اندھیری میں مسجد کی زمین پر زبردستی تعمیر کی کوشش، معاملہ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت
ممبئی — اندھیری کے مشرقی علاقے میں واقع مہاراشٹر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم آئی ڈی سی) کی حدود میں اس ہفتے اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی، جب ایک ڈیولپر نے تاریخی مسجد و مدرسہ غوثیہ رضویہ سے منسلک زمین پر تعمیر شروع کرنے کی کوشش کی۔ مسجد کے ٹرسٹیوں کا کہنا ہے کہ یہ زمین تحریری معاہدے کے تحت مسجد کے لیے مختص ہے اور اس پر برسوں پہلے مسجد کی بنیاد بھی رکھی جا چکی ہے، جو اب تک موجود ہے۔
ٹرسٹیوں کے مطابق ڈیولپر نے پہلے زمین صاف کروائی، پھر ہندو رسومات کے تحت ناریل توڑ کر تعمیر کا آغاز ظاہر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب معاملہ پہلے ہی Bombay High Court میں زیرِ سماعت ہے۔ اسی زمین سے متعلق ایک اور مسجد کی تعمیر کا مقدمہ بھی عدالت میں چل رہا ہے۔ الزام ہے کہ عدالتی کارروائی کے باوجود ڈیولپر نے پیش قدمی کی، جبکہ موقع پر ایم آئی ڈی سی اور پولیس کے افسران موجود تھے۔
واقعے کی خبر پھیلتے ہی آس پاس کے علاقوں سے مسلمان اور ہندو باشندے بڑی تعداد میں جمع ہوگئے۔ لوگوں نے سخت ناراضی کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ جب معاملہ عدالت میں ہے تو کسی بھی طرح کی تعمیر کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔ مقامی لوگوں کے مسلسل اعتراض کے بعد ایم آئی ڈی سی کے ایک افسر نے موقع پر کہا کہ دونوں فریق پہلے عبادت گاہ سے متعلق تنازع باہمی بات چیت سے حل کریں، اس کے بعد ہی کسی تعمیر پر غور ہو سکتا ہے۔
مسجد کے ٹرسٹیوں نے بتایا کہ تقریباً ایک ماہ قبل ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر کیٹ نے ان سے رابطہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ڈیولپر نے تعمیر کے لیے پولیس بندوبست مانگا ہے۔ اس موقع پر یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر صورتحال امن و امان کے مسئلے میں بدلی تو کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ٹرسٹیوں کے مطابق انہوں نے صاف طور پر کہا تھا کہ چونکہ ڈیولپر معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور معاملہ عدالت میں ہے، اس لیے نہ تعمیر کی اجازت دی جا سکتی ہے اور نہ پولیس مدد کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
مدرسہ و مسجد غوثیہ رضویہ اہلِ سنت خدمت کمیٹی کے سرگرم رکن اقبال منیار نے بتایا کہ بدھ کی دوپہر موجودہ مسجد کے سامنے والی جگہ، جہاں کئی برس پہلے نئی مسجد کی بنیاد رکھی گئی تھی، صاف کی گئی اور ناریل توڑ کر تعمیر شروع کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق اس وقت ایم آئی ڈی سی اور پولیس کے افسران موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب زمین معاہدے کے تحت مسجد کے لیے مختص ہے اور بنیاد اب بھی قائم ہے تو وہاں کسی اور عمارت کی تعمیر کیسے ہو سکتی ہے۔
اقبال منیار نے ڈیولپر کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ مسجد کو دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا اور اس کے لیے نیا منصوبہ منظور ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد کی منتقلی کے لیے ٹرسٹیوں نے کوئی نیا معاہدہ نہیں کیا اور ایم آئی ڈی سی کو ٹرسٹیوں کی رضامندی کے بغیر ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ ان کے مطابق یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے پولیس اور ایم آئی ڈی سی پر لازم ہے کہ وہ معاہدے پر عمل کریں اور غیر جانب دار رویہ اختیار کریں۔
موقع پر موجود ایم آئی ڈی سی پولیس کے ایک افسر نے کہا کہ پولیس کا کردار صرف امن و امان برقرار رکھنا ہے اور جو کوئی قانون ہاتھ میں لے گا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ افسر کے مطابق مسجد اور مدرسے کی زمین کا تنازع دونوں فریقوں کو مل بیٹھ کر حل کرنا چاہیے۔
اقبال منیار نے بتایا کہ اس پیش رفت کے بعد ٹرسٹیوں کی ہنگامی میٹنگ بلائی گئی ہے، جس میں آئندہ کے لائحۂ عمل پر غور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسجد کی زمین پر دوبارہ زبردستی تعمیر کی کوشش ہوئی تو قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ مسجد و مدرسہ غوثیہ رضویہ کئی دہائیوں سے اندھیری ایم آئی ڈی سی کے علاقے میں قائم ہے اور مقامی مسلم برادری کے لیے گہری مذہبی اہمیت رکھتی ہے۔ ٹرسٹیوں اور مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ عدالت پر اعتماد رکھتے ہیں، مگر ساتھ ہی مطالبہ کرتے ہیں کہ حکام کسی بھی ایسی کارروائی کو فوری طور پر روکیں جو مسجد کو نقصان پہنچائے یا موجودہ معاہدوں کو نظر انداز کرے۔
