تمل ناڈو کے کلاسیکی ادبی انعام میں اردو کو شامل کرنے کا مطالبہ
چنئی (روایت نیوز ڈیسک)
منیتا نیئا مکل کٹچی (ایم ایم کے) کے صدر اور رکن اسمبلی پروفیسر ایم۔ ایچ۔ جواہراللہ نے تمل ناڈو حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست کے نئے اعلان کردہ کلاسیکی ادب انعام میں اردو زبان کو بھی شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اردو کو نظر انداز کرنا ایک ایسی زبان کے ساتھ ناانصافی ہے جو صدیوں سے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا حصہ رہی ہے۔
پروفیسر جواہراللہ نے وزیر اعلیٰ ایم۔ کے۔ اسٹالن کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا جس کے تحت کلاسیکی ادب کے لیے پانچ لاکھ روپے کا انعام مقرر کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ اردو کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ یہ آئین ہند کے آٹھویں شیڈول میں شامل تسلیم شدہ زبان ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق اردو ادب کی تشکیل میں غیر مسلم ادیبوں اور شاعروں کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ منشی پریم چند کے افسانے اور فراق گورکھپوری کی شاعری اس کی واضح مثالیں ہیں۔
اردو کی تاریخی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر جواہراللہ نے کہا کہ برطانوی دور سے پہلے صدیوں تک ہندوستان میں فارسی سرکاری زبان رہی، اور اسی لسانی ماحول میں اردو نے ایک الگ، سنجیدہ اور شائستہ زبان کی صورت اختیار کی۔ ان کے مطابق فارسی اور عربی کے اثرات نے اردو کو ایک منفرد شناخت دی۔
انہوں نے اردو اور ہندی کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں زبانیں ایک ہی تہذیبی فضا میں پروان چڑھیں، مگر ان کی لسانی ساخت اور رسم الخط مختلف ہیں۔ اردو فارسی عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے، جبکہ ہندی دیوناگری رسم الخط استعمال کرتی ہے۔ یہی فرق اردو کی الگ شناخت کو واضح کرتا ہے۔
پروفیسر جواہراللہ نے کہا کہ اردو ہندوستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں شامل ہے اور کروڑوں لوگ اسے اپنی مادری زبان مانتے ہیں۔ ان کے مطابق اردو کا دائرہ ادب تک محدود نہیں بلکہ فلم، موسیقی، غزل، قوالی اور کلاسیکی روایتوں میں بھی گہرائی سے موجود ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اردو ہندوستانی کرنسی نوٹوں پر شامل زبانوں میں سے ایک ہے اور دہلی و جموں و کشمیر میں آج بھی سرکاری سطح پر استعمال ہو رہی ہے، جو اس کی آئینی اور انتظامی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔
پروفیسر جواہراللہ نے کہا کہ اردو کی قدامت، ادبی وسعت اور مشترکہ تہذیبی وراثت کو دیکھتے ہوئے اسے کلاسیکی زبانوں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمل ناڈو حکومت اپنی لسانی رواداری اور ثقافتی ہم آہنگی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔
