منتاز خان (بائیں جانب)، ان کے بھائی انسان خان اور بہن امینہ بی بی کے ووٹر آئی ڈی کارڈ — تینوں بہن بھائیوں کو اڈیشہ پولیس نے بنگلہ دیش بھیج دیا۔ ( بحوالہ مسلم میرر)
کیندرپاڑا / بھونیشور (روایت نیوز ڈیسک)
اڈیشہ میں ایک سنگین اور متنازع کارروائی کے دوران ایک مسلم خاندان کے تین بزرگ افراد کو مبینہ طور پر بنگلہ دیش دھکیل دیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جب کہ اسی خاندان کے دیگر افراد کو بعد میں ہندوستانی شہری مان لیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق اڈیشہ پولیس نے 27 نومبر کو کیندرپاڑا ضلع کے گڑاپور گاؤں میں ایک کارروائی کے دوران ایک ہی خاندان کے 12 افراد کو حراست میں لیا تھا۔ پولیس نے اس کارروائی کو ’’سروے‘‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت تھا۔ یہ گاؤں مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے۔
نو افراد کو نو دن بعد رہا کر دیا گیا، مگر تین بزرگ رشتہ دار حراست کے بعد اچانک لاپتہ ہو گئے۔ بعد میں اہلِ خانہ کو بتایا گیا کہ 65 سالہ منتاز خان، ان کے 59 سالہ چچا انسان خان اور 70 سالہ پھوپھی امینہ بی بی کو بنگلہ دیش بھیج دیا گیا ہے۔
کیندرپاڑا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سدھارتھ کٹاریا نے 14 جنوری کو اس بات کی تصدیق کی کہ تینوں افراد کو بارڈر سیکیورٹی فورس کے حوالے کیا گیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دورانِ تفتیش ان بزرگوں نے خود کو بنگلہ دیشی شہری بتایا، جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔
پولیس نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام مرکزی وزارتِ داخلہ کی 2 مئی کو جاری ہدایات کے تحت کیا گیا، تاہم انہی ہدایات میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ کسی مشتبہ شخص کو شہریت ثابت کرنے کے لیے 30 دن کا وقت دیا جائے اور متعلقہ ریاست سے تصدیق کرائی جائے۔
اڈیشہ پولیس کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال کے پوربا مدنی پور ضلع سے رابطہ کیا گیا تھا، مگر وہاں سے خاندان کی شہریت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب پوربا مدنی پور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس متھن کمار دے نے اس دعوے کو صاف طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دفتر کو اڈیشہ پولیس کی طرف سے کوئی سرکاری ای میل یا پیغام موصول نہیں ہوا۔
پولیس نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ خاندان کے سربراہ یاسین خان نے 1970 یا 1980 کی دہائی میں بنگلہ دیش سے ہجرت کی تھی، مگر خاندان کے پاس موجود دستاویزات اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ 1956 کی زمین سے متعلق ایک سرکاری ریکارڈ کے مطابق یاسین خان مغربی بنگال کے پوربا مدنی پور ضلع میں کاشت کار اور زمین کے مالک تھے۔
گڑاپور گاؤں کے سربراہ شیخ عین الاسلام اور مقامی باشندے شیخ ریاض الدین نے بتایا کہ یہ خاندان تقریباً ساٹھ برس پہلے بنگال سے آ کر یہاں آباد ہوا تھا اور اس کی جڑیں گاؤں میں گہری ہیں۔
اہلِ خانہ نے 2002 کی ووٹر فہرست، 2009 کے زمین کے کاغذات، آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی اور یاسین خان کا 1993 میں جاری کردہ ووٹر کارڈ بھی پیش کیا، جو کیندرپاڑا سے بنا تھا۔ اس کے علاوہ خاندان کو 1999 کے سمندری طوفان کے بعد اندرا آواس یوجنا کے تحت سرکاری مکان بھی ملا تھا۔ اس کے باوجود تمام ثبوت مسترد کر دیے گئے۔
یہ اڈیشہ میں بنگالی مسلم خاندانوں کو ملک بدر کیے جانے کا دوسرا واقعہ بتایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل دسمبر میں بھی 14 افراد کو بنگلہ دیش بھیجا گیا تھا، جن میں ایک 90 سالہ خاتون شامل تھیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں قانونی طریقۂ کار اور مرکزی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جہاں متاثرہ افراد کو نہ تو مناسب وقت دیا جا رہا ہے اور نہ ہی مؤثر سماعت کا موقع۔
متاثرہ خاندان شدید ذہنی دباؤ میں ہے اور بنگلہ دیش میں بزرگ رشتہ داروں کی سلامتی کے حوالے سے سخت تشویش میں مبتلا ہے۔ خاندان کے ایک رکن نے کہا کہ انہیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا ہوگا، مگر محدود وسائل کے باعث انصاف کی راہ آسان نہیں۔
