آسام کے ’چار‘ علاقوں میں قومی مدارس سے متعلق بی جے پی کے دعوے، حقائق اور پس منظر
غالب شمس
آسام میں مدارس سے متعلق بحث ایک بار پھر سیاسی بیانات کے سبب سرخیوں میں آ گئی ہے۔ حکمراں جماعت بی جے پی نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست کے دریائی علاقوں، جنہیں مقامی طور پر ’چار‘ اور ’چاپوری‘ کہا جاتا ہے، وہاں خفیہ طور پر قومی مدارس قائم کیے جا رہے ہیں۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ان مدارس کے نصاب کا تعلق بیرونِ ملک، خاص طور پر بنگلہ دیش اور پاکستان میں موجود بعض تنظیموں سے جوڑا جا سکتا ہے۔
بی جے پی کے ریاستی ترجمان رنجیب کمار سرما نے گوہاٹی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ الزامات عائد کیے اور انہیں مذہبی بنیاد پر تشدد کے بعض تاریخی واقعات سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان بیانات میں 1983 کے آسام مخالف تحریک کے دوران پیش آنے والے واقعات اور حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش میں ہونے والے ایک قتل کا حوالہ دیا گیا۔
تاہم، یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب آسام میں مدارس کی حقیقی صورتحال اس سے کہیں مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ سرکاری ریکارڈ اور زمینی رپورٹنگ کے مطابق آسام میں اس وقت کوئی سرکاری مدرسہ باقی نہیں رہا۔ 2020 کے بعد ریاست کے تمام 1281 سرکاری مدارس کو عام اسکولوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جو مدارس آج موجود ہیں، وہ مکمل طور پر غیر سرکاری اور عوامی چندے سے چلنے والے قومی مدارس ہیں، جن کا نظم و نسق مقامی مسلم برادری کے ہاتھ میں ہے۔
روایت ڈاٹ کام کی زمینی تحقیق اور مدرسہ تنظیموں کے ذمہ داران سے گفتگو کے مطابق آسام میں تقریباً تین ہزار کے قریب غیر سرکاری مدارس کام کر رہے ہیں، جو مختلف مسالک اور تعلیمی بورڈز سے وابستہ ہیں۔ ان مدارس کا دائرہ اختیار ریاستی حکومت کے تحت نہیں، البتہ عام تعلیمی قوانین اور بعض انتظامی ضوابط ان پر لاگو ہوتے ہیں۔
قومی مدارس سے متعلق بی جے پی کے تازہ دعووں پر مدرسہ تنظیموں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات مدارس کو اجتماعی طور پر مشتبہ بنانے کی کوشش ہیں، جبکہ ان الزامات کے حق میں نہ تو کوئی سرکاری رپورٹ سامنے آئی ہے اور نہ ہی نصاب یا انتظامی ڈھانچے سے متعلق کوئی مستند ثبوت پیش کیا گیا ہے۔
آسام میں گزشتہ برسوں کے دوران مدرسوں اور مساجد پر ہونے والی انہدامی کارروائیوں، بے دخلی مہم اور تعلیمی اداروں کی تبدیلی کے پس منظر میں یہ بیانات ایک بار پھر ریاست میں مسلمانوں کے تعلیمی و مذہبی اداروں کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مدارس سے متعلق ہر بحث کو سکیورٹی یا بیرونی تعلقات کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے، زمینی حقائق، آئینی حقوق اور تعلیمی ضروریات کے تناظر میں پرکھنا چاہیے۔
واضح رہے کہ قومی مدارس ہندوستان کے مختلف حصوں میں دہائیوں سے قائم ہیں اور ان کا بنیادی مقصد دینی تعلیم کے ساتھ بنیادی عصری تعلیم فراہم کرنا رہا ہے۔ آسام میں بھی ان مدارس کی اکثریت مقامی سطح پر کام کر رہی ہے اور اب تک کسی سرکاری جانچ میں ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کا الزام ثابت نہیں ہو سکا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، آسام میں مدارس سے متعلق اس بیانیہ کو صرف تعلیمی بحث سے جوڑ کر دیکھنا مناسب نہیں ، بلکہ یہ شناخت، سیاست اور ریاستی پالیسی کے بیچ ایک حساس مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس میں ذمہ دار صحافت اور مستند معلومات کی اشد ضرورت ہے۔
