چھتیس گڑھ: یومِ جمہوریہ پر مساجد اور مدارس کے مرکزی دروازوں پر ترنگا لہرانے کی ہدایت
رائے پور، 24 جنوری . چھتیس گڑھ اسٹیٹ وقف بورڈ نے یومِ جمہوریہ 26 جنوری 2026 کے موقع پر ریاست بھر کی تمام مساجد، مدارس اور درگاہوں کے مرکزی دروازوں پر قومی پرچم لہرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ وقف بورڈ کے اس فیصلے کے بعد ریاست میں سیاسی اور سماجی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
وقف بورڈ کی جانب سے جاری ہدایت میں کہا گیا ہے کہ ترنگا آئین، جمہوری اقدار اور قومی یکجہتی کے احترام کے طور پر لہرایا جائے گا۔ حکم کے مطابق وقف کے زیر انتظام تمام مذہبی اداروں کے داخلی دروازوں پر قومی پرچم نمایاں طور پر نصب کیا جائے، تاکہ یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے دوران وہ صاف طور پر نظر آئے۔
یہ حکم بھارت کے 77ویں یومِ جمہوریہ سے قبل جاری کیا گیا ہے۔ وقف بورڈ نے مساجد، مدارس اور درگاہوں کے نگرانوں اور انتظامی کمیٹیوں سے کہا ہے کہ وہ اس ہدایت پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور موقع کے وقار کا خاص خیال رکھیں۔
چھتیس گڑھ اسٹیٹ وقف بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم راج نے کہا کہ یومِ جمہوریہ کو حب الوطنی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کے جذبے کے ساتھ منایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق قومی پرچم لہرانا آئین اور جمہوری اقدار کے احترام کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مسلمان محبِ وطن ہیں اور آئینی اصولوں کے پابند ہیں، اور بتایا کہ اسی نوعیت کی ہدایت یومِ آزادی کے موقع پر بھی دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وقف کے ادارے آئین کے دائرے میں کام کرتے ہیں اور قومی دنوں کو اس انداز میں منانا اتحاد اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس کو مضبوط کرتا ہے۔
وقف بورڈ کے اس فیصلے پر سیاسی حلقوں سے مختلف ردِعمل سامنے آئے ہیں۔ بی جے پی رہنما توقیر رضا نے اس ہدایت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مدارس میں پڑھنے والے بچوں اور مساجد و درگاہوں میں آنے والے افراد میں حب الوطنی کا جذبہ بڑھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس اور مساجد جیسے آئینی اداروں میں قومی پرچم کا لہرانا خوش آئند ہونا چاہیے، اس پر تنقید نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری جانب کانگریس نے اس فیصلے پر اعتراض کیا ہے۔ پارٹی کے میڈیا انچارج اور ترجمان سشیل آنند شکلا نے الزام لگایا کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے اور ایک خاص طبقے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے بیانات قابلِ مذمت ہیں اور وقف بورڈ کے چیئرمین ایسے تبصرے اپنے عہدے کے تحفظ کے لیے کر رہے ہیں۔
چھتیس گڑھ اسٹیٹ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین سلام رضوی نے بھی اس فیصلے پر تحفظات ظاہر کیے۔ انہوں نے کہا کہ حب الوطنی کے لیے اپیل کی جا سکتی ہے، لیکن ایسی باتوں کو زبردستی نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق حب الوطنی ایک ذاتی جذبہ ہے اور اسے سرکاری احکامات کے ذریعے مسلط نہیں کیا جا سکتا۔
وقف بورڈ کی اس ہدایت کے بعد ادارہ جاتی سطح پر قومی علامتوں کے استعمال اور حب الوطنی کے ذاتی مفہوم کے درمیان توازن پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، ایسے وقت میں جب چھتیس گڑھ بھی پورے ملک کے ساتھ یومِ جمہوریہ کی تیاری کر رہا ہے۔
