ واضح صورت میں سامنے آ جائیں۔
سب سے پہلے یہ وضاحت نہایت ضروری ہے کہ جہاں صرف حفظِ قرآن تک تعلیم دی جاتی ہو، اس ادارے کی حیثیت مکتب کی ہوتی ہے، مدرسہ کی نہیں۔ اتراکھنڈ کے عدالتی فیصلے کے مطابق مکتب کو “مدرسہ” لکھنا غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اس اصول کو پورے ملک کے علماء اور ذمہ دارانِ دینی ادارہ جات کو خاص طور پر ملحوظ رکھنا چاہیے، کیونکہ آج کل معمولی حفظ یا کسی بھی دینی درسگاہ کو مدرسہ کہنا، بلکہ اسے نام کا جز بنا دینا عام ہو چکا ہے، جو آئندہ قانونی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
مکتب کے سلسلے میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی قسم کی سرکاری اجازت یا منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی، بشرطیکہ وہاں صرف دینی تعلیم دی جا رہی ہو اور ادارہ خود کو اسکول یا متبادل تعلیمی نظام کے طور پر پیش نہ کرے۔
البتہ اگر ادارہ میں عالمیت کی تعلیم دی جاتی ہو، یا وہ اقامتی (رہائشی) ادارہ ہو، یعنی بچوں کو وہاں ٹھہرایا جاتا ہو، تو پھر نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (NCPCR) کے تمام ضوابط کا لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔ کمروں، بستروں، بیت الخلاء اور غسل خانوں کے سلسلے میں خاص احتیاط برتنی چاہیے۔ عام طور پر مدارس میں صفائی کے لیے مستقل ملازمین کا انتظام نہیں ہوتا اور کئی جگہ چھوٹے بچوں سے صفائی یا دیگر معمولی کام لیے جاتے ہیں، جو موجودہ قوانین کے تحت چائلڈ لیبر کے دائرے میں آ سکتا ہے اور سرکاری کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔
اگر بالکل نیا اقامتی مدرسہ قائم کرنے کا ارادہ ہو تو ابتدا ہی میں یہ دیکھ لینا مناسب ہے کہ پانچ کلومیٹر کے دائرے میں کوئی بڑا مدرسہ موجود نہ ہو۔ آسام اور دیگر ریاستوں کے عدالتی فیصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل میں امکان ہے کہ یہ اصول پورے ملک میں نافذ کیا جائے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ مدرسہ جس زمین پر قائم ہو، وہ زمین اپنی ہو یا کم از کم طویل مدت کی قانونی لیز پر ہو۔
اس تناظر میں الہ آباد ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ نہایت اہم اور قابلِ ستائش ہے، جس میں عدالت نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ مدارس اسلامیہ کو سرکاری منظوری کے بغیر بھی چلایا جا سکتا ہے اور یہ حق دستورِ ہند کے تحت محفوظ ہے۔ عدالت عالیہ کا یہ فیصلہ مدارس اور اقلیتی اداروں کے حق میں ایک بڑی آئینی جیت ہے۔
اس کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالات میں قانونی تحفظات کے باوجود اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، عدالتی فیصلوں کو بھی بعض اوقات نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اسی لیے محض دستوری حق پر اکتفا کرنے کے بجائے قانونی تیاری مکمل رکھنا ناگزیر ہے۔
اسی پس منظر میں جمعیت علماء ہند کی جانب سے شائع کردہ کتابچہ
“تحفظِ مدارس کے سلسلے میں چند گزارشات اور لائحۂ عمل”
انتہائی اہم ہے۔ اس میں دی گئی ہدایات کو یہاں افاده عام کی خاطر نقل کیا جا رہا ہے۔
تحفظِ مدارس کے لیے سب سے پہلا اور مؤثر ہتھیار ذمہ دارانِ مدرسہ کا مخلصانہ کردار اور اللہ سے مضبوط تعلق ہے۔
زمین کے سلسلے میں یہ بات بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ مدرسہ جس زمین پر قائم ہو، وہ یا تو مدرسہ کے نام رجسٹرڈ ہو، یا کم از کم تیس (30) سالہ قانونی لیز پر ہو۔ اس کے علاوہ کسی بھی غیر واضح یا عارضی زمین پر مدرسہ چلانا مسائل کو دعوت دینا ہے۔
مدرسہ اگر شہری علاقے میں واقع ہو، جہاں نقشہ پاس کرانا ضروری ہے، تو عمارت کا نقشہ منظور شدہ ہونا اور تعمیر نقشے کے مطابق ہونا لازمی ہے۔ اگر نقشہ پاس نہیں یا تعمیر نقشے سے ہٹ کر کی گئی ہے، تو پہلی فرصت میں اس مسئلے کو قانونی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس کے حل کے راستے موجود ہیں۔
عمارت کے لحاظ سے چند بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے: طلبہ کی تعداد کے مطابق صاف، کشادہ اور ہوادار کمرے ہوں؛
صفائی کا معیار بلند ہو؛ آگ سے تحفظ کے لیے مناسب فائر سیفٹی نظام موجود ہو، ایک منزلہ عمارت میں فائر سلنڈر کافی ہو سکتے ہیں، جبکہ دو یا زیادہ منزلہ عمارت میں فائر پائپ اور متعلقہ محکمے کی ہدایات پر عمل ضروری ہے؛ اگر دارالاقامہ ہو تو ہر آٹھ بچوں پر کم از کم ایک بیت الخلاء اور غسل خانہ ہو؛
نالیاں، بیت الخلاء اور مطبخ خاص طور پر صاف رکھے جائیں، کیونکہ سرکاری معائنہ میں سب سے پہلے انہی جگہوں پر نظر جاتی ہے؛
پینے کے لیے صاف پانی اور ممکن ہو تو RO پانی کا انتظام ہو۔
حساب و کتاب کی شفافیت نہایت ضروری ہے۔ اس کے لیے CA کی نگرانی میں حساب رکھا جائے، ہر سال آڈٹ ہو، اسٹاک رجسٹر، آمد و خرچ رجسٹر، روزنامچہ، لیجر، گارڈ فائل، بل اور واؤچر باقاعدگی سے محفوظ ہوں۔ مدرسہ کے نام سے انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنا بھی مفید ہے، کیونکہ حکومت کی نظر میں زمین کے بعد سب سے بڑا سوال فنڈنگ کا ہوتا ہے۔
طلبہ سے متعلق چند امور بھی نہایت اہم ہیں : ہر طالب علم اور اس کے سرپرست کا آدھار، والدین کی تحریری اجازت، داخلہ و اخراج رجسٹر، مکمل داخلہ فارم، اور طبی ضرورت کے لیے فرسٹ ایڈ کا انتظام۔
اگر اس سب کے باوجود سرکاری عملہ نوٹس دے یا مدرسہ سیل کرے، تو گھبرانے کے بجائے حالات کا مقابلہ سلیقے اور قانون کے دائرے میں رہ کر کرنا چاہیے۔ ظلم ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔
پہلے مرحلے میں عملے سے حسنِ اخلاق سے بات کی جائے، گھبراہٹ ظاہر نہ ہو، اور واضح کیا جائے کہ ادارہ دینی تعلیم دیتا ہے، جس پر RTE ایکٹ 2009 لاگو نہیں ہوتا۔ ضرورت ہو تو قانون کی کاپی دکھائی جائے۔
اگر بات نہ بنے تو نوٹس طلب کیا جائے، اس کا تحریری جواب تیار کر کے وکیل کے ساتھ ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کی جائے۔
اور اگر ان تمام مراحل کے باوجود انصاف نہ ملے تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے۔ اس سلسلے میں جمعیت علماء ہند، اکابر علماء یا دیگر ذمہ دار تنظیمی و قانونی افراد سے فوری رابطہ کیا جائے۔ کسی بھی مرحلے پر گھبرانا یا مرعوب ہونا مناسب نہیں، کیونکہ موجودہ حالات میں یہ تمام نکات مدارس و مکاتب کے تحفظ کی ایک عملی اور ناگزیر ضرورت بن چکے ہیں۔ امید ہے ذمہ دارانِ مدارس و مکاتب ان امور کو پوری سنجیدگی کے ساتھ ملحوظ رکھیں گے۔
