فوٹو: نمائندہ/تصوری تصویر (اے آئی جنریٹڈ)
لکھنؤ: اتر پردیش میں جہاں ایک طرف مدارس اور اقلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق کارروائیوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، وہیں دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا مائنارٹی مورچہ اقلیتوں، خصوصاً مسلم طبقے تک رسائی کے لیے ریاست بھر میں پروگراموں کا سلسلہ شروع کرنے جا رہا ہے۔
پارٹی کے ریاستی صدر کنور باسط علی کے مطابق یہ پروگرام مرکز میں حکومت کے 11 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کیے جائیں گے۔ ان کا مقصد اقلیتوں کے لیے کیے گئے کاموں کو اجاگر کرنا اور مسلم برادری کے ساتھ رابطہ بڑھانا ہے۔ اس سلسلے کی شروعات 12 جون کو لکھنؤ کے اٹل بہاری واجپئی کنونشن سینٹر میں ہوگی، جبکہ 15 جون سے ریاست کے تمام اضلاع میں ایسے پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
ان پروگراموں میں ’دیش کا پیغام، پرتِبھا کو سمان‘ کے تحت مدارس کے امتحانات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو اعزاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک کے لیے جان دینے والے فوجیوں کے اہلِ خانہ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا، اور آپریشن سندور سے متعلق فوجی کارروائیوں کو اجاگر کیا جائے گا۔
بی جے پی کے ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی اور دیگر رہنما ان پروگراموں میں بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوں گے، جبکہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے دانشور، اساتذہ، وکلا، سماجی کارکن اور نوجوانوں کی شرکت بھی متوقع ہے۔ پارٹی کے مطابق ان پروگراموں میں تقاریر کے بجائے مکالمے پر زور دیا جائے گا تاکہ عوامی رائے کو براہِ راست قیادت تک پہنچایا جا سکے۔
اسی سلسلے میں 21 جون کو عالمی یومِ یوگا کے موقع پر ریاست کے 403 اسمبلی حلقوں میں واقع مدارس میں بھی پروگرام منعقد کرنے کی بات کہی گئی ہے، جن میں اساتذہ، طلبہ اور مقامی افراد کی شرکت ہوگی۔ مزید برآں، درگاہوں اور مساجد کے باہر عوامی نشستیں (چوپال) منعقد کر کے آپریشن سندور کی کامیابی کو موضوع بنایا جائے گا۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب مدارس اور اقلیتی اداروں سے متعلق سخت نگرانی اور کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب انہی طبقات کو ساتھ لانے کے لیے ایسے پروگراموں کا انعقاد ایک متضاد صورت حال کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ یہ اقدامات محض سیاسی رابطہ مہم تک محدود رہتے ہیں یا پالیسی سطح پر بھی اس کا کوئی اثر نظر آتا ہے۔
