اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی ایکٹ پر ہائی کورٹ میں سماعت
(روایت ڈاٹ کام) نینی تال (7 جنوری):
کل 6 جنوری 2026 کو Uttarakhand High Court میں اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی ایکٹ 2025 کے خلاف دائر رِٹ پٹیشن پر سماعت ہوئی۔ یہ مقدمہ تحفظِ مدارس کے تحت دائر کیا گیا ہے، جس میں مدارسِ اسلامیہ کی خودمختاری، قیام و انتظام کی آئینی آزادی اور دینی تعلیم میں سرکاری مداخلت کو چیلنج کیا گیا ہے۔
یہ معاملہ رِٹ پٹیشن (MB) نمبر 1083/2025 کے ساتھ منسلک ہے اور چیف جسٹس اور جسٹس سبھاش اپادھیائے پر مشتمل بنچ کے سامنے پیش ہوا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے ایم آر شمشاد، سینئر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف انڈیا، عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ دیگر وکلاء بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
سماعت کے دوران ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد نے عدالت کے سامنے مؤقف رکھا کہ مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد مسلمان بچوں کو دینی تعلیم دینا ہے، جس میں قرآن، حدیث، سیرت، فقہ اور تفسیر جیسے مضامین شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی خالص دینی تعلیم کے لیے اتراکھنڈ تعلیمی بورڈ سے منظوری حاصل کرنا آئینی طور پر لازم نہیں، کیونکہ تعلیمی بورڈ کا دائرہ اختیار عصری علوم اور ان اداروں تک محدود ہے جو سرکاری نصاب کے تحت تعلیم دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتی تعلیمی ایکٹ کے ذریعے مدارس کو سرکاری بورڈ کی منظوری اور نصاب کا پابند بنانا، آئین کے تحت دی گئی اقلیتی تعلیمی آزادی کے منافی ہے، اور حکومت کو دینی تعلیم کے نظام میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں۔
دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس نے زبانی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں یہ مؤقف قابلِ غور ہے کہ مدارس کو تعلیمی بورڈ سے منظوری کا پابند بنانا اور سرکاری نصاب نافذ کرنا، ان کی آئینی خودمختاری کے خلاف ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد عدالت نے ریاستی حکومت اور متعلقہ تعلیمی اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔
بنچ نے مقدمے کی مزید سماعت کے لیے 11 فروری 2026 کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
اہلِ مدارس کا کہنا ہے کہ اتراکھنڈ میں گزشتہ مہینوں کے دوران 217 مدارس سیل کیے جا چکے ہیں، اور اب اقلیتی تعلیمی ایکٹ کے ذریعے مدارس کے وجود کو قانونی طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پہلے عملی کارروائیوں کے ذریعے مدارس کو نشانہ بنایا گیا اور اب قانون سازی کے ذریعے اسی عمل کو مستقل شکل دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔
جس انداز میں مدارس کے الحاق کی درخواستیں برسوں سے التوا میں ہیں، سائنسی تعلیم کی تنخواہیں بند ہیں، اور تسلیم شدہ ادارے بھی انتقامی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں ۔ یہ زمین و تجاوزات سے زیادہ اقلیتی برادری کو بتدریج حاشیے پر دھکیلنے کی ایک گہری اور منظم مہم کی علامت بنتا جا رہا ہے۔
