آسام کے وزیر اعلیٰ نفرت انگیز بیانات پر کارروائی کا مطالبہ
نئی دہلی (روایت نیوز ڈیسک)
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کے مبینہ نفرت انگیز بیانات کے خلاف ملک کی ممتاز شخصیات نے عدلیہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ چالیس سے زائد دانشوروں، سابق اعلیٰ سرکاری افسران، اساتذہ، صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے گوہاٹی ہائی کورٹ کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے بار بار دیے گئے بیانات پر از خود نوٹس لیا جائے۔
خط میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے حالیہ بیانات نہ صرف مسلمانوں، بالخصوص بنگالی نژاد مسلم برادری کو نشانہ بناتے ہیں بلکہ آئینی حدود سے تجاوز، انتظامی مداخلت اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
دستخط کنندگان کی نمائندگی کرنے والے ایک وفد نے جمعرات کے روز گوہاٹی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس آشو توش کمار کو یہ کھلا خط پیش کیا۔ خط میں وزیر اعلیٰ کے ان بیانات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے جن میں بنگالی نژاد مسلمانوں کو ’’میا‘‘ برادری کہہ کر نشانہ بنایا گیا۔
خط پر دستخط کرنے والوں میں معروف دانشور ڈاکٹر ہیرن گوہائیں، آسام کے سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس ہرے کرشن ڈیکا، گوہاٹی کے سابق آرچ بشپ تھامس مینامپرمپل، راجیہ سبھا کے رکن اجیت کمار بھویان، ریٹائرڈ آئی اے ایس افسران، سینئر صحافی، اساتذہ، فنکار اور سماجی کارکن شامل ہیں۔
عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ خط لکھنے والے گوہاٹی ہائی کورٹ کے اس آئینی کردار پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں جو بنیادی حقوق کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ کے یہ بیانات محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایسے الفاظ اور اشارے ہیں جو اجتماعی بدنامی، غیر انسانی رویے اور ریاستی سرپرستی میں ہراسانی کو ہوا دیتے ہیں۔
خط میں خاص طور پر ان بیانات کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے نتیجے میں متعلقہ برادری کے خلاف سماجی اور معاشی امتیاز کو فروغ ملتا ہے۔ دستخط کنندگان کے مطابق، جب اس نوعیت کی باتیں ریاست کے سربراہ کی جانب سے کی جائیں تو وہ آئین میں دی گئی وقار، مساوات اور بھائی چارے کی ضمانت کو کمزور کرتی ہیں۔
خط میں جاری خصوصی نظرثانی کے عمل میں مبینہ انتظامی مداخلت پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اس میں ان عوامی بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکمراں جماعت کے کارکنوں کو مخصوص برادری کے افراد کے خلاف اعتراضات داخل کرنے کی ترغیب دی گئی۔ دستخط کنندگان کے مطابق، کسی آئینی اور نیم عدالتی عمل کو متاثر کرنا جمہوری اقدار اور ادارہ جاتی غیر جانب داری کے خلاف ہے۔
عرضداشت میں نفرت انگیز تقاریر سے متعلق سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عہدہ کچھ بھی ہو، قانون سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ جب معاملہ کسی موجودہ وزیر اعلیٰ سے جڑا ہو تو عدالتی نگرانی اور بھی ضروری ہو جاتی ہے۔
دستخط کنندگان نے آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت وزیر اعلیٰ کے حلف کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ کسی مذہبی برادری کو عوامی طور پر نشانہ بنانا یا اسے مشکوک بنانا ایک آئینی عہدے دار کی ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
خط میں گوہاٹی ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مناسب قانونی کارروائی کی ہدایت دی جائے، متاثرہ برادری کے وقار اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جائے، عوامی عہدے داروں کے لیے آئینی نظم و ضبط کو مضبوط کیا جائے اور سیکولر اقدار کی حفاظت کی جائے، جنہیں سپریم کورٹ آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ قرار دے چکی ہے۔
اکسوم ناگریک سنملن کے نمائندوں نے، جن کی جانب سے یہ خط پیش کیا گیا، امید ظاہر کی ہے کہ عدالت کی مداخلت سے نہ صرف آئینی توازن برقرار رہے گا بلکہ نفرت انگیز بیانات اور انتظامی تجاوز کو معمول بننے سے بھی روکا جا سکے گا۔
