تعلیم: انبیاء کی وراثت اور امتِ مسلمہ کا روحانی سرمایہ
حمیرا اشرف
تعلیم ایک عبادت ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو سب سے پہلے انہیں علم ہی کے زیور سے آراستہ کیا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: “وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا (البقرۃ: 31)” اللہ نے آدم کو تمام نام سکھا دیے۔ اس میں واضح اعلان ہے کہ انسانی شرافت کی بنیاد علم ہے اور انسان کی پہلی ذمہ داری بھی اسی سے وابستہ ہے۔
تمام انبیاء علیہم السلام کا مشغلہ علم اور عمل ہے، کہ وہ مال و دولت نہیں چھوڑتے بلکہ علمِ دین کو اپنی امت کے لیے ترکہ بناتے ہیں۔ قرآن کریم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض منصبی میں بھی تعلیم کو شامل کیا ہے: “هُوَ الَّذِى بَعَثَ فِى الأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (الجمعۃ: 2)
” ۔ اللہ نے انہی میں سے رسول بھیجا جو انہیں اللہ کی آیات سناتا ہے، ان کا تذکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے انبیاء تشریف لائے، سب اسی وصفِ معلّمی سے متصف تھے۔
نبوی تعلیم اور مدرسۂ صفّہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ ہجرت کے بعد سب سے پہلا انتظام تعلیم و تربیت کا فرمایا۔ مسجد نبوی میں صفّہ کا مدرسہ قائم کیا گیا جہاں ہمہ وقت طلبہ علم و ذکر میں مشغول رہتے تھے۔ ان طلبہ کو قرّاء کہا جاتا تھا۔ بیئرِ معونہ کے سانحہ میں شہید ہونے والے ستر قرّاء کو علامہ ابن حجر عسقلانی نے اصحابِ صفّہ میں شمار کیا ہے۔ تعلیم کی اسی اہمیت کا ثبوت یہ بھی ہے کہ جنگ بدر کے وہ قیدی جو فدیہ ادا نہ کر سکے، انہیں اس شرط پر آزاد کیا گیا کہ وہ مدینہ کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم (الکہف: 28)” ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ایسے لوگوں کی تلاش فرمائی جن میں اس آیت کی صفات موجود ہوں۔ آپ نے مسجد نبوی میں چند پراگندہ حال مگر باصفا اہلِ ذکر کو پایا جو واحد کپڑے میں ستر ڈھانپے بیٹھے تھے اور اللہ کے ذکر میں مشغول تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مجلس میں بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا: “الحمد للہ الذی جعل فی أمتی من أمرنی أن أصبر نفسی معه” ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کیے جن کے ساتھ خود مجھے بیٹھنے کا حکم دیا گیا۔
علم کی فضیلت پر انبیاء کی زندگی سب سے بڑی دلیل ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسا جلیل القدر نبی چند مسائل سیکھنے کے لیے سفر کی مشقت برداشت کرتا ہے۔ یہی علم کا مقام ہے۔ وحی کی ابتدا ہی میں قلم اور تعلیم کا ذکر آیا: “اقرأ وربك الأكرم، الذي علم بالقلم”۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا اور اس کے ظاہری ساز و سامان میں کچھ بھی لائقِ اعتبار نہیں، مگر اللہ کا ذکر، اس سے متعلق امور، عالم اور متعلم ۔ یہی دنیا کا حقیقی سرمایہ ہیں۔ طالب علم کی بھوک کے بارے میں ارشاد ہے: “منہومان لا یشبعان” ۔ دو بھوکے کبھی سیر نہیں ہوتے: ایک مال کا طالب اور دوسرا علم کا طالب۔
علمِ نافع اور سلف کا طریقہ:
اللہ تعالیٰ نے دعا سکھائی: “وَقُل رَّبِّ زِدْنِی عِلْمًا” ۔ اے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا کہ یہاں علم سے مراد وہ شرعی علم ہے جو بندے کو عقیدہ، عبادت، معاملات اور اخلاق میں رہنمائی دیتا ہے۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “من سلك طريقاً يلتمس فيه علماً سهّل الله له به طريقاً إلى الجنة” ۔جو شخص علم کی راہ میں چلتا ہے اللہ اس کے لیے جنت کی راہ آسان کر دیتا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے: “من يرد الله به خيراً يفقهه في الدين” ۔ اللہ جس کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ پلل کرتا ہے۔
قرآن نے گواہانِ توحید میں اہلِ علم کو اپنی اور فرشتوں کی شہادت کے بعد ذکر فرمایا۔ یہ علم کے شرف کا سب سے بلند مقام ہے۔ خشیتِ الٰہی بھی علم کا خاصہ ہے: “إنما يخشى الله من عباده العلماء” ۔ معرفت کے بقدر خوف پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ عالم کے دل میں خشیت اور امید دونوں بڑھ جاتے ہیں۔
اخلاص علم کی روح ہے۔ قرآن میں بار بار خالص دین کی تاکید آئی ہے: “وما أمروا إلا ليعبدوا الله مخلصين له الدين”۔ علم اگر اخلاص کے بغیر ہو تو نہ وہ باقی رہتا ہے نہ اثر دیتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچانے کا مطلب ہے: “أدّبوهم وعلّموهم” ۔ انہیں ادب سکھاؤ اور تعلیم دو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تعلموا العلم وتعلموا للعلم السكينة والوقار” ۔ علم سیکھو اور اس کے لیے سکون، وقار اور تواضع بھی سیکھو۔
حدیث میں آیا ہے کہ علم کے زوال کی ایک وجہ معلم کے حقوق کی رعایت نہ کرنا ہے، اور اہل علم کی بے توقیری منافقین کا شیوہ بتایا گیا ہے۔ ابن حزم لکھتے ہیں کہ حاملینِ قرآن، اہلِ علم، اور حکمرانِ وقت کی توقیر پر امت کا اجماع ہے۔ سعید بن مسلم کہتے ہیں کہ عزت میں علم سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ ابن معتز نے کہا کہ متواضع طالب علم ہی علم میں آگے بڑھتا ہے، جس طرح نشیب میں پانی جمع ہوتا ہے۔
صحابہ کرام کا حال یہ تھا کہ ایک حدیث کے لیے مہینوں کا سفر کرتے۔ امام بخاری نے اس پر باقاعدہ باب قائم کیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ ایک حدیث کے لیے ملکوں کی مسافت طے کرتے تھے۔ یہی وہ شوق اور وقار ہے جس سے علم کی میراث آگے بڑھی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرنے کے بعد انسان کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، مگر تین چیزوں کا ثواب جاری رہتا ہے: صدقہ جاریہ، نفع دینے والا علم، اور نیک اولاد جو دعا کرے۔ امام نووی نے لکھا کہ علم خواہ تالیف ہو یا تعلیم انسان کی ایسی کمائی ہے جو اس کی زندگی کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔
اہلِ علم کا شرف اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یوں بیان فرمایا: “يرفع الله الذين آمنوا منكم والذين أوتوا العلم درجات” ۔ اللہ ایمان والوں اور اہل علم کے درجات بلند کرتا ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ جب یہ آیت پڑھتے تو فرماتے: “اے لوگو! اس آیت کو پہچانو اور علم کی رغبت پیدا کرو۔”
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: “إن هذا العلم دين فانظروا عمن تأخذون دينكم” یہ علم دین ہے، دیکھو اسے کس سے لیتے ہو۔
شعر میں اسی حقیقت کو یوں بیان کیا گیا ہے:
وما الفخرُ إلا لأهلِ العِلمِ إنَّهُمُ
على الهُدى لِمَنِ استَهدى أدِلّاءُ
وقدرُ كلِّ امرئٍ ما كان يُحسِنُهُ
والجاهلونَ لأهلِ العِلمِ أعداءُ
فخر اہلِ علم ہی کو زیبا ہے کہ وہ خود بھی ہدایت پر ہوتے ہیں اور رہنمائی کے طالبوں کے راہبر بھی۔ ہر شخص کی قدر اس کے علم و ہنر سے ہے، اور جاہل ہمیشہ اہل علم کے دشمن ہوتے ہیں۔
تعلیم دراصل انسان کی اصل عبادت، انبیاء کی وراثت اور امت کی قوت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع، عمل صالح، اخلاص، تواضع اور خشیت عطا فرمائے۔ آمین۔

ماشاءاللہ
بہت خوب لکھا۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ