فلسطین کی حمایت پر انفلوئنسر کو دھمکیاں، بی جے پی کے سابق رکنِ اسمبلی والد کی شکایت بحوالہ: مکتوب میڈیا ۔
نکیتا جین
اتر پردیش کے ضلع فتح پور سے تعلق رکھنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما وکرم سنگھ نے اپنے اور اپنے خاندان کے خلاف سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی مبینہ جھوٹی خبروں کے سلسلے میں پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وکرم سنگھ کا کہنا ہے کہ انہیں کچھ عرصہ قبل بھتہ خوری کی کالیں موصول ہوئیں۔ جب انہوں نے ان کالوں پر کوئی توجہ نہیں دی تو انہیں دھمکیاں دی جانے لگیں۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف جھوٹی اور گمراہ کن باتیں پھیلائی گئیں۔
یہ شکایت بنیادی طور پر ان کی بیٹی یشسوِنی راجے سنگھ کے خلاف جاری آن لائن ٹرولنگ سے جڑی ہے۔ یشسوِنی نے فلسطین کے حق میں سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کیا تھا، جس کے بعد ہندوتوا نظریات رکھنے والے متعدد اکاؤنٹس نے ان کی پوسٹس کو نشانہ بنایا۔
یشسوِنی راجے سنگھ ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں۔ وہ عالمی امور پر بات کرتی ہیں۔ فلسطین کی حمایت بھی اسی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق فلسطینی عوام گزشتہ دو برس سے شدید تشدد اور نسل کشی کا سامنا کر رہے ہیں۔
وکرم سنگھ ضلع فتح پور سے بی جے پی کے سابق رکنِ اسمبلی رہ چکے ہیں۔ اگرچہ وہ اب بھی پارٹی سے وابستہ ہیں، لیکن اس وقت کسی سرکاری یا تنظیمی عہدے پر نہیں ہیں۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب ہندو دائیں بازو سے وابستہ ایک سوشل میڈیا صفحے نے ایک پوسٹ شیئر کی۔ اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ وکرم سنگھ عوامی طور پر ایک روایتی اور قدامت پسند سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں، جبکہ ان کی بیٹی، جو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک گئی ہے، مبینہ طور پر ایک پاکستانی نوجوان سے تعلق رکھتی ہے اور گائے کا گوشت کھاتی رہی ہے۔
اس پوسٹ کے بعد ہندوتوا سے وابستہ ٹرول اکاؤنٹس نے یشسوِنی کی ذاتی معلومات، تصاویر اور پرانی پوسٹس سوشل میڈیا پر پھیلانا شروع کر دیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں وکرم سنگھ کے سیاسی نظریات اور ان کے خاندان کے ذاتی طرزِ زندگی کے درمیان فرق کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے فوراً بعد یشسوِنی راجے سنگھ کو عصمت دری اور جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔
ان کے مطابق ان کے عوامی انسٹاگرام اکاؤنٹ کو کھنگالا گیا، اسکرین شاٹس گردش میں ڈالے گئے، جھوٹ گھڑے گئے اور بے بنیاد الزامات کو جان بوجھ کر پھیلایا گیا، تاکہ ان کی کردار کشی کی جا سکے اور ان کی آواز دبائی جا سکے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ان کے ذاتی تعلقات کے بارے میں بھی غلط معلومات پھیلائی گئیں، جس کے بعد کئی دائیں بازو کے اکاؤنٹس کی جانب سے عصمت دری کی دھمکیاں دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی طریقہ ہے جو اقلیتوں اور حاشیے پر موجود طبقات کے حق میں آواز اٹھانے والوں کے خلاف بار بار اختیار کیا جاتا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جب عورتیں سیاست یا نظریات پر بات کرتی ہیں تو ان کے خیالات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور ان کی ذاتی زندگی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ شرمندہ نہیں ہیں اور نہ ہی کسی کو جواب دہ ہیں۔
یشسوِنی نے دو ٹوک انداز میں لکھا:
“فلسطین فلسطینیوں کا ہے۔”
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک تبصرے کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عالمی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ادارے دنیا بھر سے لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ ان کے دوست پاکستان سمیت سو سے زائد ملکوں میں ہیں اور دوستی کو مشکوک تعلق قرار دینا تنگ نظری کی علامت ہے۔
یہ معاملہ اب تک تھما نہیں ہے۔ اس واقعے کے بعد بی جے پی سے وابستہ رہنماؤں کے دوہرے رویّے پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے، جہاں ایک طرف نفرت آمیز بیانیہ فروغ دیا جاتا ہے اور دوسری طرف ان کے اہلِ خانہ عالمی انسانی مسائل پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ اگست 2025 میں اسی علاقے میں ایک بڑا واقعہ پیش آیا تھا، جب زعفرانی تنظیموں سے وابستہ کارکنوں نے ایک 200 سال پرانے مقبرے میں گھس کر توڑ پھوڑ کی تھی۔ اس موقع پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ مقام دراصل ایک مندر تھا، جسے مسلم حکمرانوں نے منہدم کر کے مقبرے میں تبدیل کر دیا تھا۔
پولیس کے مطابق بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے کارکن بڑی تعداد میں وہاں جمع ہوئے۔ رکاوٹیں توڑ کر نواب عبدالصمد کے مقبرے میں داخل ہوئے اور وہاں آرتی اور پوجا کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق ضلع بی جے پی صدر مکھیل پال اور سابق رکنِ اسمبلی وکرم سنگھ اس کارروائی میں پیش پیش تھے۔ کارکنوں نے مقبرے کے اندر ہنومان چالیسہ بھی پڑھا تھا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں کچھ افراد کو مزاروں پر پتھر اور لاٹھیاں مارتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا۔
نوٹ: یہ مضمون مکتوب میڈیا سے ماخوذ ہے، جسے اہمیت کے پیشِ نظر اردو میں پیش کیا گیا ہے۔
