تصویر بشکریہ: سوشل میڈیا
اندور / نئی دہلی (روایت نیوز ڈیسک)
مدھیہ پردیش کے اندور میں واقع انٹرنیشنل اسکول آف بامبے میں ہندو اور مسلم طلبہ کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ خجرانہ کے مسلم اکثریتی علاقے میں قائم اس اسکول پر الزام ہے کہ یہاں مذہبی بنیاد پر طلبہ کو الگ رکھا جا رہا ہے اور اسی سوچ کے تحت حال ہی میں دو الگ سالانہ تقریبات منعقد کی گئیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تعلیمی فضا میں تقسیم کو ہوا دیتا ہے اور ہندو مسلم ہم آہنگی کے خلاف پیغام دیتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق 2 فروری 2026 کو مسلم طلبہ کے لیے الگ سالانہ تقریب منعقد کی گئی، جبکہ 3 فروری کو غیر مسلم، زیادہ تر ہندو طلبہ کے لیے دوسری تقریب ہوئی۔ مسلم والدین کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے سے یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ تقریب صرف ان کے بچوں تک محدود ہوگی۔ ان کے مطابق پہلی تقریب مختصر تھی، کوئی مہمانِ خصوصی موجود نہیں تھا اور عملہ بھی محدود تھا۔ ہال کی نشستیں بڑی حد تک خالی رہیں۔ اس کے برعکس اگلے روز ہونے والی تقریب زیادہ منظم، طویل اور پررونق تھی۔ اس میں مہمانِ خصوصی شریک ہوئے، مکمل عملہ موجود تھا اور والدین کے لیے بہتر انتظامات کیے گئے۔
کئی والدین نے الزام لگایا کہ بعض مواقع پر برقعہ، عبایا یا ٹوپی پہنے افراد کو تقریب کے مقام پر داخل ہونے سے روکا گیا۔ اسکول انتظامیہ نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
معاملہ صرف سالانہ تقریب تک محدود نہیں۔ متعدد والدین کا دعویٰ ہے کہ مسلم طلبہ کو مخصوص ’’ایم سیکشن‘‘ میں رکھا جاتا ہے۔ ایک استاد نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ وہ چھٹی اور ساتویں جماعت کے ’’ایم‘‘ سیکشن پڑھاتی ہیں۔ اگرچہ انتظامیہ اسے تعلیمی تقسیم قرار دیتی ہے، مگر والدین کے مطابق یہ دراصل مذہبی بنیاد پر درجہ بندی ہے۔
سید قاسم علی، جن کے بھتیجے اسی اسکول میں پڑھتے ہیں، نے وزیر اعلیٰ ہیلپ لائن پر شکایت درج کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس اسکول کی سالانہ میگزین میں مسلم طلبہ کے صرف پہلے نام شائع کیے گئے، جبکہ غیر مسلم طلبہ کے مکمل نام درج تھے۔ شدید اعتراض کے بعد انتظامیہ کو اس میں تبدیلی کرنی پڑی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ فیس کی وصولی کے دوران بدسلوکی کی گئی اور بچوں کے ذہنوں میں فرقہ وارانہ خیالات نرم انداز میں داخل کیے جا رہے ہیں۔
مسلم والدین کے مطابق 2 فروری کی تقریب اندور کے رویندر ناٹیہ گراہ میں ہوئی اور تقریباً دو گھنٹے میں ختم ہو گئی۔ کئی بچوں کو اپنی پیشکش کی تیاری خود کرنے کو کہا گیا۔ اس کے برعکس 3 فروری کی تقریب تین سے چار گھنٹے جاری رہی اور اسے مکمل رہنمائی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔
مقامی کانگریس کونسلر روبینہ خان نے اسکول انتظامیہ سے ملاقات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال میں تبدیلی نہ آئی تو وہ معاملہ ریاستی حکومت کے سامنے اٹھائیں گی۔ انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں۔
دوسری جانب اسکول کے ایڈمیشن آفیسر جوائے جوزف نے وضاحت کی ہے کہ 3 فروری کو شبِ برات کے پیش نظر مسلم طلبہ کی تقریب ایک دن پہلے رکھی گئی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ سہولت کے لیے کیا گیا اور اس میں امتیاز کا کوئی پہلو نہیں۔ تاہم والدین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی مذہبی تہوار مدنظر تھا تو تاریخ مشترکہ طور پر بدلی جا سکتی تھی، نہ کہ طلبہ کو مذہب کی بنیاد پر الگ کر کے الگ الگ تقریبات منعقد کی جاتیں۔
تاحال اس معاملے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی اور نہ ہی عدالت میں کوئی مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ مگر اس واقعے نے یہ سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ کیا تعلیمی ادارے سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کا کردار ادا کریں گے یا مذہبی بنیاد پر تقسیم کو معمول بنانے کی راہ ہموار کریں گے۔
