یوپی میں چار ہزار مدارس کی جانچ
لکھنؤ | 30 جنوری 2026:
اتر پردیش میں تقریباً چار ہزار مدارس کی فنڈنگ اور قانونی حیثیت کی جانچ کے لیے کارروائی تیز کر دی گئی ہے۔ یہ کارروائی اتر پردیش حکومت کی ہدایت پر انسدادِ دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں محکمۂ اقلیتی بہبود کی جانب سے ریاست کے تمام ضلع اقلیتی بہبود افسران کو مکتوب بھیج کر ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اے ٹی ایس کی جانچ میں مکمل تعاون کریں اور مدارس سے متعلق ضروری دستاویزات، جانچ رپورٹ اور مالی تفصیلات فراہم کریں۔
حکومت کی جانب سے اے ٹی ایس کی جانچ میں تیزی لائے جانے کے بعد ایک بار پھر مدارس کے ذمہ داران میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مدارس کے منتظمین اور اساتذہ کا کہنا ہے کہ مسلسل جانچ کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور طلبہ کا مستقبل غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو رہا ہے۔
ڈائریکٹر اقلیتی بہبود کا مکتوب
محکمۂ اقلیتی بہبود کے ڈائریکٹر انکت کمار اگروال کی جانب سے تمام ضلع اقلیتی بہبود افسران کو بھیجے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں تقریباً 4000 مدارس کو ملنے والی فنڈنگ کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اے ٹی ایس کی تمام فیلڈ یونٹس کو ان کے دائرۂ کار میں چلنے والے منظور شدہ اور غیر منظور شدہ مدارس کی فہرست فراہم کی جائے اور ان کی تصدیق کا عمل جاری رکھا جائے۔
مکتوب میں واضح کیا گیا ہے کہ تصدیقی عمل کے دوران مدارس، ان کے انتظامی اداروں اور منتظمین کے بینک کھاتوں میں ہونے والے مالی لین دین کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں، ان کی جانچ کی جائے اور ہر صورت میں دو ہفتوں کے اندر تصدیقی رپورٹ فراہم کی جائے۔
عمارتوں اور تعمیراتی اخراجات پر سوال
محکمۂ اقلیتی بہبود کے مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض مدارس کے پاس بڑی بڑی عمارتیں موجود ہیں، لیکن ان کے منتظمین ان عمارتوں کی تعمیر سے متعلق آمدنی کے مستند ذرائع فراہم نہیں کر پا رہے ہیں۔ ایسے مدارس کی تعمیر کے مالی ماخذ کی عملی اور مکمل تصدیق کی جائے اور اس کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔
ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ مدارس میں غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے مقامی ذرائع، انٹیلی جنس یونٹس اور ضلعی سطح سے معلومات حاصل کی جائیں، انہیں مرتب کیا جائے اور محکمہ کو آگاہ کیا جائے تاکہ سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر مناسب کارروائی کی جا سکے۔
مکتوب میں زور دیا گیا ہے کہ تمام نکات کی جانچ پڑتال کے بعد سفارشات کے ساتھ رپورٹ بغیر کسی تاخیر کے فراہم کی جائے اور اگر اے ٹی ایس کی کوئی فیلڈ یونٹ ضلع سطح پر رابطہ کرے تو مدارس کی تحقیقات میں مکمل تعاون یقینی بنایا جائے۔
17 دسمبر 2025 کی اہم میٹنگ
ڈائریکٹر کے مکتوب میں 17 دسمبر 2025 کو منعقد ہونے والی ایک اہم میٹنگ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کی صدارت ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (اے ٹی ایس) نے کی تھی۔ اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ مدارس کے آمدنی کے ذرائع، بالخصوص غیر ملکی فنڈنگ اور تعمیراتی سرگرمیوں کی تفصیلی جانچ کی جائے۔
میٹنگ میں یہ ہدایت بھی دی گئی کہ مقامی انٹیلی جنس یونٹس کے ذریعے معلومات اکٹھی کی جائیں اور مدارس کے مالی لین دین، تعمیراتی اجازت ناموں اور انتظامی ڈھانچے کی مکمل جانچ کی جائے۔ حکام کے مطابق اگر کسی مدرسے کا تعلق غیر قانونی یا ملک مخالف سرگرمیوں سے پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
حکام کا مؤقف
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد کسی خاص طبقے کو نشانہ بنانا نہیں ہے، بلکہ سرکاری قواعد کے درست نفاذ اور ریاستی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ جانچ مکمل ہونے کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کی جائے گی، جس کی بنیاد پر آئندہ کی کارروائی طے کی جائے گی۔
اساتذہ تنظیموں کا اعتراض
دوسری جانب ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ، اتر پردیش کے جنرل سکریٹری دیوان صاحب زماں خاں نے اس مسئلے پر انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی اسکواڈ کا قیام دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کیا گیا ہے اور اب تک دہشت گردی کے کسی بھی واقعے میں مدارس کا کوئی کردار سامنے نہیں آیا ہے۔ اس کے باوجود چار ہزار مدارس کی جانچ اے ٹی ایس سے کرایا جانا افسوسناک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اے ٹی ایس نے اس سے قبل دس نکات پر معلومات طلب کی تھیں، جو مدارس کی جانب سے فراہم کر دی گئیں، لیکن محکمۂ اقلیتی بہبود کے حالیہ حکم سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ اے ٹی ایس اب مدارس کی فنڈنگ کی خصوصی جانچ کر رہا ہے۔ دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ مدارس نے بڑی بڑی عمارتیں کھڑی کر لی ہیں جن کے آمدنی کے ذرائع واضح نہیں ہیں، حالانکہ یہ عمارتیں ایک دن میں نہیں بنتیں بلکہ برسوں میں عوامی چندے سے تعمیر ہوتی ہیں۔
دیوان صاحب زماں خاں کے مطابق چندے کی رسیدیں کئی سال بعد تلف ہو جاتی ہیں، اس لیے طویل عرصے بعد حساب طلب کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جانچ کے دوران مدرسہ سوسائٹی کے بینک اکاؤنٹ کے ساتھ ساتھ منیجر کے ذاتی اکاؤنٹ نمبر بھی مانگے جا رہے ہیں، اور بعض اضلاع میں تو کمیٹی کے تمام اراکین کے اکاؤنٹ نمبرز طلب کر لیے گئے ہیں، جس سے شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل جانچ کی وجہ سے مدارس تعلیمی سرگرمیوں پر یکسوئی سے توجہ نہیں دے پا رہے، جس کا براہِ راست اثر طلبہ کے مستقبل پر پڑ رہا ہے۔ اس لیے انہوں نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور اس جانچ کے حکم کو منسوخ کریں۔
عدالتی پس منظر اور آئندہ لائحۂ عمل
دیوان صاحب زماں خاں نے یہ بھی یاد دلایا کہ اس سے قبل قومی انسانی حقوق کمیشن نے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کسی بیرونی ایجنسی سے کرانے کا حکم دیا تھا، جسے بعد میں الہ آباد ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے اسٹے کر دیا تھا۔ ان کے مطابق ٹیچرس ایسوسی ایشن کی لیگل ٹیم موجودہ صورتحال میں قانونی چارہ جوئی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے اور مدارس و اساتذہ کے لیے کام کرنے والی مختلف تنظیموں سے مشورے کے بعد آئندہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی 21 اکتوبر 2024 کو تمام ضلع اقلیتی بہبود افسران کو اس سلسلے میں ایک خط جاری کیا گیا تھا اور 4191 مدارس کی فہرست اے ٹی ایس کے ڈائریکٹر جنرل کو فراہم کی گئی تھی۔
