یوپی میں مدرسہ تعلیم کا بحران: سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 32 ہزار طلبہ بے سمت
اتر پردیش میں مدارس سے متعلق سرکاری اقدامات نے ایک بار پھر مسلم سماج میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ بظاہر حکومت تعلیم کے معیار اور قانونی ضابطوں کی بات کر رہی ہے، مگر عملی صورتِ حال یہ ہے کہ ان فیصلوں نے ہزاروں مدرسہ طلبہ کو غیر یقینی مستقبل سے دوچار کر دیا ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اصلاح کے نام پر دینی اداروں کو دباؤ میں لانے اور ان پر کنٹرول حاصل کرنے کی پالیسی مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ کب آیا؟
یہ پورا معاملہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد شدت اختیار کر گیا جو 5 نومبر 2024 کو سنایا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو کامل اور فاضل کی ڈگریاں دینے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ عدالت کے مطابق یہ عمل یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) ایکٹ کے خلاف ہے اور ڈگری دینے کا حق صرف یونیورسٹیوں تک محدود ہے۔
اس فیصلے کا سیدھا اثر اتر پردیش کے تقریباً 32 ہزار مدرسہ طلبہ پر پڑا، جو کامل اور فاضل کورسز میں داخل تھے اور اپنی تعلیم کو باقاعدہ ڈگری سمجھ کر آگے بڑھ رہے تھے۔
طلبہ اب یونیورسٹیوں کی طرف مجبور
عدالتی فیصلے کے بعد حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ مدرسہ طلبہ یونیورسٹیوں میں بی اے اور ایم اے جیسے کورسز میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ راستہ انتخاب نہیں بلکہ مجبوری بن چکا ہے۔
کئی طلبہ برسوں مدرسوں میں پڑھنے کے بعد اچانک دوبارہ شروعات پر مجبور ہیں۔ بعض طلبہ کی تعلیم فروری 2024 سے رکی ہوئی ہے اور تقریباً ڈیڑھ سال ضائع ہو چکا ہے۔ عالم یا عالیہ کی سند رکھنے والے طلبہ بی اے میں داخلے کے اہل تو ہیں، مگر کامل اور فاضل میں گزارے گئے برسوں کا کوئی حساب نہیں لگایا جا رہا۔
کمزور معاشی پس منظر سے آنے والے طلبہ کے لیے یونیورسٹی فیس، داخلہ کے اخراجات اور شہروں میں رہائش ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی طلبہ تعلیم چھوڑنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
مدارس پہلے ہی دباؤ میں
یہ سارا بحران ایسے وقت پیدا ہوا ہے جب اتر پردیش میں پہلے ہی درجنوں غیر رجسٹرڈ مدارس بند کیے جا چکے ہیں۔ کئی مدارس کو سیل کیا گیا۔ بعض عمارتوں کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کیا گیا۔ حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ یہ کارروائیاں غیر قانونی تعمیرات اور ضابطوں کی خلاف ورزی پر کی گئیں، مگر مسلم سماج اسے یکطرفہ اور امتیازی کارروائی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
ایک طرف حکومت مدارس کو جدید تعلیم سے جوڑنے کی بات کرتی ہے، دوسری طرف انہی اداروں کو ختم کیا جا رہا ہے جہاں غریب اور پسماندہ طبقے کے بچوں کو تعلیم ملتی تھی۔ یہی تضاد حکومت کی پالیسی پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔
حکومتی دعوے اور عملی خلا
ریاستی وزیرِ مملکت برائے اقلیتی فلاح دانش آزاد انصاری کا کہنا ہے کہ حکومت اس مسئلے کا حل تلاش کر رہی ہے اور امدادی مدارس میں کام کرنے والے اساتذہ متاثر نہیں ہوں گے۔ تاہم طلبہ کے لیے اب تک کوئی واضح، تحریری اور وقت بند منصوبہ سامنے نہیں آیا۔
مدارس کے اساتذہ کی تنظیم نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مدرسہ طلبہ کو خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی سے منسلک کیا جائے تاکہ ان کی تعلیم، امتحانات اور ڈگریوں کو قانونی تحفظ مل سکے۔ عدالت نے اس معاملے میں ریاستی حکومت، یو جی سی اور مدرسہ بورڈ سے جواب طلب کر رکھا ہے۔
اصلاح کے دعوے یا دباؤ کی پالیسی؟
حکومت تعلیم، شفافیت اور اصلاح کے دعوے تو کر رہی ہے، مگر ان فیصلوں کا بوجھ ہمیشہ کی طرح طلبہ اور اساتذہ پر ڈالا جا رہا ہے۔ اگر کامل اور فاضل کی ڈگریاں واقعی غیر قانونی تھیں تو سوال یہ ہے کہ یہ نظام برسوں تک کیسے چلتا رہا؟ اور اب اس کی قیمت طلبہ کیوں ادا کریں؟
یہ مسئلہ اب محض تعلیمی ڈگریوں تک محدود نہیں رہا۔ یہ معاملہ مساوی مواقع، مذہبی شناخت اور ریاستی انصاف سے جڑ چکا ہے۔ اگر واقعی نیت اصلاح کی ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے ضائع شدہ برسوں کا حل نکالے، سستی اور قابلِ رسائی تعلیم کو یقینی بنائے اور مدارس کو دشمن کے بجائے تعلیمی شراکت دار کے طور پر دیکھے۔
ورنہ یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ قانون اور اصلاح کے نام پر مدارس اور مسلم طلبہ کو مسلسل دباؤ میں رکھا جا رہا ہے۔
