فوٹو: نمائندہ/تصوری تصویر (اے آئی جنریٹڈ)
افروز عالم ساحل
صبح کے قریب ساڑھے چار بج رہے ہیں۔ باہر درجۂ حرارت صفر کے آس پاس ہے، مگر اس شدید سردی کے باوجود سحری میں جگانے والا داؤلجو حسبِ معمول اپنا ڈھول بجا کر لوگوں کو سحری کے لیے جگانے میں مصروف ہے۔
یہ صدیوں پرانی ایک زندہ روایت کی جھلک ہے۔ استنبول میں رمضان کے دوران لوگوں کو سحری کے لیے جگانے کا یہ طریقہ آج بھی برقرار ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی میونسپلٹی بھی اس روایت کی باقاعدہ سرپرستی کرتی ہے۔ یہ ڈھولچی اپنے اپنے محلوں کے مختاروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اس سال تقریباً تین ہزار سرکاری طور پر منظور شدہ رمضان ڈھولچی استنبول کے 961 محلوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ان میں سے کئی ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کے لیے یہ ایک ورثہ ہے، جو نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس روایت کی جڑیں عثمانی دور تک پھیلی ہوئی ہیں، اور آج بھی یہ استنبول کی رمضان فضا کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ ڈھولچی گلیوں میں گھومتے ہیں، مخصوص دھنوں کے ساتھ ڈھول بجاتے ہیں اور روایتی اشعار پڑھتے ہیں، جس سے سحری کے وقت میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
اس روایت کے اندر ایک سماجی روح بھی کارفرما رہتی ہے۔ محلوں میں تعلق، اپنائیت اور بھائی چارہ برقرار رہتا ہے اور رمضان کی ثقافتی پہچان تازہ ہوتی رہتی ہے۔
اسی ڈھول کی آواز نے مجھے اچانک ماضی کی گلیوں میں پہنچا دیا۔ میں یادوں میں یوں کھو گیا جیسے وقت پیچھے لوٹ آیا ہو۔ میرے بچپن کا شہر، جہاں میں نے زندگی کے ابتدائی دن گزارے، وہاں بھی ایک خوبصورت روایت ہوا کرتی تھی جسے ہم ”قافلۂ رمضان“ کے نام سے جانتے ہیں۔
یوں تو ہندوستان کے کئی شہروں میں اس جیسی روایتیں موجود تھیں، مگر بڑے شہروں میں یہ سلسلہ تقریباً دس پندرہ سال پہلے ہی ختم ہو گیا۔ دہلی اور لکھنؤ جیسے ادبی مراکز میں بھی اب یہ روایت محض ایک یاد بن کر رہ گئی ہے۔
لیکن خوشی کی بات تھی کہ میرا شہر بتیا اس معاملے میں کچھ مختلف تھا۔ ٹیکنالوجی کے اس تیز رفتار دور میں، جہاں روایات تیزی سے ماند پڑتی جا رہی ہیں، وہاں بتیا کی نئی نسل نے ”قافلۂ رمضان“ کو سنبھال کر رکھا اور اسے جاری رکھا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے، سال 2017 میں میں نے اسی موضوع پر ایک تفصیلی اسٹوری لکھی تھی ۔ ”قافلۂ رمضان: یہ روایت اس شہر میں زندہ ہے…“ اس کے ذریعے میں نے لوگوں کو بتایا تھا کہ کیسے ایک چھوٹا سا شہر اپنی روایتوں کو اپنے ساتھ لیے چل رہا ہے۔
رمضان کی بابرکت راتوں میں جیسے ہی سحری کا وقت قریب آتا ہے، کچھ لوگوں کی ٹولیاں اپنے خوبصورت کلام اور خوش الحان آوازوں کے ساتھ لوگوں کو جگانے نکل پڑتی ہیں۔ ان ٹولیوں کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ ان میں ہر عمر کے لوگ شامل ہوتے ہیں، بچوں سے لے کر بزرگوں تک۔ ہر محلے کی اپنی الگ ٹولی ہوتی ہے، اپنی پہچان اور اپنا انداز۔
یہ سلسلہ باقاعدہ تیاری کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ رات تقریباً بارہ بجے یہ لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے کلام کی مشق کرتے ہیں، اور پھر ڈھائی یا تین بجے کے قریب اپنی اپنی ٹولیوں کے ساتھ نکل پڑتے ہیں۔
مجھے یاد ہے، میرے محلے کی ٹولی کے لوگوں نے ایک بڑی اہم بات بتائی تھی۔ چونکہ شہر میں ہندو اور مسلمان دونوں آباد ہیں، اس لیے وہ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ ان کی سرگرمی سے کسی غیر مسلم کو تکلیف نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ ہندو آبادی والے علاقوں سے گزرتے تھے تو خاموشی اختیار کر لیتے تھے۔ یہ باہمی احترام اور ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال تھی۔
”قافلۂ رمضان“ میں مختلف شعرا کے رمضان سے متعلق کلام پڑھے جاتے تھے۔ ابتدا میں رمضان کی آمد کا استقبال کرنے والے اشعار ہوتے تھے، جبکہ اختتام پر الوداعی کلام پیش کیا جاتا تھا۔ جب عید کا چاند نظر آتا تو یہی قافلہ پورے شہر میں گھوم کر سلامی کلام پڑھتا، اور عید کے دن بھی یہ سلسلہ جاری رہتا۔ لوگ خوشی سے انہیں عیدی دیتے، کہیں سیویاں پیش کی جاتیں اور کہیں دعاؤں کا تبادلہ ہوتا۔
وقت کے ساتھ انداز میں تبدیلی آئی۔ پہلے یہ کلام ایک مخصوص روایتی لے میں پڑھے جاتے تھے، مگر اب نوجوان اکثر انہیں فلمی دھنوں پر بھی پیش کر دیتے ہیں۔ اس کے باوجود روایت کی روح باقی رہی۔
یہ قافلہ شہر کے معروف شاعر ایم ایم وفا کا کلام بھی پڑھتا تھا۔ ان کا گھر میرے گھر کے عین سامنے، سڑک کے دوسری جانب تھا۔ اس اسٹوری کے دوران میری ان سے گفتگو بھی ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بچپن سے اس روایت کو دیکھتے آئے ہیں اور خود بھی اس کا حصہ رہے ہیں۔ بعد میں انہوں نے رمضان سے متعلق کلام لکھنا شروع کیے، اور ان کے سینکڑوں اشعار مختلف قافلوں میں پڑھے جا چکے ہیں۔
انہوں نے ایک بات حسرت کے ساتھ کہی تھی کہ پہلے کا زمانہ مختلف تھا۔ بزرگوں کی دلچسپی زیادہ ہوتی تھی، نہ موبائل فون تھے اور نہ ہی مساجد سے سائرن کی آوازیں آتی تھیں، اس لیے اس روایت کی اہمیت زیادہ محسوس کی جاتی تھی۔ آج کے دور میں بہت کچھ بدل چکا ہے، مگر یہ بات دل کو خوشی دیتی ہے کہ نئی نسل نے اسے ایک عرصے تک جاری رکھا۔
البتہ ایک کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی کہ ایم ایم وفا صاحب اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ 9 اگست 2018 کو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کا کلام اور یادیں اس روایت کے ساتھ جڑی رہیں۔
مجھے یاد ہے، انہی دنوں اسی اسٹوری کے سلسلے میں شہر کے ایک اور بزرگ شاعر ابوالخیر نشتر سے بھی طویل گفتگو ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ 1938 میں محمد شاکر علی بستوی نے میرے محلے نازنی چوک سے اس روایت کی بنیاد رکھی تھی۔ مقصد لوگوں کو سحری کے لیے جگانا تھا۔ وقت کے ساتھ اس میں مختلف شعرا کا کلام شامل ہوتا گیا اور یہ ایک باقاعدہ ثقافتی روایت بن گئی۔
نشتر صاحب کے مطابق 1965 میں جب معروف شاعر ناظم بھارتی بتیا آئے تو اس روایت کو ایک نئی جہت ملی۔ اسی دور میں ”قافلہ صدائے مومن“ قائم ہوا، جس نے اس روایت کو منظم کیا اور اسے ادبی رنگ دیا۔
وہ بتاتے تھے کہ 1966 سے 1986 تک کا زمانہ اس روایت کا سنہری دور تھا۔ مقابلے ہوتے تھے، اور بتیا کے قافلے دوسرے شہروں میں جا کر اپنی شناخت قائم کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ لوگوں کی دلچسپی کم ہوئی، مگر ان کے لہجے میں ہمیشہ یہی خواہش رہتی تھی کہ یہ روایت باقی رہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ابوالخیر نشتر خود اس روایت کا حصہ رہے۔ جوانی میں وہ قافلے کے ساتھ رہے اور رمضان کے لیے کلام بھی لکھے۔ ان کا مجموعہ ”الفاظ کی خوشبو“ 1985 میں شائع ہوا، جسے بعد میں 2021 میں ”روشن تر الفاظ“ کے نام سے دوبارہ شائع کیا گیا۔ اسی سال 12 فروری کو وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
انہی یادوں کے درمیان اچانک خیال آیا کہ گھڑی کی سوئیاں ساڑھے پانچ بجا رہی ہیں۔ سحری کا وقت ختم ہونے کے قریب تھا۔ میں جلدی سے سحری میں مشغول ہو گیا، مگر ذہن میں ”قافلۂ رمضان“ کی آوازیں گونجتی رہیں۔
دن میں میں نے اپنے بڑے بھائی سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ اب بتیا میں ”قافلۂ رمضان“ کی روایت ختم ہو چکی ہے۔ ایک لمحے کو یقین نہیں آیا۔ تصدیق کے لیے شہر کے ایک سینئر صحافی سے بات کی، مگر انہوں نے بھی یہی کہا۔
یوں جس روایت کو میں اپنی یادوں میں زندہ محسوس کر رہا تھا، وہ حقیقت میں خاموش ہو چکی تھی۔
استنبول کی گلیوں میں گونجتی ڈھول کی آواز اس کے بعد محض ایک منظر نہیں رہی، بلکہ ایک یاد دہانی بن گئی۔ تہذیبیں اپنی جگہ خود قائم نہیں رہتیں، انہیں برقرار رکھنے کے لیے مسلسل توجہ اور عمل درکار ہوتا ہے۔
