بہار کے مدھوبنی میں مسلم خاتون کو ہجوم نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا
مدھوبنی (بہار)، 7 مارچ 2026: بہار کے ضلع مدھوبنی میں ایک مسلم خاتون ہجوم کے تشدد کے بعد جانبر نہ ہو سکیں۔ مقامی لوگوں اور پولیس کے مطابق خاتون ایک مقامی تنازع کے حل کے لیے گاؤں کے مکھیا کے پاس گئی تھیں، جہاں ان پر حملہ کیا گیا۔
متوفیہ کی شناخت روشن خاتون کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ مدھوبنی ضلع کے گھوگھردیہا بلاک کے گاؤں امہی کی رہنے والی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ 28 فروری کو گاؤں کے مکھیا سے اپنے معاملے میں مداخلت کی درخواست کرنے کے لیے گئی تھیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اسی دوران مکھیا کے بیٹے منو سنگھ اور چند دیگر افراد نے مبینہ طور پر ان پر حملہ کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے روشن خاتون کو ایک کھمبے سے باندھ دیا اور انہیں بری طرح پیٹا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوران انہیں گالیاں بھی دی گئیں۔
اس حملے میں روشن خاتون شدید زخمی ہو گئیں۔ بعد میں انہیں علاج کے لیے پٹنہ میڈیکل کالج اینڈ اسپتال (پی ایم سی ایچ) منتقل کیا گیا، جہاں یکم مارچ کو ان کا انتقال ہو گیا۔
مقامی افراد کے مطابق یہ واقعہ کئی لوگوں کے سامنے پیش آیا۔ ایک عینی شاہد نے کہا کہ روشن خاتون انصاف کی امید سے وہاں گئی تھیں، مگر ان کی بات سننے کے بجائے کچھ لوگوں نے انہیں مارنا شروع کر دیا۔ ایک دوسرے مقامی شخص نے بتایا کہ حملہ اس وقت بھی جاری رہا جب کئی لوگ وہاں موجود تھے اور خاتون بے بس ہو کر حملہ آوروں سے رکنے کی درخواست کرتی رہیں۔
کچھ مقامی سوشل میڈیا پوسٹس اور عینی شاہدین کے دعوے کے مطابق حملے کے وقت روشن خاتون روزے سے تھیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے پانی مانگا تھا، تاہم پولیس نے ان دعووں کی ابھی تصدیق نہیں کی ہے۔ ایک پولیس افسر نے کہا کہ اس حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کی جانچ کی جا رہی ہے اور تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر تفتیش جاری ہے۔
واقعے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس کے مطابق گاؤں کے مکھیا کے بیٹے کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ واقعے کے وقت موجود تمام افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور جو بھی قصوروار پایا جائے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
صورتحال کو دیکھتے ہوئے علاقے میں پولیس تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی قسم کی کشیدگی کو روکا جا سکے۔ پولیس اہلکار مقامی لوگوں کے بیانات بھی قلم بند کر رہے ہیں۔
روشن خاتون کی موت کے بعد مقامی لوگوں اور سماجی کارکنوں میں غم اور غصہ پایا جا رہا ہے۔ کئی افراد نے اس واقعے میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ روشن خاتون کے شوہر نے بھی ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ لوگ عموماً اپنے مسائل کے حل کے لیے گاؤں کے سربراہ کے پاس جاتے ہیں، مگر اس واقعے نے کئی خاندانوں کو صدمے میں ڈال دیا ہے۔ مقامی بزرگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور مزید شواہد ملنے پر مزید گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں۔
