امام دارالہجرہ: زندگی کے تابندہ نقوش
تحریر: حمیرا اشرف
حجاز کی مسندِ علمی کے صدر نشیں حضرت امام مالک بن انسؒ روایت و درایت کے امام، فقیہِ متبوع، محدث اور مجتہد تھے۔ دارالہجرہ مدینۂ طیبہ میں فقہ و فتویٰ میں آپ ہی کا قول معتبر سمجھا جاتا تھا۔ لوگ آپ کی رائے پر اعتماد کرتے اور دینی معاملات میں آپ کو مرجع مانتے تھے۔ اسی بنا پر آپ امام دارالہجرہ کے لقب سے مشہور ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے بعض اکابر کو بیک وقت حدیث اور فقہ دونوں نعمتوں سے نوازا۔ امام مالک انہی میں سے تھے۔ وہ بلند پایہ محدث بھی تھے اور دقیق النظر فقیہ بھی۔ دراصل اجتہاد اور تفقہ حدیث میں کامل مہارت کے بغیر ممکن نہیں، اسی لیے ائمۂ مجتہدین روایت و درایت دونوں کے جامع تھے۔
امام مالک نے قرآن و حدیث سے عطا کردہ فہم و تفقہ کے ذریعے اصول اور جزئیات مستنبط کیے اور فروعی مسائل کی راہیں ہموار کیں۔ یہ اوصاف متقدمین میں بھی کم ہی پائے جاتے تھے۔ ان کی زندگی تقویٰ سے عبارت تھی اور ان کی پرورش سنت اور شریعت کے سائے میں ہوئی تھی۔
دین اور سنت کی حفاظت، نشر و اشاعت علومِ نبوی کے حامل انہی رجالِ حق کے ذریعے ہوتی رہی۔ ان کی عملی زندگی نے دین کی کیفیات اور صفات کو محفوظ رکھا اور آگے منتقل کیا۔ اس میں اسلاف کی صحبت اور ان کی ہم نشینیوں کا بنیادی کردار رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی سنتِ نبوی اسی طرح زندہ ہے جیسے قرنِ اول میں تھی۔
ولادت اور نام و نسب
امام مالکؒ کی ولادت 93 ہجری میں ہوئی۔ آپ کی کنیت ابو عبداللہ تھی، نام مالک، والد کا نام انس اور دادا کا نام مالک تھا۔ آپ کا نسب یمن کے مشہور قبیلہ حِمْیَر سے جا ملتا ہے، جس کا تعلق یعرب بن قحطان سے بتایا جاتا ہے۔
تعلیم و تربیت
جب امام مالک نے آنکھ کھولی تو اپنے گھر کو علمِ حدیث سے معمور پایا۔ آپ کے دادا، چچا اور والد سب محدث تھے۔ ابتدائی طور پر آپ نے قرآن مجید حفظ کیا۔
آپ کے شیوخ و اساتذہ کی تعداد نو سو کے قریب بتائی جاتی ہے، جن میں تین سو تابعین اور چھ سو تبع تابعین شامل تھے۔ علمِ قراءت آپ نے حضرت نافع بن عبدالرحمن مدنی سے حاصل کیا، جن کی قراءت آج بھی عالمِ اسلام میں رائج ہے۔
حدیث میں آپ کے اولین اساتذہ میں نافع مولیٰ ابن عمر اور عبدالرحمن بن ہرمز الاعرج شامل ہیں۔ فقہ میں آپ نے متعدد اساتذہ سے استفادہ کیا، خاص طور پر امام ربیعۃ الرائے سے، جن سے آپ نے فقہی بصیرت حاصل کی۔
آپ کی والدہ آپ کو پہلے ادب سیکھنے اور پھر علم حاصل کرنے کی تلقین کیا کرتی تھیں۔ طلبِ علم کے دوران غربت اس حد تک پہنچ گئی کہ آپ کو اپنے گھر کی چھت کی لکڑیاں تک فروخت کرنا پڑیں، مگر اس تنگی کے باوجود آپ نے علم کا دامن نہ چھوڑا۔ یہی محنت اور استقامت بالآخر امامت کے اعلیٰ مقام تک لے گئی۔
مجلسِ درس اور عظمتِ حدیث
امام مالک کی مجلسِ درس مسجدِ نبوی کے روضۂ جنت اور وادیِ عقیق کے مقام جُرف میں منعقد ہوتی تھی، جہاں آپ کا ذاتی مکان بھی تھا۔ یہ درسگاہ مدینہ کے فقہاء سبعہ کی علمی روایت کی امین تھی۔
حدیث بیان کرنے سے پہلے آپ وضو فرماتے، مسند پر بیٹھتے، داڑھی میں کنگھی کرتے اور پورے وقار کے ساتھ درس دیتے۔ آپ فرماتے تھے کہ میں حدیثِ رسول ﷺ کی تعظیم کے لیے طہارت کے بغیر حدیث بیان نہیں کرتا۔ راستے میں کھڑے ہو کر یا عجلت میں حدیث بیان کرنا بھی آپ کو پسند نہ تھا۔
درسِ حدیث میں آواز بلند کرنا آپ کے نزدیک ناپسندیدہ بلکہ حرام تھا۔ آپ اس کی دلیل قرآنِ کریم کی آیت سے دیتے اور فرماتے کہ حدیثِ رسول کے پاس آواز بلند کرنا گویا نبی کریم ﷺ کے سامنے آواز بلند کرنے کے مترادف ہے۔ اس عظمت و ادب کی چھاپ آپ کے شاگردوں پر بھی نمایاں نظر آتی تھی۔
استغنا اور وقار
امام مالک کے وقار اور خودداری کی مثالیں مشہور ہیں۔ خلیفہ ہارون رشید نے آپ سے حدیث سننے کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے فرمایا کہ علم کی تعظیم یہ ہے کہ اس کے اہل کے پاس آکر حاصل کیا جائے۔ ہارون رشید خود حاضر ہوا اور آپ کے سامنے شاگردانہ انداز میں بیٹھا۔ بعد میں اس نے اعتراف کیا کہ ہم نے آپ کے علم کے لیے تواضع کی اور اسی سے فائدہ اٹھایا۔
مدینۂ منورہ سے محبت
امام مالک کو مدینۂ رسول ﷺ سے بے پناہ محبت تھی۔ حج کے علاوہ کبھی مدینہ سے باہر نہ گئے۔ جب خلیفہ مہدی نے بغداد آنے کی دعوت دی تو آپ نے حدیثِ نبوی پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوں۔
تلامذہ
امام مالک کے شاگردوں میں امام لیث بن سعد، امام عبداللہ بن مبارک، امام شافعی اور امام محمد جیسے جلیل القدر نام شامل ہیں۔ امام مالک سے روایت کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ بعد کے علماء نے حروفِ تہجی کے اعتبار سے ان کے اسماء جمع کیے تو تعداد تیرہ سو سے زائد نکلی۔
تصانیف
امام مالک کی تصانیف کی تعداد پندرہ بتائی جاتی ہے، جن میں درج ذیل کتابیں شامل ہیں:
امام مالک کی تصانیف کی تعداد پندرہ بتائی جاتی ہے، جن میں:
(1) موطا امام مالک، (2) رسالہ فی القدر، (3) کتاب النجوم و منازل القمر، (4) رسالہ فی الاقضیہ، (5) رسالہ مالک الی ابی غسان محمد بن مطرف، (6) رسالہ آداب الی الرشید، (7) جزء فی التفسیر، (8) کتاب السر، (9) رسالہ الی اللیث فی اجماع اہل المدینہ، (10) احکام القرآن، (11) المدونۃ الکبری، (12) کتاب المناسک، (13) تفسیر غریب القرآن، (14) کتاب المجالسات عن مالک، (15) کتاب المسائل شامل ہیں۔

ان تمام تصانیف میں موطا امام مالک کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ فقہی ترتیب پر مدون حدیث کا عظیم ذخیرہ ہے۔ امام مالک نے اسے مرتب کرنے کے بعد ستر علماء کے سامنے پیش کیا، سب نے اس کی موافقت کی، اسی بنا پر اس کا نام “موطا” رکھا گیا۔ امام شافعی نے اسے اپنے دور میں قرآن کے بعد سب سے صحیح کتاب قرار دیا۔
فتویٰ دینے میں احتیاط
امام مالک فتویٰ دینے میں انتہائی محتاط تھے۔ خود بیان کرتے تھے کہ ستر علماء کی گواہی کے بعد ہی میں نے فتویٰ دینا شروع کیا۔ اگر کسی مسئلے میں علم نہ ہوتا تو بلا تردد “لا أدری” کہہ دیتے۔ آپ کے نزدیک یہ جملہ عالم کے لیے ڈھال ہے، اس سے غفلت مصیبت کا سبب بنتی ہے۔
فضائل و مناقب
نبی کریم ﷺ کی ایک روایت میں عالمِ مدینہ کی فضیلت بیان ہوئی، جس کے مصداق اکابر علماء نے امام مالک کو قرار دیا۔ امام ابو حنیفہ نے آپ کی فقہی بصیرت کی تعریف کی۔ علامہ ذہبی کے مطابق تابعین کے بعد مدینہ میں علم، فقہ، جلالتِ شان اور قوتِ حفظ میں امام مالک جیسا کوئی نہ تھا۔ امام شافعی فرماتے تھے کہ امام مالک تابعین کے بعد اللہ کی حجت تھے۔
فقہِ مالکی کی بنیاد اور نشونما
فقہِ مالکی کی بنیاد عملِ اہلِ مدینہ پر ہے۔ امام مالک کے نزدیک مدینہ کے مسلمانوں کا اجتماعی عمل سنتِ نبوی کا تسلسل ہے۔ اسی اصول پر ان کے فقہ و فتاوی قائم ہیں۔
فقہِ مالکی کی تدوین اور اشاعت میں متعدد علماء نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ مسلک مغرب، اندلس اور افریقی ممالک میں خاص طور پر رائج ہوا۔ امام مالک کے شاگرد ابن القاسم نے اس فقہ کو تفصیل کے ساتھ نقل کیا اور انہی کی روایت کو زیادہ معتبر سمجھا گیا۔
بعد کے ادوار میں ابن عبدالبر اور قاضی عیاض جیسے اکابر نے فقہِ مالکی کو دوسرے فقہی دبستانوں کے سامنے متعارف کرایا اور اس کی مضبوط علمی بنیاد فراہم کی۔
فقہِ مالکی کے اصولِ استنباط
فقہِ مالکی میں سب سے پہلے حدیث ـ خواہ متصل ہو یا مرسل—کو اہمیت حاصل ہے۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ کے فیصلے، پھر حضرت ابن عمرؓ اور دیگر مدنی صحابہ کے فتاوی، اور اس کے بعد مدینہ کے مشہور فقہاء کے اقوال کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔
فقہائے مالکیہ کے نزدیک شریعت کے تمام احکام انسانی مصالح پر مبنی ہیں۔ اوامر کا تعلق غالب یا خالص مصلحت سے اور نواہی کا تعلق غالب یا خالص مفسدت سے ہے۔ ثواب میں زیادتی اور کمی بھی انہی مصالح کے تناسب سے ہوتی ہے۔
ارشادات
امام مالک فرمایا کرتے تھے کہ علم کثرتِ روایت کا نام نہیں بلکہ ایک نور ہے جو اللہ تعالیٰ دل میں ڈال دیتا ہے۔ طالبِ علم کو وقار، سکون اور خشیت کے ساتھ رہنا چاہیے۔ سفید لباس پہننے کو پسند کرتے اور علم کے ساتھ ادب کو لازم قرار دیتے تھے۔
آخری قول اور تدفین
بیماری کے آخری ایام میں امام مالک کی زبان پر تشہد اور یہ آیت جاری تھی کہ اختیار پہلے بھی اللہ ہی کا ہے اور بعد میں بھی۔ 179 ہجری میں آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ رحمہ اللہ تعالیٰ
