علامتی تصویر: اتراکھنڈ میں مدرسہ طلبہ کو مرکزی تعلیمی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔
دہرادون، 16 فروری 2026 — اتراکھنڈ حکومت کی جانب سے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ختم کیے جانے کے بعد ریاست کے 452 مدارس میں زیر تعلیم 40 ہزار سے زائد طلبہ کو مرکزی تعلیمی نظام میں شامل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کے مطابق ان مدارس کو اتراکھنڈ ایجوکیشن بورڈ کے نصاب کے تحت لایا جائے گا، جبکہ مذہبی تعلیم کو باقاعدہ کلاسوں کے بعد جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کے حکام نے بتایا کہ مدرسہ بورڈ کے غیر فعال ہونے کے بعد اب مدارس کا الحاق ریاستی تعلیمی بورڈ سے کیا جائے گا۔ اس عمل کے مکمل ہونے کے بعد مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ کی اسناد کو سرکاری ملازمت اور اعلیٰ تعلیم کے لیے تسلیم کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اقلیتی طلبہ کو مرکزی تعلیمی دھارے سے جوڑنے اور انہیں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اتراکھنڈ میں مدرسہ بورڈ سے رجسٹرڈ تقریباً 452 مدارس میں 40 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے تقریباً 43 ہزار طلبہ گزشتہ برسوں میں منشی، مولوی، عالم، کامل اور فاضل جیسے کورس مکمل کر چکے ہیں، تاہم ان اسناد کو ریاستی تعلیمی بورڈ کے برابر تسلیم نہیں کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے طلبہ کو سرکاری ملازمت کے مواقع حاصل نہیں ہو رہے تھے۔
اتراکھنڈ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، جو 2016 میں قائم کیا گیا تھا، اپنی اسناد کو عام تعلیمی بورڈ کے مساوی درجہ دلانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ مدرسہ بورڈ کے چیئرمین مفتی شمون قاسمی نے کہا کہ دونوں نظاموں کے درمیان برابری نہ ہونے کی وجہ سے مدرسہ طلبہ کی اسناد کو سرکاری سطح پر تسلیم نہیں کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی تعلیمی بورڈ سے الحاق کے بعد اس مسئلے کو حل کیا جا سکے گا۔
ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کے خصوصی سکریٹری پراگ مادھوکر دھاکٹے نے کہا کہ مدرسہ انتظامیہ کو ریاستی تعلیمی بورڈ کے معیار اور ضابطوں پر پورا اترنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مدارس میں ریاستی نصاب کے مطابق عام مضامین کی تدریس لازمی ہوگی، جبکہ مذہبی تعلیم کو اضافی طور پر جاری رکھا جا سکے گا۔ مذہبی تعلیم کے نصاب اور اس کے دائرہ کار کا تعین اتراکھنڈ اسٹیٹ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی کرے گی۔
ادھر اقلیتی تعلیمی حلقوں میں اس فیصلے کو لے کر تشویش بھی پائی جا رہی ہے۔ ذمہ داران کا کہنا ہے کہ مدارس کو ریاستی نظام میں شامل کرتے وقت ان کی آئینی خود مختاری، نصابی شناخت اور مذہبی تعلیم کے بنیادی کردار کو محفوظ رکھنا ضروری ہے، تاکہ تعلیمی اصلاح کے نام پر اداروں کی اصل شناخت متاثر نہ ہو۔
